پنجاب کے 4 ہزار 965 تعلیمی اداروں کو حساس قرار دے دیا گیا

  • March 13, 2018 4:21 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: عاصم قریشی

پنجاب کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی اے کیٹیگری میں شمولیت کی نئی فہرست جاری کر دی گئی ہے اس فہرست میں چار ہزار نو سو پینسٹھ تعلیمی اداروں کو سیکورٹی نقطء نظر سے حساس قرار دیا گیا ہے اور میں سے متعدد اداروں کی سیکورٹی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

متعلقہ حکام کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث صوبے میں اے کیٹیگری کے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

سیکورٹی آڈٹ آف ایجوکیشنل انسٹیٹیوشن آف اے کیٹیگری ان پنجاب کے نام سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق لاہور میں 129، شیخوپورہ میں 490، گجرانوالہ میں 1028، راولپنڈی میں 476، فیصل آباد میں 491، سرگودھا میں 458، ساہیوال میں 415، ملتان میں 713، ڈیرہ غازی خان میں 451 اور بہاولپور میں 314 تعلیمی اداروں کو سیکورٹی نقطء نظر سے اے کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔

سیکورٹی اداروں نے گجرانوالہ اور ملتان کے تعلیمی اداروں کو سب سے زیادہ حساس قرار دیا ہے۔

ان تعلیمی اداروں کی موجودہ سیکورٹی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے مطابق 112 تعلیمی اداروں کی چار دیواری نہیں ہے اس میں سے ساہیوال ریجن میں 78، بہاولپور ریجن میں 16، سرگودھا ریجن میں 7، شیخوپورہ ریجن میں چار اور تین تعلیمی ادارے ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں ہیں جہاں چار دیواری نہیں ہے۔

جن تعلیمی اداروں کی چار دیواری پر ریزر وائرز نہیں ہے ان کی تعداد 51 جبکہ چھ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن کے اکیڈمک بلاک کے گرد چار دیواری نہیں بنائی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 74 تعلیمی اداروں کی چار دیواری انتہائی کمزور ہے جسے دوبارہ سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

دس تعلیمی اداروں میں سیکورٹی گارڈز موجود ہی نہیں ہیں جبکہ 25 تعلیمی اداروں کے گارڈز کے پاس اسلحہ نا قابل استعمال ہے اور 12 تعلیمی اداروں کے سیکورٹی گارڈز عمر رسیدہ ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق 232 تعلیمی اداروں کے سیکورٹی گارڈز نے کوئی باضابطہ ٹریننگ حاصل نہیں کی۔ اسی طرح 2 ہزار 733 تعلیمی اداروں کے گارڈز کی کلیئریفیکیشن پولیس کے ذیلی محکمہ سپیشل برانچ سے حاصل نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق باون تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز میں نائٹ ویژن سی سی ٹی وی کیمرے انسٹال نہیں ہیں، اسی طرح چار ہزار 355 تعلیمی اداروں میں واک تھرو گیٹس ہی موجود نہیں ہے جو کہ اے کیٹیگری کے 86 فیصد تعلیمی ادارے ہیں۔

اسی طرح اے کیٹیگری کے تعلیمی اداروں کے 97 فیصد اداروں میں سیکورٹی سکینرز موجود نہیں ہیں جن کی تعداد چار ہزار 942 بنتی ہے۔

تعلیمی اداروں کے داخلی راستوں پر بھی سیکورٹی کے ناقص انتظامات بتائے گئے ہیں، ایک ہزار پانچ سو سترہ تعلیمی اداروں میں بنکرز موجود نہیں ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق بیالیس فیصد تعلیمی اداروں میں آرمڈ سیکورٹی گارڈز تعینات نہیں ہیں ان اداروں کی تعداد دو ہزار 146 ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین ہزار 354 تعلیمی اداروں میں وائر لیس کیمونیکیشن کا نظام موجود نہیں ہے جس میں گجرانوالہ ریجن کے 1026، ملتان ریجن کے 713، ساہیوال ریجن کے 415، فیصل آباد ریجن کے 391، شیخوپورہ ریجن کے 315، بہاولپور ریجن کے 236، ڈیرہ غازی خان ریجن کے 223 اور لاہور ریجن میں 35 تعلیمی اداروں میں وائر لیس کیمونیکیشن کا نظام موجود نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے کیٹیگری کے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ سپیشل برانچ نے یہ رپورٹ چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری داخلہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکرٹری کو ارسال کر دی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.