صنعتی انقلاب کے رد عمل میں پیدا ہونے والے نظریات

    July 3, 2019 4:22 pm PST
taleemizavia single page

عبد الواحد

ہر انقلاب کے بعد سماجی ادارے انتشار کا شکار ہو تے نظر آتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں سٹم انجن کے ایجاد کے بعد جیسے ہی معیشت زراعت سے نکل کر صنعتی بنیادوں پر استوار ہوئی تو بڑے پیمانے پر دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت ہوئی۔ جب صنعتی انقلاب کے بعد اخلاقی گراوٹ، سماجی ٹوٹ پھوٹ، اور عدم استحکام نے معاشرے کو جکڑ لیا تو ایسے میں سوشیالوجی (عمرانیات) کی ضرورت بطورایک ڈسپلن محسوس کی گئی۔

ابتدا میں سوشیالوجی مذہب ،اخلاقیات اور یکجہتی جیسے موضوعات سے بحث کرتی رہی۔ ایمائل درخائم اور کامٹے اخلاقیات کے داعی بن کر کلاسیکل سوشیالوجی کے بانی قرار پائے۔ یہ دونوں صنعتی انقلاب کے بعد مقبول ہونے والےلبرلزم کے ناقدین میں سے تھے۔

رٹزر لکھتے ہیں کہ انقلاب اور درخائم کے بلوغت درمیان والے سو سال میں فرانس کو تین خاندانی بادشاہتوں، دو سلطنتوں اورتین جمہوری ادوار سے گزرنا پڑا۔ ان تمام ادوار کے دوران فرانس کیلئے 14 مختلف آئین وضع کئے گئے۔ درخائم سمجھتا تھا کہ اس سارے سیاسی اور سماجی عدم استحکام کی بنیادی وجہ اخلاقی گراوٹ ہے جس نے فرد کو نہ ختم ہونے والی بھوک اور نا ملنی والی تسکین کا غلام بنا دیا ہے۔ اس لئے آزادی کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ ان کو کہنا پڑا کہ “کہ انسان کی حقیقی آزادی کیلئے ضروری ہے کہ اس پر چند قیود نافذ کئے جائیں”۔

اس سے قطع نظر کہ صنعتی انقلاب کے ثمرات پر قابض سرمایہ دار کیلئے اخلاقی اقدارکتنی اہمیت کی حامل تھیں؟ اور اخلاقیات کی بحث سماجی مسائل کے حل کیلئے کتنی متعلقہ تھی؟ اس بات سے انکار نا ممکن ہے کہ سوشیالوجی کو بطور ایک سائنس اکیڈیمک حلقوں مقبول کروانے میں ڈرخائم اور کامٹے کی کاوشیں نا قابل فراموش ہیں۔

جب درخائم لبرل ازم (Liberalism) کے نتیجے میں پیدا ہونے والےاخلاقی بحران سے بحث کر رہے تھے۔ سماج مزید مسائل میں پھنستا جا رہا تھا۔ فیکٹریوں میں مزدوروں کی حالات زندگی جانوروں سے بھی بد تر ہو گئے تھے۔ جسم بیچنا ایک معمول بن چکا تھا۔ خاندان کا ادارہ مفلوج ہو چکا تھا۔غلام داری اپنے پچھلے تمام ریکارڈز توڑ چکی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ایک طبقہ ان شدید حالات میں بھی ترقی کر رہا تھا۔ اس طبقےکے بر خلاف ایک محنت کش طبقہ بمشکل بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔

انیسویں صدی کے وسط میں مارکس نے”سرمایہ” (Das Capital ) لکھ کر سوشل سائنس کو بلکل ایک نئے نقطہ نظرسے متعارف کروایا۔مارکس نے نہ صرف سوشیالوجی کو اخلاقیات کی بحث سے نکالا، بلکہ مشینی انقلاب کے بعد انسانوں کے نا گفتہ بہ حالات کو موضوع بحث بنایا۔ مارکس نے جدلیات، تاریخی مادیت، جدلیاتی مادیت سے بحث کرکے سوشیالوجی اور فلاسفی میں حائل وہ دیوار گرا دی جسے بنیاد بنا کر درخائم نے سوشیالوجی کی بنیاد رکھی تھی۔

مارکس نے کہا پیداواری رشتے ہی سماج کے باقی ماندہ رشتوں کا تعین کرتے ہیں۔ اور چونکہ سرمایہ ہی اس معیشت کا کرتا دھرتا ہے اس لئے سماج میں تفریق بھی اسی بنیاد پر موجود ہے۔ مارکس کے مطابق سرمایہ داری نظام ایک منظم طریقے سے کام کرتا ہے، جس میں منافع میں اضافہ کیلئے نا گزیر ہے کہ مزدور طبقے کا استحصال کیا جائے۔ مارکس یہ بھی اضافہ کرتا ہے کہ سرمایہ دارصرف معیشت پر ہی قابض نہیں بلکہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے سیاسی طاقت حاصل کرنا بھی اسکی ایک ناگزیر ضرورت ہے، اسلئے سرمایہ داری معاشی کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی نظام بھی ہے۔

مارکس نے سماج میں موجود عدم مساوات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کے ختم کرنے پر بھی بات کی۔ اور اس کیلئے اس نے ضروری قرار دیا کہ مظلوم طبقہ باطل شعور چھوڑ اپنے اندر طبقاتی شعور بیدار کریں اور بالا دست طبقے کے خلاف سیاسی انقلاب برپا کرکے سرمایہ داری کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں۔

1857ء میں ہربرٹ سپنسرجو کہ بنیادی طور بیالوجسٹ تھے، اپنی کتاب “ترقی: قوانین اور اس کے وجوہات” میں بیالوجیکل سوشیالوجی کو متعارف کراتے ہیں۔ سپنسر سمجھتے تھے کہ جس طرح کائنات ارتقاء سے گزر رہاہے، بعینہ سماج بھی اپنےارتقائی سفر میں ہے۔ سپنسر سوشل ڈارونزم کے پرجوش حمایتی تھے۔

سماج پر سروایئول آف د فٹیسٹ (Survival of the fittest) کا اطلاق کر کےسپنسر نے یہ باور کرایا کہ صرف وہ سماج ہی باقی رہ سکتا ہے جو کہ فٹ ہے اور ان فٹ قوم اور طبقہ کو فنا ہونا چاہئے۔ سپنسر کا خیال تھا کہ سماج مسلسل اپنے تکمیل کی جانب گامزن ہے، جو ایک قدرتی عمل ہے۔ اور اس قررتی عمل میں بیرونی مداخلت نہ صرف بے کار ہے بلکہ اگر کی گئی تومزید خرابی حالات کا سبب بھی بنے گا۔

سپینسر کے مطابق سماج سادہ اور عسکری سے پیچیدہ اور صنعتی کی جانب سفر کر رہا ہے۔ عسکری سماج وہ ہے جس کی تشکیل جنگجوانہ تھی۔ جنگی فتوحات کے ذریعے مختلف افراد کے مجموعے کو برقرار رکھا جاتا۔ اور سماجی ترقی کے منازل طے کئے جاتے۔ صنعتی سماج سے سپنسر کا مطلب موجودہ سماج ہے جسمیں سماجی تشکیل کیلئے مقابلے اور کامیا بی کو معیار مانا گیا۔ جبکہ سماج کو افراد کے رضاکارانہ سوشل کنٹریکٹ اور مشترک اخلاقیات کے ذریعے اکھٹا رکھا جاتا ہے نہ کہ ماضی کی طرح جنگ وجدل کے زریعے۔

سپنسر سرمایہ داری کو فطری نظام معیشت سمجھتا تھا۔ اورمعاشی سرگرمی میں ہر قسم کی ریاستی مداخلت کو غیر ضروری سمجھتا تھا اور یہی بات اسے مارکس کے بالکل مخالف کھڑا کر دیتا ہے۔ مارکس محنت کش و کمزور طبقے کی کمزوری کی وجہ سرمایہ داری نظام کے استحصال کو قرار دیتا ہے، جبکہ سپنسر حیرت انگیز طور پر کسی بھی کمزور قوم کی کمزوری کی وجہ خود کمزوروں کو قرار دیتا ہے، کیونکہ وہ فطرت کےارتقائی عمل میں ان فٹ ہیں۔ اور ان کیلئے ناگزیر ہے کہ اپنے زوال کو پا لیں۔

مارکس معاشی اور سماجی رشتوں کو بدلنا چاہتا ہے، جبکہ سپنسر کا خیال تھا سماج جو کہ اپنے ارتقائی عمل کے زریعے پرفیکشن کی طرف جا رہی ہے اور اس عمل کو چھیڑنا خطرناک ہے۔

سماجی ارتقاء کے نظریے کو بیسویں صدی کے ابتداء ہی میں زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جرمن سوشیالوجسٹ فردیناند ٹونیس جو کہ خود بھی نیو ایولوشنسٹ تھے، نے سپنسر کے دعووں کو رد کرتے ہوئےغیر سائنسی قرار دیا۔ ٹونیس، سپنسر کے “ارتقائی پرفیکشن” کو خیالی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ضروری نہیں سماج لازما پرفیکشن کی طرف جائے بلکہ یہ عمل الٹ بھی ہو سکتا ہے۔

ٹالکٹ پارسن، گرہارڈ لینسکی، لیسلی وائٹ نے ارتقا کے اپنے اپنے مختلف مراحل پیش کر کے سپینسر کے متروک شدہ سماجی ارتقاٰء کے نظریے میں نئی روح پھونکنے کی اپنی سی کوشیشیں کیں جو کہ تا حال جاری ہیں۔


لکھاری ایم فل سوشیالوجی کا طالب علم ہے.