حکومتی عدم دلچسپی، پشاور کے سکھ طلباء کیلئے کرائے کا سکول

  • March 4, 2018 1:21 pm PST
taleemizavia single page

ٹی این این رپورٹ

صوبائی دارالحکومت پشاور میں سِکھ برادری کے سکول کے لئے مستقل عمارت نہ ہونے کی وجہ بچے پریشانی کا شکار ہیں اور بچوں کا تعلیم اور مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔

پشاور میں 2013 میں رائزنگ ہوپ پبلک سکول کے نام سے سِکھ برادری کے لئے ادارہ قائم کیا گیا ہے جس میں 250 بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، جن میں سے 80 فیصد سِکھ برادری سے جبکہ 20 فیصد دیگر مذہبی اقلیتوں اور مسلمان گھرانوں سے ہیں۔

سکول کے ڈائریکٹر گورپال سنگھ کا کہنا ہے کہ 2013 میں رائزنگ ہوپ پبلک سکول کے نام سے کرائے کے چار مرلہ مکان میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس سکول کو چوتھی مرتبہ عمارت خالی کرنے کا نوٹس ملا ہے۔ پچھلے اڑھائی سال میں سکول کی عمارت تین بار تبدیل ہوچکی ہے کیونکہ سکول کی عمارت کرایہ پر ہونے کی وجہ سے کنٹریکٹ ری نیو نہیں ہو پاتی کیونکہ مالکان واپس دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

sikh school1

تقسیم سے قبل پشاور میں سِکھ برادری کے بچوں کے لیے خالصہ سکول کے نام سے چار اسکول کام کر رہے تھیں مگر آزادی کے بعد زیادہ تر سِکھوں کی دوسرے ملک مائیگریشن کی وجہ سے ان سکولوں کو سرکاری سکولز میں تبدیل کر دیا گیا جن میں سنہری مسجد کے قریب سلوان سکول اور کینٹ ون سکول قابل ذکر ہے۔

گورپال سنگھ کا مزید کہنا ہے کہ دہشت گردی اور ملک میں غیر یقینی صورت حال میں سِکھ بچوں کی اغواء کاری میں آئے دن اضافہ ہو رہا تھا جس کی وجہ سے یہ ادارہ قائم کیا گیا۔

sikh school2

انہوں نے کہا کہ سکول کی انتظامیہ حکومت سے امدادی رقم کی نہیں بلکہ کسی ایسی عمارت کا مطالبہ کرتی ہیں جسے بار بار خالی نہ کرنا پڑے اور وہ انکا مستقل عمارت ہو تاکہ بچوں کی پڑھائی بار بار خراب نہ ہو۔

سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں فیڈرل کے اوقاف ڈپارٹمنٹ کی زمین موجود ہے اور اس کے ساتھ بالکل پیوست لوکل گورنمنٹ کی بھی زمین ہے تو وہ ہمیں مستقل طور پر سکول عمارت کے لئے دیا جائے اگر یہ نہیں ہو سکتی تو حکومت کے لئے بلڈنگ بنانا کونسا مشکل کام ہے۔

sikh school3

یاد رہے کہ فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے بہت سارے اقیلتی برادری پشاور اور دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جن میں اورکزئی، خیبر اور کرم ایجنسی کے لوگ شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ منتقل شدہ خاندانوں کے زیادہ تر بچے اس ادارے میں پڑھتے ہیں جن کی ذہنی نشونما کے لئے اس سکول کا قیام انتہائی ضروری ہیں۔


بشکریہ ٹی این این ریڈیو پشاور

Leave a Reply

Your email address will not be published.