دینی مدارس میں ٹیکسٹ بُک بورڈ کا نصاب پڑھانے کی منظوری

  • November 18, 2017 11:43 am PST
taleemizavia single page

لاہور:آمنہ مسعود

دینی مدارس میں بھی پنجاب کریکلم اینڈ ٹٰیکسٹ بُک بورڈ کا نصاب رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اس ضمن میں بورڈ آف گورنرز نے منظوری بھی دے دی ہے۔

رجسٹرڈ مدارس میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک بورڈ کی نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔ بورڈ نے اتحاد تنظٰم مدارس کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لے لیا ہے۔ تعلیمی زاویہ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ٹیکسٹ بُک بورڈ کے اجلاس میں منظوری دی گئی ہے کہ درجہ ابتدائیہ یعنی پہلی سے پانچویں جماعت تک، درجہ متوسط یعنی چھٹی جماعت سے آٹھویں تک بورڈ کا تیار کردہ نصاب پڑھایا جائے گا۔

بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ ثانویہ عامہ کا دو سالہ کورس میڑک اور ہیومینیٹیز کے مضامین کے برابر ہوگا جبکہ ثانویہ خاصہ کے طلباء کو پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل کے مضامین بھی پڑھنے کی آپشن دی جائے گی۔

یہ پڑھیں؛ ایچ ای سی نے شہادت العالیہ کی سند کو بی اے ڈگری کا درجہ دیدیا

دینی مدارس کے طلباء کو ثانویہ عامہ اور خاصہ کی مساویت کے سرٹیفکیٹس تعلیمی بورڈز سے حاصل کرنا ہوتے ہیں تاہم اب اس پاپندی کو ختم کرکے یہ سرٹیفیکیٹ دینے کا اختیار اتحاد تنظیم مدارس کو دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

ٹیکسٹ بُک بورڈ نے یہ بھی منظوری دی ہے کہ دینی مدارس میں جدید طرز کی سائنسی لیب، کمپیوٹرز لیب بھی قائم کی جائیں اور ان مدارس کے طلباء کو مفت کتابوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں متفقہ طور پر دینی مدارس کے نصاب کو سکولوں اور کالجوں کے طلباء کو پڑھائے جانے والے نصاب کے برابر لانے کی منظوری دی گئی ہے۔ بورڈ اس نئی پالیسی کی حتمی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے حاصل کرے گا۔

بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کی منظوری لینے سے پہلے مدارس کے ساتھ مشاورت بھی کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اتحاد تنظیم مدارس میں پانچوں بورڈز شامل ہیں جس کے تحت مدارس کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.