دہلی گورنمنٹ بوائز کالج، پرنسپل زاہد احمد عہدے سے برطرف

  • March 9, 2018 11:43 am PST
taleemizavia single page

کراچی: سید محمد عسکری

دہلی گورنمنٹ بوائز کالج کو ڈگری کالج بنوانے والے پرنسپل 19 گریڈ کے پروفیسر زاہد احمد کو اچانک عہدے سے ہٹا کر خاتون پروفیسر کو بوائز کالج کا پرنسپل مقرر کر دیا گیا ہے۔

زاہد احمد کو ایسے وقت پر ہٹایا گیا ہے جب وہ پرنسپل کی نشست پر انٹر بورڈ میں بورڈ آف گورنر میں پرنسپل کی نشست کے لئے انتخاب لڑ رہے تھے۔ دہلی کالج بوائز کالج ہے جہاں کا حیرت انگیز طور پر خاتون اسماء نور کا بطور پرنسپل تقرر کیا گیا ہے۔

پروفیسر زاہد کو پرنسپل کے عہدے سے ہٹا کر اسی کالج میں بطور ایسوسی ایٹس پروفیسر تعینات کیا گیا ہے۔

گورنمنٹ دہلی بوائز کالج کا شمار کراچی تین ٹاپ کالجوں میں ہوتا اور یہ کالج طویل عرصے سے صرف انٹر تک تعلیم دے رہا تھا تاہم ہٹائے گئے پرنسپل پروفیسر زاہد احمد کی کوششوں سے اسے ڈگری کالج کا درجہ ملا تھا جس کی منظوری باقاعدہ سیکرٹری کالج ایجوکیشن پرویز سیہڑ نے دی تھی۔

پروفیسر زاہد احمد کے مطابق ان کا قصور یہ تھا کہ اسلامیہ کالج اور عائشہ باوانی کالج کو بچانے کے لئے متحرک تھے اور ان کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کر رہےتھے اور چند ماہ میں انہوں نے دہلی کالج کو کراچی کا نمبر ون کالج بنا دیا تھا جس کے بعد کالج کو ڈگری کالج کا درجہ بھی مل گیا تھا تاہم جب انہوں نے انٹر بورڈ کراچی میں پرنسپل کی نشست پر انتخاب لڑنے کی جرأت کی تو انہیں فارغ کر دیا گیا۔

سیکرٹری کالج ایجوکیشن پروفیسر سیہڑ کا کہنا ہے کہ زاہد احمد کو ہٹانے کے لئے انہوں نے سفارش نہیں کی اور انہیں بھی نوٹیفکیشن دیکھ کر علم ہوا۔

واضح رہے کہ یہ نوٹیفکیشن چیف سیکرٹری رضوان میمن کی جانب سے جاری ہوا ہے جو خود سیکرٹری تعلیم سندھ کےعہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور اپنے اصولی موقف کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتے ہیں اور صوبے کی تعلیم کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.