روس: افسروں کے بچوں کی مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم پر پاپندی

    February 14, 2017 12:05 am PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

روس کی پارلیمنٹ میں ایسا بل پیش کیا گیا ہے جس میں یہ تجویز پیش ہوئی ہے کہ روسی افسران کے بچوں کی بیرون ممالک یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر پاپندی عائد کی جائے۔ بالخصوص مغربی یونیورسٹیوں میں یہ تعلیم حاصل کرنے پر پاپندی ہونی چاہیے۔

یہ بل آوانتی کے صدر رحمان ینسوکیو کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جو روس کے نامور بزنس مین، اینٹرپرینورز پر مشتمل تنظیم کے صدر ہیں۔

اس بل میں لکھا ہے کہ اس پاپندی کے نفاذ سے روس کی یونیورسٹیوں کے معیار تعلیم کو بھی پرکھا جائے گا اور بچوں میں حب الوطنی کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔ یہ بل روسی کیمونسٹ پارٹی نے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے جس پر رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ووٹنگ ہوگی۔

اس بل کے مطابق روس کے سرکاری افسران اپنے بچوں کو غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لیے نہیں بھیج سکیں گے ان میں وہ بچے بھی شامل ہوں گے جو لے پالک ہوں گے۔ بل کے مطابق روس کے وہ افسران جو کسی اور ملک میں فرائض نبھا رہے ہیں وہ اس پاپندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اس بل کا بنیادی مقصد افسر شاہی کلاس کے بچوں کو اپنے ملک سے لگاؤ، حب الوطنی اور معاشی طور پر پسماندہ افراد سے شناسائی کرانا ہے تاکہ وہ ملکی مسائل کا بہتر طریقے سے ادراک کر سکیں۔ اور اس سے روس برین ڈرین پر بھی قابو پانے میں کامیاب ہوگا۔

بل کے مندرجات میں یہ بھی شامل ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں روسی طلباء پر نظر رکھتی ہیں جس سے اُن کی ذاتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اکتوبر دو ہزار سولہ میں اس تجویز پر ابتدائی بات چیت کی گئی تھی تاہم صدر کی جانب سے سپورٹ نہ ملنے پر اسے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *