اسلام آباد میں مدارس کی تعداد سکولوں سے بڑھ گئی

  • March 18, 2017 9:42 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: اسلام آباد میں نئے سکولوں کی تعمیر گزشتہ چار سالوں میں نہیں کی گئی تاہم وفاقی دار الحکومت میں مدارس کی تعداد چار سالوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اسلام آباد میں اس وقت مدارس کی تعداد 374 تک پہنچ گئی ہے ان مدارس میں ایسے بھی ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول ہی نہیں ہے اور یہ مدارس رجسٹریشن کے بغیر چلائے جارہے ہیں۔

اسلام آباد میں اس وقت مدارس کے مقابلے پر سکولوں کی تعداد 348 ہے جبکہ انٹرمیڈیٹ اداروں کی تعداد 43 ہے جنہیں حکومت کے تحت چلایا جارہا ہے۔

دار الحکومت میں بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں سکول تو موجود نہیں ہے البتہ وہاں مدارس ضرور کام کر رہے ہیں فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے نئے سکولوں کی تعمیر کے لیے کوئی منصوبہ ہی پیش نہیں کیا گیا۔ جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 2013 سے اب تک کئی نئے مدارس قائم ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد میں 4 مکاتب فکر مدارس چلارہے ہیں، جن میں دیوبند مکتبہ فکر سرفہرست ہے، اس کے ساتھ بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع مکتبہ فکر کے مدارس بھی قائم ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان 374 مدارس میں 25 ہزار سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے 12ہزار اسلام آباد جبکہ باقی طالب علم دوسرے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اب مدارس کا تفصیلی سروے بھی کیا جارہا ہے جو دو مراحل میں مکمل ہوگا۔

پہلے مرحلے میں مدارس کی قانونی حیثیت کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں کہ کتنے مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ کون سے مدارس رجسٹریشن کے بغیر قائم ہیں۔ دوسرے مرحلے میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) ان مدارس کی تعمیرات کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کا تعین کرے گی اور سی ڈی اے ان مدارس کی زمین کا رقبہ، تعمیراتی پلان اور اس کی خلاف ورزی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے کا کام اختتام پر ہے، یہ بتایا گیا ہے کہ اس سروے کا مقصد 1980 سے جاری ان غیر قانونی مدارس میں اضافے کو روکنا ہے جو کہ زیادہ تر وفاقی دار الحکومت کے پسماندہ علاقے میں ہیں۔

اسلام آباد میں حکومت کا وزیر اعظم تعلیمی نظرثانی پروگرام عدم توجہ کا شکار ہے جبکہ اسلام آباد میں نئے اسکول کھولنے پر کوئی توجہ نہیں ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.