سٹوڈنٹ سوسائیٹی یا یونین؟

    October 19, 2019 3:43 pm PST
taleemizavia single page

شبیر حُسین لدھڑ

پاکستان کی جامعات میں 80 کی دہائی میں طلباء یونین پر پابندی کے بعد جامعات میں فرقہ ورانہ، قوم پرست اور مزہبی فسادات نے سر اٹھانا شروع کیا جو اب تک جاری ہےاور اب تک یہ فسادات ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ملک کی بڑی جامعات میں اب تک مزہبی اور فرقہ ورانہ فسادات میں کئ طلبہ کی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔

طلباء یونین پر پابندی کے بعد اگلا دارومدار طلبہ سوسائٹیز پر آگیا جو کہ جامعات میں ڈیپارٹمینٹل اور یونیورسٹی سطح پر پر موجود تھیں تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طلبہ سوسائٹیز کا غیرفعال ہونا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی سوسائٹیز کی جانب عدم توجہ سوسائٹیز کے بےجان ہونے میں اہم کردار ادا کررتی رہی ہے.

اگر پاکستان میں جامعات کے اعدادشمار کی طرف نظر ڈالی جائے تو اب تک ملک بھر میں منظور شدہ جامعات کی تعداد 206 ہے جن میں سے 124 جامعات کا تعلق سرکاری شعبہ سے ہے اور ان کے زیلی کیمپسز کی تعداد 79 ہے. جبکہ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کی تعداد 82 ہے کم و بیش ہر یونیورسٹی میں کیمپس کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز موجود ہوتی ہیں جن میں ڈرامہ ، میوزک ، میڈیا، آرٹس، شاعری سمیت ہر فن و ٹلینٹ کو نکالنے کی سوسائٹیز کام کررہی ہیں مگر ان سوسائٹیز کو اس طرح سے فعال نہیں کیا جاتا جس طرح کرنے کی ضرورت ہے۔

بیرون ملک دنیا کی بہترین جامعات میں طلبہ سوسائٹیز کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ طلبہ سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو معاوضہ اور وضائف بھی دیے جاتے ہیں، بدقسمتی سے ملک کی بڑی جامعات میں سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو بھگوڑے، نکمے یا ایسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے جس سے اُن طلبہ کو پڑھائ سے بھاگنے والا تصور کیا جائے۔

سوسائٹیز جامعات کا روشن چہرہ ہوتی ہیں جو کیمپس میں مثبت اور غیر نصابی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے کیمپس کے تمام طلبہ کو جوڑے رکھتی ہیں۔دراصل سوسائٹیز ہی کسی جامعہ کی بہترین ترجمان ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے اول تو جامعات میں سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو حقارت اور بےعزتی کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے دوئم اگر وہ کام کرنا چاہیں بھی تو کیمپس کی سطح پر سوسائٹیز کو درپیش فنڈنگ، سیاسی و مزہبی پُشت پناہی کے حامل طلبہ گروپ کی طرف سے پیدا کردہ مسائل اُن کے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

دراصل سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ اپنے اپنے فن کو بہترین طریقے سے پیش کرتے ہیں، جہاں وہ کیمپس سے باہر ہونے والے مقابلہ جات میں اپنی جامعہ کی نمائندگی کررہے ہوتے ہیں وہیں پر ان کی پروفیشنل کی ٹریننگ بھی ہورہی ہوتی ہے ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ جس بھی شعبے جانا چاہتے ہیں وہ دراصل اس کی ٹریننگ کررہے ہوتے ہیں۔ایسے طلبہ تھیٹر پلے، سنگیت کی دنیا، فن تقریر اور بڑی NGOs میں ملک و ملت کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں بلکہ سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ ہمیں باقی طلبہ سے منظم اور منفرد نظر آتے ہیں وہ بہترین انسان دوست ہوتے ہیں۔

سوسائٹیز کا غیر فعال ہوجانا جامعات میں نسل پرستی، جھگڑوں، اور فرقہ روانہ فسادات کو جنم دیتا ہے جبکہ سرگرم سوسائٹیز ایسے تمام واقعات کے سامنے اس لیے دیوار بن سکتی ہیں کیونکہ وہ کیمپس کے اندر اور باہر طلبہ کو اینگیج رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو سوسائٹیز کی ماں تصور کیا جاتا ہے جس میں ایسی بےشمار سوسائٹیز موجود ہیں جو طلبہ کی زہنی، فکری، علمی اور عملی پرورش کرتی ہیں ملک کے بڑے بڑے شاعر، ادیب ، لکھاری، سیاست دان، مقرر اور دانش ور اسی گورنمنٹ کالج کی سوسائٹیز میں کام کرکے گزرے ہیں.

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ سوسائٹیز کے لیے ایک مخصوص فنڈنگ رکھی جاتی ہے جس کے بعد طلباء اپنی مدد آپ کے تحت ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں۔ فنڈنگ کے مسائل کی وجہ سے بہت سی سوسائٹیز اپنے ایونٹس سے دستربردار ہوجاتی ہیں ان ایونٹس میں کھیل کے پروگرامز، تقاریری مقابلے، شاعری کے مقابلے، تھیٹر ڈرامہ ، سمیت سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد بھی شامل ہیں۔

جامعات کے وائس چانسلرز کو چاہیے کہ وہ طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے میں ہنگامی سفارشات مرتب کریں، سوسائٹیز کی فنڈنگز کو بڑھایا جائے اور سوسائٹیز و یونیورسٹی کے لیے بہترین کام کرنے والے طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈگری کے ساتھ اعزازی رول آف آنر سے بھی نوازا جائے اور ایسے طلبہ کو ایک حد تک کلاس میں حاضری سے استشنیٰ دی جائے ۔

دراصل موجودہ دور میں جامعات اور کیمپس کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز کا کردار بہت اہم ہوچکا ہے۔طلبہ سوسائٹیز کو مکمل طور پر آزادی سے کام کرنے دیا جائے اور ہر یونیورسٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افئیرز کے شعبے کو مضبوط کیا جائے۔ پاکستان میں جامعات کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز کو مضطوط کرنے کی آواز نہ کسی میڈیا چینل پر سنائی دیتی ہے اور نہ کسی بڑی میٹنگ میں اس کو ڈسکس کیا جاتا ہے.

حتیٰ کہ یہ ایک اہم مسلہ ہے جو طلبہ کے مستقبل اور جامعات میں طلبہ سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس وقت 52 پاکستانی جامعات پر مشتمل انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار دی پرموشن آف سوشل سائنسز کے پلیٹ فارم سے پاکستان بھر میں جامعات اور کیمپس میں طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے اور مختلف جامعات کی طلبہ سوسائٹیز کو ایک جگہ پر اکھٹے جمع کرکے اُن کے درمیان غیر نصابی سرگرمیوں کی مقابلہ بازی اور فیس ٹو فیس ڈائیلاگز کروانے کے عمل پر کام شروع ہے.


شبیر حسین لدھڑ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں اور وہ بطور سماجی کارکن کام کرتے ہیں.

  1. In my opinion students Union are better than department societies .
    It’s generate future leadership for the country in every Walk of the life .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *