ڈاکٹر امجد ثاقب کی ایمانداری داؤ پر، پیف میں ڈیڑھ ارب کی بے ضابطگی

    November 10, 2017 11:12 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: محمد حسن رضا

پنجاب کمپنیز سیکنڈل میں کرپشن کے مزید انکشافات سامنے آرہے ہیں پنجاب میں سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو سکالر شپس دینے کے لیے قائم ادارہ پنجاب ایجوکیشنل فاؤنڈیشن میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پیف ڈاکٹر امجد ثاقب کے دور میں ہی ایک ارب اکاون کروڑ اکاون لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

پیف میں من پسند افراد کی میرٹ کے خلاف بھرتیاں ہوئیں اور میرٹ پالیسی کے برخلاف طلباء کو سکالر شپس سے نوازا گیا۔ تفصیل کے مطابق اُنیس کروڑ تیس لاکھ روپے کی سکالر شپس ایسے طلباء کو دی گئیں جو میرٹ پر پورا نہیں اُترتے تھے جبکہ دو ہزار نو سے لیکر دو ہزار سولہ تک اشتہار دیے بغیر من پسند بیالیس افراد کو بھرتی کیا گیا جبکہ چھ سالوں میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے تیرہ افسران کو ترقیاں دی گئیں جس سے دو کروڑ پچاس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

پیف کے وائس چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کی جانب سے پیپرا قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ہزار بارہ تیرہ میں پانچ ہزار سکولز بیگ خریدے گئے اور یہ سکول بیگ سیاسی مہم میں استعمال کیے گئے جس کی مد میں پیف کے خزانے سے باون لاکھ تیئس ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ سکولز بیگ کی خریداری بغیر ٹینڈر کے ہوئی اور اس میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ نان پرافٹ کمپنی ہے جو کمپنیز آرڈیننس اُنیس سو چوراسی کے تحت اکتیس دسبمر دو ہزار آٹھ کو بنائی گئی اور اس کی باقاعدہ منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے دی۔ پیف کے لیے ابتدائی طور پر حکومت نے دو ارب روپے مختص کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پیف کی پرموشنل سکیم پر اشتہارات کی مد میں دو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے جس میں صرف مسلم لیگ نواز کی بطور سیاسی جماعت تشہیر کی گئی جبکہ بعض افراد کو ٹرینر کی مد میں بتیس لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی۔

تفصیل کے مطابق ڈاکٹر امجد ثاقب کی نگرانی میں چلنے والے اس ادارے میں چیف فنانس آفیسر کی تقرری ہی قانون کے برعکس کی گئی ہے اور پیف کے بورڈ آف گورنرز کے شدید تحفظات ہونے کے باوجود چیف فنانس آفیسر کی تقرری کی گئی۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پرائیویٹ کمپنی سے انشورنس کرائی گئی اور پرائیویٹ کمپنی یونائیٹیڈ انشورنس کمپنی کو چودہ لاکھ اسی ہزار روپے ادا کیے گئے جبکہ نیشنل انشورنس کارپوریشن ری آرگنائزیشن دو ہزار یہ انشورنس صرف نیشنل انشورنس کمپنی سے ہی کرائی جاسکتی ہیں جبکہ پیف نے اس کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پیف نے جان بوجھ کر غلط جگہ پر انویسٹمنٹ کی جس سے ایک ارب بیس کروڑ پچانوے لاکھ روپے کے منافع کا نقصان ہوا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر پیف کے ترجمان کا موقف ہے کہ پنجاب ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ میں تمام تر امور میرٹ اور قانون کے مطابق نبھائے جارہے ہیں اور میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *