پنجاب: 2 ہزار سرکاری سکولز بجلی کے بغیر،4 ہزار کی عمارتیں خطرناک قرار

  • April 7, 2018 11:32 am PST
taleemizavia single page

لاہور: حافظ اعجاز بشیر

تمام تر دعوو ں کے باوجود سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فروغ تعلیم میں ناکام،آبادی میں اضافہ کے باوجود سرکاری سکولوں کی تعدادکم جبکہ نجی سکولز کی تعداد خاطر خواہ بڑھی ہے،محکمہ تعلیم کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے عوام سرکاری سکولوں کی بجائے نجی سکولز کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں

پنجاب کے سرکاری ادارے پی ایم آئی یو کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے سرکاری سکولوں میں انتظامی عہدے کی 5370 آسامیاں خالی،2298 سکولز بجلی سے محروم ، 1082 سکولز چاردیواری کے بغیر، 3738 سکولوں میں آئی ٹی لیبز موجود ہی نہیں، 4170 اساتذہ کےخلاف انکوائریز زیرالتوائ، 4500 سرکاری سکولوں کی عمارتیںتاحال خطرناک،39 ہزاراساتذہ میٹرک پاس ہیں۔

سرکاری سکولوں کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت صوبہ کے سرکاری سکولوں میں پرنسپلز،ہیڈ ماسٹرزاور ہیڈ مسٹریس کی 5370آسامیاں خالی ہیں۔

مردوخواتین ہائرسیکنڈری سکولز میں گریڈ 20 کی 386 ،ہائی سکولز میں گریڈ19میں سےنئر ہیڈماسٹرومسٹریس کی 1530اورہائی سکولز میں گریڈ 18 کی 3454آسامیاں خالی ہیں،345ارب روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود 2298 سکولز بجلی سے محروم ، 1082 سکولز چاردیواری کے بغیر، 3738 سکولوںمیںآئی ٹی لیبز موجود ہی نہیں۔

چار ہزار ایک سو ستر اساتذہ کےخلاف انکوائریز زیرالتواءہیں، 4500 سرکاری سکولوں کی عمارتیں تاحال خطرناک قراردی گئی ہیں۔

گزشتہ سات سال کے دوران آبادی میں اضافے کے پیش نظر نجی وپرائیویٹ سکولز کی تعداد بڑھی ہے لیکن سرکاری سکولوں کی تعدادمیں اضافہ کے بجائے 10 ہزار 980 سرکاری سکولوں کی تعداد میں کمی ہوئی ۔

پروجیکٹ مینجمنٹ امپلیمنٹیشن یونٹ(پی ایم آئی یو)سکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے سرکاری سکولوں میں39ہزار816اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اب بھی میٹرک ہے،26ہزار137اساتذہ ایف اے /ایف ایس سی ہیں۔

schools

بی اے/بی ایس سی اساتذہ کی تعداد 87 ہزار 671 ہے،ایم اے /ایم ایس سی اساتذہ کی تعدادایک لاکھ 80 ہزار 618 ہے،ایم فل اساتذہ کی تعداد7715ہے اورپی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد178ہے نیز دیگر پیشہ وارانہ تعلیمی قابلیت رکھنے والے اساتذہ کی تعداد 1323 ہے۔

اعدادوشمار میں مزید کہا گیا ہے کہ اسوقت صوبے میں 28 ہزار 214 بوائز سکولز اور 24 ہزار 107 گرلز سکولز ہیں،سرکاری سکولوں میں مرد اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 55 ہزار 559 جبکہ خواتین اساتذہ کی کل تعدادایک لاکھ 87 ہزار 899 ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں طلبہ کی انرولمنٹ 8 لاکھ 10 ہزار 123 ہے، ہائی سکولوں میں انرولمنٹ کی تعداد 43 لاکھ 95 ہزار 897 ہے،مڈل سکولوں میں انرولمنٹ کی تعداد 24 لاکھ 8 ہزار 853 ہے اور پرائمری سکولوں میں انرولمنٹ کی تعداد 47 لاکھ 99 ہزار 217 ہے جس میں 6 لاکھ 9 ہزار 244 طلبہ پی ایس ایس پی کے بھی شامل ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق پنجاب کے سرکاری سکولوں میں 138 مرد،35 خواتین اور امام/قاری حضرات کی تعداد 173 ہے،پی ایس ٹی/ای ایس ای اساتذہ کی کل تعدادایک لاکھ 75 ہزار 252 ہے جن میں 74 ہزار 354 مرداورایک لاکھ 898 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

پی ایم آئی یو کے مطابق ای ایس ٹی/ایس ای ایس ای اساتذہ کی تعدادایک لاکھ 4 ہزار 424 ہے ،ایس ایس ٹی /ایس ایس ای اساتذہ کی تعداد 41 ہزار 929 ہے ،ایس ایس /ہیڈوڈپٹی ماسٹرزومسٹریس کی تعداد6ہزار101ہے۔

ایس ایس ایس /سینئر ہیڈماسٹروہیڈمسٹریس کی تعداد 2884 ہے جبکہ پرنسپل کی تعداد 932 ہے۔رپورٹ کے مطابق 1109سرکاری سکولوں میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن شروع کردی ہے جس کے لئے 100 ملین روپے ورلڈ بنک نے بھی فراہم کردئیے ہیں۔

اسی طرح 5 ہزار چائلڈ فرینڈلی رومز بنائے گئے ہیں جبکہ 5 ہزارکڈز رومزآئندہ مالی سال میں بنائے جائیں گے۔ دو ہزار آٹھ سے لیکر دو ہزار سترہ تک دو لاکھ ستاون ہزار اساتذہ کو سرکاری سکولوں میں بھرتی کیا گیا ہے۔

سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر اللہ بخش ملک کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں پر تعیناتیاں جلد کردی جائیں گی، گریڈ20 کی خالی آسامیوں پر بھرتی کےلئے محکمانہ طور پر کام ہو رہا ہے،اے سی آر اور سروس ریکارڈ مکمل نہ ہونے کے باعث گریڈ 20 پر تعیناتی نہیں ہو سکی۔

انہوں نے بتایا کہ سکولز میںتدریسی معاملات کو احسن انداز سے چلانے کےلئے اےجوکیٹرزکی بھرتی مکمل کرلی گئی ہے، اب تک 2لاکھ سے زائد ایجوکیٹرزاور650 سے زائد اے ای اوز میرٹ پر بھرتی کئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بہت جلد صوبہ کے تمام سرکاری سکولوں کی چار دیواری مکمل کرلی جائیگی،بجلی سے محروم سکولوں کو سولر پےنل سے روشن کیا جائیگا نیز 5ارب روپے کی لاگت سے 15ہزار نئے کلاس رومز کی تعمیرشروع کردی گئی ہے۔

  1. مسلسل سیکھنے کا عمل اور بہتر سے بہتر تر اور بہترین کی
    گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔
    بنیادی سہولیات اور اساتذہ اکرام کی کمی کو پورا کئے بغیرکوالٹی ایجوکیشن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *