پنجاب اسمبلی میں کتنے بی اے پاس اور کتنے میڑک؟

    October 1, 2016 8:08 pm PST
taleemizavia single page

تعلیمی زاویہ

حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی ایم پی اے زیب النساء مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کا حصہ بنی ہیں۔ پوری اسمبلی میں یہ واحد پارلیمنٹرین ہیں جو صرف آٹھ جماعتیں پاس ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی یہی کچھ لکھا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں پنجاب سے ملک کے تمام صوبوں کو شکوہ رہتا ہے اور اس شکوے کی بنیاد وہ سیاسی طاقت ہے جو پاکستان میں صرف پنجاب کو حاصل ہے۔

سیاسی اشرافیہ سے لے کر انتظامی مشینری کے افسران، ملٹری بیوروکریسی یا پھر اسٹیبلشمنٹ میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے رہا ہے۔ طاقت کے ترازو میں پنجاب کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے۔

وسائل کی تقسیم ہو یا پھر وسائل کا سرکاری سطح پر استعمال پنجاب دیگر صوبوں سے پیچھے نہیں ہے۔ سیاسی مخالفین پنجاب کی اس طاقت کو تخت لاہور سے تشبیہہ دیتے ہیں۔

لیکن پنجاب کی اسمبلی میں بیٹھے پارلیمنٹرین پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اپنے سیاسی نمائندوں کا چناؤ کس بنیادی خصوصیات کی بناء پر کرتی ہے۔ یہی فارمولہ حکومتی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں اور پھر ٹکٹوں کی تقسیم کی جاتی ہے۔

اب ذرا دیکھیں کیسے کیسے یہ ٹکٹیں تقسیم کیں اور پھر انہیں پاکستان کے جمہوری نظام کے ذریعہ سے پنجاب اسمبلی میں لا یا گیا۔

پنجاب اسمبلی کے رکن، پیرزادہ محمد جہانگیر سلطان مخصوص نشست پر ایم پی اے ہیں ان کی تعلیم بھی مڈل سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ صرف اور صرف مروجہ جمہوری نظام کی بدولت ہی ممکن تھا کہ مڈل کی تعلیم مکمل کر کے بھاگ جانے والوں کو پنجاب اسمبلی کا ممبر بنوا دیا۔

عوامی ٹیکسوں سے جمع ہونے والے پیسے اور پھر ان پیسوں سے ملنے والے ترقیاتی فنڈز پر پارلیمنٹرین ہاتھ صاف کرتے نظر آتے ہیں لیکن ذرا ان کی تعلیمی قابلیت کی پڑتال کریں تو حزب اقتدار یا حزب اختلاف کی جماعتوں کو بہت داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں کل پارلیمنٹرین کی تعداد 368 ہے۔

ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ان پارلیمنٹرین میں سے 148 صرف بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے بھی اکثریت نے بی اے تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا ہے۔ لیکن ان پارلیمنٹرین کے پاس ایسا فارمولہ ضرور ہے جو اُنہیں پنجاب اسمبلی کے ایوان تک لے آیا ہے اور پھر ان کو معزز ممبران کا درجہ دلوایا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں 18 ایسے معزز ممبران بھی ہیں جو صرف میڑک کی سند رکھتے ہیں اور 18 پارلیمنٹرین کے پاس صرف ایف اے کی سند ہے۔ تعلیمی قابلیت میں تو یہ انتہائی نچلے درجے تک ہیں اس کے علاوہ ان میں کون سی صلاحیتیں وہ صرف ان ممبران کو ٹکٹ دینے والی سیاسی جماعتیں ہی بتا سکتی ہیں۔

بہرحال پنجاب اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے ایسے 29 افراد بھی پارلیمنٹرین ہیں جن کی تعلیم ایم اے ہے۔

ویسے پنجاب اسمبلی میں اکثریت پارلیمنٹرین تعلیمی قابلیت میں پسماندہ ضرور ہیں لیکن پیسوں کی چمک دمک خوب رکھتے ہیں۔

زرعی معیشت میں جاگیرداروں، زمینداروں کا بڑا حصہ ہوتا ہے کسان اور کاشتکار تو صرف مزدور کا درجہ رکھتے ہیں جنہیں صرف اتنی روزی روٹی ملتی ہے کہ ان کا گزر بسر ہوجائے۔

پنجاب اسمبلی کی سرکاری دستاویز کے مطابق ان پارلیمنٹرین میں 72 ایسے افراد ہیں جو زرعی پیشے سے وابستہ ہیں۔

دستاویزات میں انہوں نے سمجھداری کے ساتھ اسے پیشے میں لکھا ہے لیکن حقیقی طور پر یہی لوگ ہیں جو زرعی معیشت کو اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہیں۔

سرکاری دستاویزات میں 72ایسے پارلیمنٹرین بھی ہیں جنہوں نے اپنے پیشے میں بزنس مین لکھا ہے۔ اب ان کا بزنس کسی ایک مارکیٹ کی دکان تک محدود ہے یا پھر پرائیویٹ سوسائٹیوں کے مالکان کی فہرست سے لے کر بڑے بڑے صنعتی مراکز کی ملکیت تک یہ تو سرکاری ادارے ہی بتا سکتے ہیں۔

ان دستاویزات میں یہ سب کچھ چھپایا گیا ہے کیونکہ پیشہ کے خانے میں صرف یہی لکھنا ہے کہ آپ سیاستدان ہیں، کاروباری ہیں، زمیندار ہیں یا پھر سوشل ورکر۔

یوں جمہوری نظام کے ذریعے پنجاب اسمبلی تک پہنچنے والے 144 پارلیمنٹرین ایسے ہیں جن کا پیشہ سیاست نہیں بلکہ کاروبار ہے کیونکہ اسمبلی ریکارڈ میں ان سے متعلق یہی کچھ لکھا ہے۔

یہ پارلیمنٹرین اپنے کاروبار کے تحفظ کی خاطر اس مقدس ایوان کے معزز ممبر بنے ہیں۔ وگرنہ پاکستان جیسے معاشرے میں میڑک پاس شخص کو چپڑاسی کی نوکری بھی صرف سفارش پر ہی ملتی ہے۔

جن 72 پارلیمنٹرین نے اپنا پیشہ زراعت لکھا ہے ان کے علاوہ 19 ایسے ایماندار پارلیمنٹرین بھی اسی ایوان کا حصہ ہیں جنہوں نے پیشے کے خانے میں جاگیردار لکھا ہے۔

جمہوریت جمہوریت کا نعرہ لگانے اور پھر اسے خطرے سے دوچار کرنے والے ان پارلیمنٹرین کی سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف 7 ایسے پارلیمنٹرین ہیں جنہوں نے اپنے پیشے کے خانے میں سیاست لکھا ہے۔

یعنی 368 کی اسمبلی میں صرف 7 افراد سیاست کو اپنا پیشہ سمجھتے ہیں باقی تمام کے لیے سیاست صرف اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔

گویا نعرہ جمہوریت بچاؤ کا لگایا جاتا ہے اور پس پشت مقاصد میں اپنے ذاتی مفادات کوتحفظ پہنچانا ہے۔

اس اسمبلی کی خوش قسمتی ہے کہ اس میں ایک فری لانسر کنیز اختر بھی موجود ہے اگرچے اس کی تعلیم ایف اے پاس ہے لیکن مسلم لیگ نواز کو اس پر بھی فخر ہے کہ وہ لکھاری ہیں۔

پنجاب کے پارلیمنٹرین میں سے 71 خواتین ہیں جس میں سے 62 مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی تک پہنچی ہیں۔

اب مخصوص نشستیں کس بلا کا نام ہے؟ شاید عوام کو اس سے کوئی غرض نہ ہو۔ لیکن مخصوص نشستوں پر خواتین کو اسمبلی لانے کا فارمولہ حکمران جماعت کی قیادت خود ہی بناتی ہے اس میں عوامی رائے اور جمہوریت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

الیکشن میں اگرچےجیتنے کی اہلیت کو ہی جانچا جاتا ہے لیکن حکومت مخصوص نشستوں پر تو کوئی فارمولہ طے کر سکتی ہے کہ ان نشستوں پر صرف پڑھی لکھی اور مختلف شعبہ جات کی ماہر خواتین کو ہی پنجاب اسمبلی کا حصہ بنایا جائے گا۔

سیاسی جماعتیں تو مخصوص نشستوں پر بھی قومی مفادات کو کسی خاطر میں نہیں لاتیں۔

حکمران جسے چاہیں اپنی شفقت و مہربانی سے پنجاب اسمبلی تک لے آئیں۔ اس فارمولے کے تحت اُن افراد کو نوازا جاتا ہے جو حکمران یا ان کے قریبی درباریوں کے چاہنے والے ہوتے ہیں اُن پر مخصوس نشستوں کے ذریعے احسان مندی کی جاتی ہے۔

یہ مخصوص نشستوں والی خواتین پارلیمنٹرین کے ٹھاٹھ باٹھ بلکہ فنڈز میں شراکت دار بھی کم و بیش اُتنی ہی ہوتی ہے جتنی الیکشن میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد اسمبلی تک پہنچنے والے میڑک پاس پارلیمنٹرین کے پاس ہوتی ہے۔

شخصیت پرستی کے گرد گھومتی حکمران جماعت نواز لیگ نے تین ایسے افراد کو بھی پارلیمنٹرین بنوایا ہے جن کی تعلیم پی ایچ ڈی ہے۔

حکمران جماعت کے پاس تو 182 پارلیمنٹرین میں سے دو پی ایچ ڈی ہیں لیکن حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس بھی دو پی ایچ ڈی پارلیمنٹرین ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی ہی دستاویزات کے مطابق صرف 8 ممبران ایسے ہیں جن کی عمر کی حد پچیس سال سے تیس سال ہے۔ باقی ممبران تو بزرگ سیاستدان کا ہی درجہ رکھتے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پارلیمنٹرین بننے کی شرط بی اے رکھی گئی تھی تو جب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان معزز ممبران کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال گزشتہ حکومت میں شروع کی تو 54 پارلیمنٹرین کی ڈگریاں جعلی نکلی۔

جمہوریت کے نام پر جعلی پارلیمنٹرین بننے والوں کے خلاف جمہوریت کے رکھوالوں نے کیا سلوک کیا؟ شاید ان کے خلاف کارروائی کرنا جمہوریت کے لیے خطرہ تھا۔

دراصل سیاسی جماعتیں ٹکٹوں کی تقسیم تعلیمی قابلیت کی بناء پر نہیں کرتیں بلکہ اس میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان میں الیکشن جیتنے کی اہلیت ہے یا نہیں۔ یا پھر ان سے مالی مفادات کیا لیے جاسکتے ہیں؟


نوٹ: یہ تحقیقاتی رپورٹ تعلیمی زاویہ کی رپورٹنگ ٹیم نے تیار کی ہے اس رپورٹ کی تیاری میں پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ سے بھی اعداد وشمار لیے گئے ہیں۔اس رپورٹ میں شامل اعداد وشمار کو احتیاط کے ساتھ لکھا گیا ہے تاہم کسی غلطی کی صورت میں نشاندہی کرنے پر ادارہ ممنون ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *