پنجاب:دس برس میں 41 ہزار پرائیویٹ سکولز کھلنے کا انکشاف

  • January 3, 2018 12:29 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: خالد خٹک

پنجاب میں گزشتہ دس سالوں کے دوران 41 ہزار 638 پرائیویٹ سکولز کھولے گئے ہیں جبکہ حکومت نے دس سالوں میں صرف ایک ہزار پینتیس نئے سرکاری سکولز کھولے ہیں۔

یہ رپورٹ پنجاب ایجوکین سیکٹر ریفارم پروگرام آف دی سکول کی دو ہزار سولہ کے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں پرائیویٹ سکولز کے اعداد و شمار بھی جمع کیے گئے تھے۔

اس سروے کے مطابق پنجاب میں 60 ہزار 502 پرائیویٹ جبکہ 52 ہزار 231 سرکاری سکولز ہیں۔ مذکورہ پرائیویٹ سکولز میں سے گیارہ ہزار نجی سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی معاونت سے چلایا جارہا ہے۔

ان اعداد و شمار میں عسکری اداروں، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واپڈا کے تحت چلنے والے سکولوں کو بھی پرائیویٹ سکولوں میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان سکولوں میں طلباء سے فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں طلباء کو مفت تعلیم اور مفت کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ آئین کے تحت حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کرے۔

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ سکولز سے متعلق سروے کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ سکولز سے متعلق یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں کیونکہ گزشتہ دس برسوں میں نجی سطح پر بنائے گئے سکولوں کی تعداد حکومت کی جانب سے ستر سالوں میں بنائے گئے سکولز کی تعداد کے برابر ہے۔

حکومت کی سرکاری سکولوں سے متعلق عدم توجہ پر سرمایہ کاروں کے لیے تعلیم منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ اس وقت پنجاب میں چوون فیصد سکولز پرائیویٹ جبکہ چھیالیس فیصد سرکاری سکولز ہیں۔

مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ پنجاب 2014 کے تحت آئینی طور پر حکومت پاپند ہے کہ وہ پانچ سال سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا بندوبست کرے ۔

ایکٹ کو بنے تین سال گزر گئے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے اس ایکٹ پر عمل داری کے لیے کوئی واضح رولز آف بزنس طے نہیں کیے گئے۔

اس سروے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف لاہور میں تمام سرکاری و نجی سکولز میں 82 فیصد پرائیویٹ سکولز ہیں۔ لاہور میں ایک ہزار 219 سرکاری سکولز کے مقابلے پر پانچ ہزار 436 نجی سکولز ہیں۔ ان پرائیویٹ سکولز میں سے 61 فیصد گزشتہ دس سالوں میں بنائے گئے ہیں۔

اسی طرح گوجرانوالہ میں 70 فیصد، ملتان میں 65 فیصد، منڈی بہاؤ الدین میں 61 فیصد اور نارووال میں 57 فیصد پرائیویٹ سکولز ہیں۔

پنجاب کے صرف پانچ اضلاع میں سرکاری سکولز کی تعداد پرائیویٹ سکولز کے مقابلے پر زیادہ ہے۔ ضلع لیہ میں سرکاری سکولز 68 فیصد، رحیم یار خان میں 64 فیصد، بہاولنگر میں 59 فیصد، خوشاب میں 58 فیصد اور اٹک میں 57 فیصد سرکاری سکولز ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سکولز میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد ایک کروڑ جبکہ سرکاری سکولز میں ایک کروڑ دس لاکھ طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ سرکاری سکولز میں اساتذہ کی 3 لاکھ 43 ہزار 458 اور نجی سکولز میں اساتذہ کی تعداد پانچ لاکھ 67 ہزار تین ہے۔

سروے رپورٹ کے علاوہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ابھی بڑے بڑے پرائیویٹ سکولز کی برانچز کے اعداد و شمار اس رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔

سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں بیکن ہاؤس سکولز کی تعداد 20 ہے جبکہ بیکن ہاؤس کی ویب سائٹ کے مطابق صرف لاہور میں ہی ان کی تعداد30 ہے۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارم پروگرام کے سروے کے مطابق سپرٹ سکول کی لاہور میں 28 برانچز ہیں جبکہ سکول کی ویب سائٹ کے مطابق لاہور میں یہ تعداد37 ہے۔

اسی طرح دار ارقم سکول کی لاہور میں 70 شاخیں ہیں جبکہ سروے رپورٹ میں ان کی تعداد 47 بتائی گئی ہے۔ سروے رپورٹ میں بہت سارے پرائیویٹ سکولز کو شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔

پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام کے ڈائریکٹر آصف علی فرخ کا کہنا ہے کہ سروے کرنے کا ٹاسک کنسلٹینسی فرم کو دیا گیا تھا اور انہیں ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ تمام پرائیویٹ سکولز کا ڈیٹا جمع کرنا لازمی ہے۔

یہ اعداد و شمار صرف سکولز کی تعداد تک محدود نہیں ہیں بلکہ میڑک امتحانات میں نجی سکولوں کے طلباء کے نتائج بھی سرکاری سکولز سے قدرے بہتر ہیں، پنجاب میں میڑک کے گزشتہ سال کے امتحان میں پرائیویٹ سکولز کے طلباء نےصوبے بھر میں 102 میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ سرکاری سکولز کے طلباء نے صرف 38 میڈلز حاصل کیے ہیں۔

اسی طرح پرائیویٹ سکولز کے طلباء کی پوزیشن لینے کی شرح بھی سرکاری سکولز سے زیادہ ہے جو کہ حکومت پنجاب کی تعلیمی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.