ادب اور امن کا جامعات سے اُدھورا رشتہ

    May 1, 2017 2:28 pm PST
taleemizavia single page

عامراسماعیل

ارسطو نے کہا تھا کہ جنگ جیتنا اہم نہیں امن قائم کرنا اہم ہے ، حیات انسانی کی اجتماعی جد وجہد کا ادراک اور اس جد وجہد میں حسب توفیق شرکت زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا تقاضا بھی ہے۔

یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اسلئے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں ، اس کا فن ایک دائمی کو شش ہے اور مستقل کا وش بھی ، اس کو شش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی تو فیق اور استطاعت پر ہے لیکن کو شش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی ، افلا طون اور ارسطو سے لے کرآج تک کوئی ایسا دور نہیں گزراجب دنیا سے شر کے خاتمے اورقیام امن کیلئے ادیب نے اپنا بھر پور کردار ادا نہ کیا ہو۔

ہر دور میں یہ بات کہی اور سنی گئی ہے کہ دنیا تباہی کے دھانے پر ہے اور یہ بات سچ بھی ہے لیکن پھر ہم اس دنیا کو سلامت بھی دیکھتے آرہے ہیں ، کیسے ؟ اسکا جواب یہی ہے کہ ضرور ایسی طاقتیں بھی کار فرما ہیں جو دنیا کو بچانے اور امن کے قیام کیلئے انتھک محنت اور کوشش میں مصروف ہیں۔

ان طاقتوں میں سر فہرست آسمانی رہنمائی ہے پیغمبر آتے رہے اور اور اپنے پر آشوب ادوار میں مثبت تبدیلیاں لاتے رہے ، آسمانی طاقت کے بعد سب سے بڑی رہنمائی ادب ہی کی رہی ہے اس سلسلے میں ادیب کے کام اور قربانیوںکو کسی صرت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کبھی سقراط زہر کا پیلا لہ پیتا نظر آتا ہے تو کبھی لورکا زیر خنجر کبھی دنیا کا عظیم ترین مصلح ﷺ طائف کی گھا ٹیوں میں سر سے پاﺅں تک لہو لہان ہونے کے باوجود دعاگو برداشت اور تحمل سے کام لیتا پر امید نظر آتا ہے۔

کبھی عیسی جیسا پیغمبر مصلوب ہوتا نظر آتا ہے تو کبھی منصور حلاج سچائی کی علم برداری کرتے تختہ دار پر جان دیتا ہے ، ایک طویل فہرست صو فیاءاولیاءاور علماءکی بھی نظر آتی ہے جنہوں نے اپنی حیات میں امن رواداری برداشت ایثار اور قربانی کی عظیم مثالیں قائم کیں۔

انہوں نے اپنے اخلاق اور نرم رویوں سے معاشرے میں اپنے حصے کی شمع جلائی ، ان اولیاءاور صو فیاءمیں ہر ایک کی تصنیفات کی ایک لمبی فہرست موجودہے اگر ہم برصغیر کے سے باہر باقی دنیا کی بات کریں تو ہمیں مدر ٹریسا انسانیت کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی نیلسن منڈیلیا انسانی حقوق کی بحالی کیلئے قید و بند کی طویل تکالیف اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

المختصر کہ ادیب معاشرے میں قیام امن کیلئے ہر پر آشوب دور میں سرگرم عمل رہا قیام امن کیلئے کبھی کسی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا ، ہم معاشر ے میں عدم برداشت قتل وغارت اور فسادات اور انارکی کی فضا میں آج سے سانس نہیں لے رہے۔

عالم انسانی میں کائنات کے سب سے بڑے امن کے پیامبر نبی آخرالزماں ﷺ کی حیات میں بھی بنی نوع انسان نفسا نفسی اور بے رہ روی کا شکار تھا عورتوں کو زندہ دگور کرنا اور امن کے گھر کعبہ میں برہنہ طواف لوگوں کا معمول تھا یہ آپ کی شخصیت کا ہی وصف تھا کہ آپ نے برداشت اور تحمل سے کام لیا اور انہیں امن بھائی چارے اور رواداری کی طرف لانے کیلئے اپنی حیات مختص کی۔

میثاق مدینہ کو آج بھی مشرق اور مغرب میں بسنے والا ہر ذی شعو ر امن کا بہترین چارٹر تصور کرتا ہے بس یہی نہیں اپنے آخری خطبہ حجتہ الوداع میں آپ نے تمام تعصبات تمام ذات پات اور نسل کے جھگڑوں کو اپنے پاﺅں تلے روند کر دنیا کو امن اور مساوات اور رواداری کا پیغام دیا اور فرمایا کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کو ئی فو قیت نہیں پھر چشم فلک نے ملی وحدت اور یگا نگت کی وہ عظیم مثال دیکھی جسکی نظیر کہیں نظر نہیں آتی۔

آج اسی امر کی ضرورت ہے کہ ہم جس خطہ ارض پر سانس لے رہے ہیں جس معاشرے میں اپنا وجود قائم و دائم رکھے ہوئے ہیں جس دھرتی سے ہمارا مان وابستہ ہے اس میں نفرت کے بیج بونے کی بجائے پیار اور محبت کی فصل کو بوئیں ، وطن عزیز آج جس پیرائے پر کھڑا ہے اس میں اندرونی نادیدہ قوتوں کا ذیادہ عمل دخل ہے ، ہم تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جارہے ہیں۔

ایک قوم ایک ملک اور ایک سلطنت کا خواب قصہ پارینہ بن چکا ہے ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے عفریت نے دن بدن اپنے پنجے گاڑنے کا عمل تیز تر کردیا ہے ، برداشت امن اور قربانی جیسے اوصاف دم توڑ رہے ہیں ، دہشت گردی کی لہر نے ہر گلی ہر کوچہ ہر شاہراہ کو خون آلود کردیا ہے۔

مذہب کے نام پر ان بے رحم درندوں نے معصوم اور بیگناہوں کو چن چن کر نشانہ بنایا لیکن اب بھی راکھ کے ڈھیر میں چنگاریاں خوابید ہ ہیں جو محلات کو خاکستر کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں اگر ہم واقعی امن کی جانب مثبت کوشش کرنا چاہتے ہیں اور وطن عزیز سے دہشت ،خوف ،انتہاہ پسندی کی فضا کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو تعلیمی درسگاہیں اور علم و آشتی کی مراکز جامعات بہترین ذریعہ ہیں۔

پاکستان میں اس وقت سرکاری جامعات کی تعداد 183ہے جنکے ملک بھر میں 109کے لگ بھگ کیمپسسز بھی ہیں دو ہزار پندرہ کے اعد وشمار کے مطابق جامعا ت میں پڑھنے والے طلباءو طالبات کی تعداد 1.205ملین ہے۔

حالیہ عبد الولی خان یونیورسٹی اور جامعہ پنجاب کے واقعات نے ہمیں جامعات میں دیر پا اور پائید ار امن کیلئے انتہائی قدم اٹھانے اور ایسے واقعات سے نمرد آزما ہونے پر مجبور کردیا ہے ، 80ءکی دہائی میں طلباءکے کندھوں پر سفر کر کے اقتدار کے ایوانوں میں آنیوالے سیاستدانوں نے طلباءکو اپنا دم چھلہ بنا کر جامعات میں کلا شنکوف اور تشدد کی سیا ست کا آغا ز کیا جس کے بعد اس تاحال جامعات غیر یقینی اور عدم برداشت کی فضا سے دو چار ہیں۔

ہمارے زوال کی ایک اہم وجہ بد قسمتی سے ہم نے تعلیم صرف کتابوں تک محدود کردی ہے اپنے اخراجات کی رسید جسے ڈگری کا نام دیا جاتا ہے کا حصول اور طلب بڑھ چکی ہے جبکہ اصل مقصد تربیت طاق نسیان کی زینت بن چکا ہے ، جگہ جگہ ڈگریوں کی فیکٹریاں تعلیم فروخت کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

لیکن تربیت کرنے والی کوئی ” صفہ “ اکیڈمی نظر نہیں آتی جہاں امن ،تحمل ، برداشت اور صبر کا پیغام دیا جاتا ہو جہاں رواداری اور مساوات کا درس دیا جاتا ہو جہاں ایک دوسرے کی بات کو سننے اور طلباءکو مکالمے کی جانب راغب کیاجاتا ہو ،جہاں طلباءہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے ایک صحتمندانہ معاشرے کی بنیا د رکھ سکیں۔

جہاں ہر قبیلے کے ثقافتی رنگوں کو قبول کیا جا تا ہو ، یقینا ایسا ٹریننگ سینٹر ایک بھی نہیں۔

لیکن دیر آید درست آید خوش آئند بات یہ ہے کہ پنجاب ہائیر ایویجو کیشن کمیشن نے اس کام کا بیڑہ اٹھا یا اور جامعات اور میں امن رواداری برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے ایک ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں لایا جس نے قلیل عرصہ میں حالیہ دنوں دو بڑے پروگرامز کے ذریعے جامعات میں مثبت امن کی جانب اہم اور بڑی کا وش کی جسمیں اولا تاریخی دو روزہ ملتان ادبی میلہ کا انعقاد کیا گیا بہا والدین زکریا یونیو رسٹی میں اس دو روزہ ادبی میلہ میں ملتان کی ثقافت اور تاریخ کو پہلی مرتبہ اجاگر گیا جہاں سینکڑوں کتابوں کی فروخت اور طلبہ کی دلچسپی اس بات کی غما زی کرتی ہے کہ جامعات میں اس طرح کے ادبی میلے نو جوان نسل کو براہ راست مثبت رجحانات کی طرف لانے اور بین الصو بائی ثقافت کے فروغ کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔


Amir Ismail

عامر اسماعیل انجمن طلباء اسلام (اے ٹی آئی) لاہور ڈویژن کے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *