پنجاب یونیورسٹی: اساتذہ کیلئے 27 سال سے جاری مالی مراعات ختم

  • September 4, 2018 10:06 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

پنجاب یونیورسٹی کا 27 سال سے جاری مالی مراعات کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ کی پروموشنز اور تقرری پر گزشتہ تواریخ سے اب مالی مراعات نہیں ملیں گی۔

پنجاب یونیورسٹی میں 27 سال پہلے سنڈیکیٹ نے اساتذہ کی پروموشن میں تاخیر کا ازالہ کرنے کے لیے گزشتہ تاریخوں سے مالی مراعات دینے کی منظوری دی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اساتذہ کو مراعات دینے کی اس پالیسی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یونیورسٹی کی نئی پالیسی کے مطابق سلیکشن بورڈز کے ذریعے سے جو اساتذہ اگلے گریڈز میں ترقی حاصل کریں گے انھیں اُسی تاریخ سے مالی مراعات دی جائیں گی جس تاریخ کو اُن کی پرموشن و تقرری کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

ستائیس سال سے جاری اس پالیسی سے اساتذہ کو پرموشن ملنے پر تنخواہ پر انکریمنٹس کے ساتھ ساتھ گزشتہ مہینوں کی مالی مراعات ملنے سے یونیورسٹی خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محبوب حسین نے تعلیمی زاویہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے یونیورسٹی اساتذہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور 1991ء میں یونیورسٹی انتظامیہ کی اے ایس اے کے ساتھ ہونے والے معاہد ے کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس پالیسی کی منظوری اُس وقت کے گورنر پنجاب سے بطور چانسلر حاصل کی گئی تھی اور اس پالیسی کا بنیادی مقصد پرموشنز میں تاخیر پر اساتذہ کے نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان اس تنازعے پر اے ایس اے کی جنرل باڈی کا اجلاس 11 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.