سکول کے پہلے روز جرمن بچوں کو “کاغذی کون” دینے کی وجہ

    views 359 August 22, 2018 2:02 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: ڈی ڈبلیو

ایلیمنٹری اسکول کا آغاز جرمنی میں کسی فرد کی زندگی کا اہم دن تصور کیا جاتا ہے، بالکل گریجویشن یا شادی کی طرح۔ اس دن کے لیے والدین خاصے پیسے خرچ کر کے تحائف خریدتے ہیں، مگر ایک چیز لازم ہے، ’کاغذی کون‘۔

کون تحائف سے بھری ہوئی

اسکول کے پہلے دن کو جرمن زبان میں ’شُول ٹؤٹے‘ یا ’اسکول کا تھیلا‘ یا ’اسکول کون‘ کہلاتا ہے۔ اس دن کے بعد کسی بچے نے اگلے بارہ یا تیرہ برس تک روز اسکول جانا ہوتا ہے، اسی لیے اس کا آغاز ’میٹھے انداز‘ سے کیا جاتا ہے۔ جرمنی میں بچے کو اسکول کے پہلے دن ٹافیاں اور تحائف دینے کی رسم انیسویں صدی سے جاری ہے۔

اگست یا سمتبر میں اسکول کے آغاز کے وقت جرمنی میں زیادہ تر بچوں کی عمر چھ برس ہوتی ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس جرمن صوبے میں رہتے ہیں۔ ان بچوں میں سے اکثریت ایسی ہوتی ہے، جو پہلے ہی ڈے کیئر یا پری اسکول دیکھ چکے ہوتے ہیں، تاہم یہ مقامات باقاعدہ تعیلمی مراکز نہیں ہوتے۔ اسکول کی پہلی جماعت کسی بچے کے لیے ایک نئی دنیا ہوتی ہے۔

درست بستہ

اسکول کے پہلے دن سے قبل والدین ان پہلی جماعت کے بچوں کے لیے پشتی بستہ، جسے جرمن زبان میں ’شول رانسین‘ کہا جاتا ہے، خریدتے ہیں۔ یہ عموما مربع شکل کے ہوتے ہیں، تاکہ گھر سے دیا جانے والا کھانا دب نا جائے اور اندر موجود کاغذ ٹیڑھے میڑھے نہ ہو۔ بعد میں اسکول جانے والوں کے لیے شاید بستے سے زیادہ جینز کا برینڈ اہم ہو، مگر پہلی جماعت کے بچے کے مسائل مختلف ہوتے ہیں۔

بستہ خریدے کے بعد والدین کو بچوں کے لیے پین، پینسلیں، اسکیل اور فولڈر خریدنا ہوتے ہیں۔ جرمنی میں کم عمر بچوں کو اسکول میں دوپہر کا کھانا نہیں ملتا بلکہ وہاں صبح ڈھلنے پر اسنیکس وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، بعد میں وہ گھر یا ڈے کیئر جا کر تاخیر سے ظہرانہ کھاتے ہیں۔ والدین بچوں کو مختلف ڈبوں میں ’پاؤزن بروٹ‘ یا ’وقفے کی روٹی‘ دیتے ہیں۔

دنیا بھر ہی میں اسکول کے پہلے دن کے موقع پر بچوں کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ جرمنی میں روایت یہ ہے کہ یہ تصویر بچے کے ساتھ ’شول ٹوئٹے‘ یا ’تحائف والی کون‘ کو کھولنے سے قبل کی لی جاتی ہے۔ اس کون پر لکھا ہوتا ہے، ’میرا اسکول کا پہلا دن‘۔

جرمنی میں اسکول کے پہلے دن پڑھانا شروع نہیں کر دیا جاتا، بلکہ والدین، رشتہ دار، نانی نانا اور دادی دادا سبھی کو اسکول آنے کی دعوت دی جاتی ہے، جہاں بچوں کو خصوصی دعاؤں کے ساتھ تعلیم کے اس طویل سفر پر روانہ کیا جاتا ہے۔ بعض اسکول میں اس موقع پر کثیرالمذہبی دعائیہ تقریب بھی منعقد کی جاتی ہے۔

اسکول کے پہلے دن کی تقریب میں بڑے بچے اور اساتذہ مختلف پرفارمنسز اور دیگر وضاحتوں کے ساتھ نئے آنے والوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اسکول میں کیا کچھ کرنا ہے۔ بعض اسکولوں میں پہلی جماعت کے بچوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ تیسری یا چوتھی جماعت والے کسی بچے کو دوست بنائیں اور وہ بڑا بچہ پھر اپنے چھوٹے ساتھی کے ساتھ اپنا تجربہ بانٹتا ہے۔

اسکول کے پہلے دن ان بچوں کو ان کی جماعت کا کمرہ دکھایا جاتا ہے اور نئے جماعتوں کے باہر نئے بچوں کے لیے خوش آمدیدی کلمات لکھے ہوتے ہیں۔

اب جشن ختم ہو چکا ہے، کیک کھایا جا چکا ہے، تحائف کی کون کھل چکی ہے، پہلا دن گزر چکا ہے۔ دوسرے دن بچے اسکول پہنچتے ہیں، تو ان کے سامنے پہلا سبق منتظر ہوتا ہے۔ جرمنی میں ایلیمنٹری اسکول پہلی سے چوتھی جماعت تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد بچے سیکنڈری اسکول کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔ وہ کس اسکول میں جائیں گے؟ اس کا دارومدار ان کی تعلیمی قابلیت پر ہوتا ہے۔