پاکستان میں 3 ہزار افغان طلباء کی سکالر شپ کا 7 ارب کا منصوبہ

  • February 28, 2018 11:53 am PST
taleemizavia single page

اسلام آباد

حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے تین ہزار طلباء کی پاکستان میں مفت تعلیم کے منصوبے کا فیز ٹو شروع ہوگیا ہے۔ اس فیز میں پاکستان کی سرکاری و نیم سرکاری یونیورسٹیز میں تین ہزار افغان طلباء کو سکالر شپ پر تعلیم دی جائے گی۔

افغان طلباء کے سکالر شپ کے لیے 7 ارب 36 کروڑ 47 لاکھ 35 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، اس سکالر شپ کی مد سے افغان طلباء کو مفت تعلیم، ہاسٹلز، کتابیں، سیکورٹی اور مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔

ان طلباء کو پاکستان بھر کی جامعات میں انجینئرنگ، میڈیکل، بزنس ایڈمنسٹریشن اور جنرل ایجوکیشن کی ڈگریوں میں داخل کیا جائے گا۔

افغان طلباء کے لیے سکالر شپ سکیم فیز ٹو کا منصوبہ، تین ہزار افغان طلباء کو یونیورسٹیز میں انجینئرنگ، میڈیکل اور جنرل ایجوکیشن کی مفت تعلیم اور رہائش دی جائے۔

اس منصوبے کی نگرانی ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی جانب سے کی جارہی ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ سو طلباء کو ایم بی بی ایس، 100 طلباء کو بی ڈی ایس، 600 طلباء کو انجینئرنگ میں داخلے دیے جائیں گے۔

آرٹس اور سوشل سائنسز کے مضامین میں ایک ہزار 200 افغان طلباء کو سکالر شپ پر داخلے ملیں گے۔ چار سو طلباء کو ایم فل اور 200 طلباء کو پی ایچ ڈی لیول کے سکالر شپس دیے جائیں گے۔

مارچ کے آخری ہفتے تک ایک ہزار افغان طلباء پاکستان آ جائیں گے جبکہ دو سو چھیانوے طلباء اس وقت پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

افغان طلباء کے لیے یونیورسٹیز میں خصوصی زیرو پیریڈز کا بھی انعقاد ہوگا تاکہ ان طلباء کو سمیسٹر سسٹم سے متعلق ضوابط سے آگاہ کیا جا سکے ان پیریڈز میں ان طلباء کو انگریزی زبان سے متعلق بھی لیکچر دیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے ساتھ ہی ایک سو بیس افغان آفیشلز کو اس پراجیکٹ سے متعلق بھی تین ہفتوں کی ٹریننگ دی جائے گی۔

خیال رہے کہ افغان طلباء کو پاکستان میں مفت تعلیم فراہم کرنے کے منصوبے کا فیز ون دو ہزار پندرہ میں شروع کیا گیا تھا اور تین سال بعد اب فیز ٹو کا آغاز کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.