پنجاب یونیورسٹی نے بلوچستان، پختونخوا کے طلباء کے داخلے روک لیے

  • October 27, 2017 12:15 pm PST
taleemizavia single page

لاہور

پنجاب یونیورسٹی میں بی ایس آنرز، ایم اے، ایم ایس سی میں داخلوں کے لیے بلوچستان اور پختونخوا کے طلباء کے داخلے عبوری وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی ہدایات پر روک لیے گئے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے کی سرکاری یونیورسٹیز میں بلوچستان اور پختونخوا کے طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے سیٹیں مختص کر رکھی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان طلباء کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام سرکاری یونیورسٹیز کے سربراہان کو ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں۔

یونیورسٹی میں بلوچ، پشتون طلباء کے لیے مختص سیٹوں پر اُمیدواروں نے اپنے داخلہ فارم بھی جمع کرا رکھے ہیں تاہم اس کے باوجود ان طلباء کو داخلے نہیں دیے جارہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں بلوچستان کے طلباء کے لیے تمام پروگرامز مجموعی طور پر 106 سیٹیں مختص ہیں اور ہر ڈگری پروگرام میں ایک ایک سیٹ مختص کی گئی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے تمام شعبہ جات میں تین تین میرٹ لسٹیں آویزاں کر دی گئی ہیں تاہم اس کے باوجود بلوچ طلباء کے داخلوں کی ایک بھی میرٹ لسٹ جاری نہیں کی گئی۔

بلوچ اور پشتون طلباء نے پنجاب یونیورسٹی کی ایڈمیشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر تقی زاہد بٹ سے متعدد بار
داخلے روکنے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تاہم انہیں مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے متعدد شعبہ جات میں بی ایس آنرز اور ماسٹرز ڈگری میں داخلے مکمل کر لیے گئے ہیں اور نئی کلاسز کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔

بلوچ اور پشتون طلباء کے داخلوں میں تاخیر ہونے سے ان کا تعلیمی حرج بھی ہوگا۔

یونیورسٹی کی بلوچ اور پشتون کونسل نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے یونیورسٹی کے عبوری وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب یونیورسٹٰی کے ترجمان خرم شہزاد کا موقف ہے کہ بلوچ اور پشتون طلباء کو داخلے دیے جارہے ہیں اور ان کی میرٹ لسٹیں بھی جلد آویزاں کی جائیں گی۔ اُن کا کہنا ہے کہ طلباء کے مساویت کے سرٹیفکیٹس مکمل ہونے پر میرٹ لسٹیں آویزاں کی جائیں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.