سیکنڈری سکولز میں “سیکس ایجوکیشن” لازمی کرنے کا مطالبہ

    views 567 March 3, 2017 4:14 pm PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

برطانیہ کے سیکنڈری سکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو لازمی قرار دینے کے معاملے کا تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

سیکس ایجوکیشن یا جنسی تعلیم کو مذہبی عقائد کے مطابق تمام نجی اور سرکاری سکولوں میں پڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب اراکین پارلیمنٹ نے یہ مدعا اُٹھایا ہے کہ 2000ء میں سیکس ایجوکیشن پر جو کتاب شائع کی گئی تھی اُسے اپ ڈیٹ کیا جائے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ان جماعتوں نے موقف اپنایا ہے کہ پورنوگرافی پر مشتمل فلموں تک رسائی آسان ہوگئی ہے جس کے باعث بالغ عمر کو پہنچنے والے بچوں کو جنسی مشکلات کا سامنا ہے جسے تعلیم کے ذریعے مخاطب کرنا ہوگا۔

سیکس ایجوکیشن سے متعلق یہ تجویز رکھی گئی ہے کہ لوکل اتھارٹی کے ماتحت چلنے والے سکولوں کے ساتھ اکیڈمیز، پرائیویٹ سکولز، مذہبی اور غیر مذہبی اداروں میں بھی سیکس سے متعلق موزوں ترین تعلیم دینے کا بندوبست کیا جائے۔

تاہم اس میں یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ اگر والدین اپنے بچوں کو سیکس ایجوکیشن دلوانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تو وہ اپنے بچوں کو کلاس لینے سے منع کر سکتے ہیں۔