پمز کو ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے الگ کرنے کا بل کل منظورہوگا

  • October 24, 2017 12:04 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد

پمز کو ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے الگ کرنے کا بل منظوری کے لیے کابینہ ڈویژن کو ارسال کیا گیا ہے جس پر آج کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے قانون سازی نے پمز اور شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کی انتظامی علیحدگی کا بل کابینہ کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سیکرٹری کابینہ سے ملاقات بھی کی۔

قبل ازیں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے پمز ہسپتال کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے انتظامی طور الگ کرنے کے بل کی منظوری دیدی۔ کابینہ کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون زاہد حامد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی خواجہ ظہیر ، سیکرٹری کابینہ ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،سیکرٹر ی قانون اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔

کمیٹی کے اجلاس میں وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کمیٹی ممبران کو بریفنگ دی اور بل سے متعلق سوالوں کے جوابات دئیے ڈاکٹر طارق فضل کی خصوصی درخواست پر یہ معاملہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور بل کے تمام پہلووں پر تفصیلی گفتگو کے بعد بل کو کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔

دوسری جانب ملازمین نے کابینہ اجلاس میں پمز کو یونیورسٹی سے الگ کرنے کے ترمیمی بل کی منظوری نہ دینے پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ ملازمین کہتے ہیں کہ اگر منظوری نہ ہوئی تو پورے ہسپتال کو بند کر نے اور پارلیمنٹ ہائوس کے گھیرائو کی کال دینگے ، اس کا اعلان ہفتہ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد (پمز ) کو یونیورسٹی سے الگ کرنے کے مطالبے پر ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل سٹاف و ملازمین کی ہڑتال کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.