پنجاب یونیورسٹی کی طالبات کا وائس چانسلر کے خلاف احتجاج

    June 2, 2017 12:53 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں ہاسٹلز میں رہائش پذیر طالبات نے قائمقام وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پانچ جون سے ہاسٹل خالی کرانے کا حکم واپس لیا جائے۔

اس احتجاجی مظاہرے میں پنجاب یونیورسٹی گرلز ہاسٹلز کی طالبات نے شرکت کی جبکہ طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی طالبات کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں امتحانات کے ساتھ ساتھ وہ تھیسز پر کام کر رہی ہیں جس کے لیے اُنہیں روزانہ ڈیپارٹمنٹ جانا ہوتا ہے اور اپنے سُپروائزرز سے بھی رہنمائی لینا ہوتی ہے۔

طالبات کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی قوانین کے مطابق وہ انٹرن شپ، لیب ورک، فیلڈ ورک اور ریسرچ ورک کر رہی ہیں اگر ہاسٹل بند کرا دیے گئے تو وہ اپنی اسائنمنٹ کیسے مکمل کریں گی؟

احتجاجی طالبات کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ظفر معین ناصر کے حکم پر انتظامی افسران طالبات کو ہاسٹل چھوڑنے کی سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ طالبات کے مطابق انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہاسٹل ہر صورت خالی کروایا جائے گا چاہے طالبات سڑک پر رات گزاریں۔

طالبات کا کہنا ہے کہ قائمقام وائس چانسلر اپنی کرسی بچانے کے لیے ہمارے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ عارضی وائس چانسلر ہیں اور یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول تباہ ہورہا ہے۔ خدانخواستہ انہیں مستقل تعینات کیا گیا تو پاکستان کے اس عظیم الشان اور متوسط طبقے کے واحد تعلیمی ادارے کو تباہ کر دیں گے۔

احتجاج کرنے والی طالبات نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر رات دو دو بجے تک تمام گرلز ہاسٹلز میں ڈنر کرچکے ہیں تاہم ابھی بھی یہ ہاسٹلز کی طالبات کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، کیا گرلز ہاسٹل دعوتوں کے لیے رہ گئے ہیں۔

گرلز ہاسٹل نمبر ایک کی طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب سے ڈاکٹر ظفر معین ناصر کو چارج ملا ہے یونیورسٹی کا پر امن ماحول خطرے میں ہے۔ اسلامی جمعیت طلباء کے کارکن ہراساں کرتے ہیں اور یونیورسٹی میں کسی بھی وقت تصادم کا خطرہ رہتا ہے۔

احتجاج کے دوران ایک طالبہ نے چارٹ پر لکھ رکھا تھا کہ دشمن کے بچوں کو پڑھاتے ہو اور اپنے بچوں کو رلاتے ہو۔ انتظامیہ اپنی سیاست میں بچوں کا نقصان نہ کرے۔

طالبات کے احتجاج کے دوران چیئرمین ہال کونسل ڈاکٹر عابد حسین موقع پر پہنچے اور مذاکرات کرنے کی کوشش کی تاہم طالبات نے صرف ایک مطالبہ رکھا کہ ہاسٹل بند کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ احتجاج کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز کے تمام گیٹس بند کر دیے گئے جبکہ سیکورٹی گارڈز بھی موقع پر پہنچ گئے۔


  1. Who knows they are from Punjab University? They have really been used by someone as there is no logic behind this protest. How come they are brave? Are they fighting for any cause? It is only Punjab University which is providing hostel facility otherwise student suppose to take care of their lodging themselves.

    1. Thesis work k lie students ko hostel rukna parta hai…….aur kabhi bhi hostel yun bnd ni hoote……..agr ab aesa ho raha hai to galt ho raha hai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *