سعودی عرب کی سرکاری یونیورسٹیز کی “سعودائزیشن” کرنے کا فیصلہ

    August 13, 2017 4:15 pm PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

وزارت شہری خدمات نے سعودی عرب کی تمام جامعات میں غیر ملکی تدریسی عملے کی جگہ سعودی تدریسی عملہ تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے سعودیوں کو جامعات میں تدریسی شعبے سے منسلک کیا جائے گا۔

بیرون مملکت سرکاری تعلیمی وظیفے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے سعودیوں کو بھی جامعات میں خدمات پیش کرنے کا موقع ہوگا۔

وزارت شہری خدمات نے اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تعلیم، شہری خدمات اور محنت و سماجی فروغ کی وزارت کی نمائندہ اعلیٰ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کردی ہے۔

رواں سال اگست کے پہلے ہفتے میں اُن سعودی شہریوں نے احتجاج کیا تھا جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے تاہم وہ بے روزگار ہیں۔ ان احتجاجی سکالرز کا کہنا تھا کہ سعودی جامعات میں غیر ملکیوں کو ملازمت دینے کے لیے مقامی شہریوں پر ترجیح دی جارہی ہے۔

اس احتجاج پر وزارت تعلیم کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ سعودی جامعات میں کسی بھی غیر ملکی کو تدریسی عملے میں اسی وقت شامل کرتی ہے جب یہ یقین ہو جائے کہ مطلوبہ آسامی کیلئے کوئی سعودی شہری موجود نہیں ۔

وزارت تعلیم اس حوالے سے مقررہ قواعد و ضوابط کی پابندی کر رہی ہے ۔ کسی بھی غیر ملکی کو انتہائی ضرورت کے تحت ہی سرکاری سعودی یونیورسٹی میں تدریس کیلئے معاہدہ کرتی ہے ۔

بیروزگار پی ایچ ڈی سعودی طلبہ کے ترجمان ڈاکٹر خالد الحربی نے سبق ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے 11نکاتی احتجاجی یادداشت پیش کی ہیں ۔ الحربی کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو ہم تعلیم کے فروغ کیلئے خادم حرمین شریفین اور ولیعہد محترم کے شکر گزار ہیں ۔

دوم یہ کہ وزارت تعلیم نے جامعات میں غیر ملکی اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اسے مسترد کرتے ہیں ۔ الحربی نے بتایا کہ 10رمضان 1437ھ کو بیروزگار پی ایچ ڈی سعودی طلبہ کی ایک فہرست وزیرتعلیم کو پیش کی جا چکی ہے ۔

وزارت تعلیم نے ان کا اندراج ’’جدارہ‘‘ سسٹم میں ابھی تک نہیں کیا ۔ جامعات کے اشتہارات میں معاون پروفیسر اور لیکچرار کی اسامیوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا حالانکہ جامعات غیر ملکی لیکچرار اور معاون پروفیسر دھڑا دھڑ رکھ رہے ہیں ۔

سعودی جامعات میں مختلف مضامین ایسے ہیں جن کی تدریس کیلئے سعودی مہیا ہیں ۔ غیر ملکیوں کی تقرری کرتے وقت سعودیوں سے انصاف نہیں کیا جاتا۔غیر ملکی ماہرین سے استفادہ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے تاہم معاون پروفیسر اور لیکچرار کی اسامیوں پر سعودیوں کی تقرری اس سے متاثر نہیں ہوتی ۔ آخر میں الحربی نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے درخواست کی کہ وہ ہم وطنوں کو انصاف دلائیں ۔ وہ نوجوانوں کے قائد ہیں اور ہم وطنوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان سے بھرپور استفادے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *