پاکستان کے ہندو ان پڑھ کیوں ؟

    October 20, 2016 12:11 pm PST
taleemizavia single page

نور الہدیٰ

پاکستان میں تعلیمی محاذ پر کام کرنے والے تمام طبقاتِ فکر ”تعلیم سب کیلئے“ کا نعرہ تو ایک عرصہ سے لگارہے ہیں لیکن عملی محاذ پر تاحال اس حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔

عام آدمی ، معاشرے کے پسے ہوئے اور سفید پوش طبقات تو ایک طرف ، اقلیتوں کیلئے بھی تعلیم و صحت کی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت مسلمانوں کے بعد عیسائی اور ہندو قومیں اقلیتوں کی صورت میں آباد ہیں ۔
عیسائی پہلی اور ہندو دوسری بڑی اقلیت ہے جبکہ ہندو مت اسلام اور عیسائیت کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا مذہب بھی ہے ۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کی تعداد 1.6 فیصد جبکہ ہندو بھی تقریباً اسی تناسب سے آباد ہیں ۔

پاکستان میں عیسائی کمیونٹی کو بالعموم سہولیات اور معاونت حاصل ہیں اور عالمی ادارے بھی اس کمیونٹی کیلئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

ملک میں عیسائیوں کیلئے الگ اور بڑے بڑے تعلیمی ادارے موجود ہیں ، لیکن ہندو اقلیت کیلئے بالخصوص تعلیم جیسی بنیادی سہولت ہی ناپید ہیں ۔

یوں تو ہندو 6.68 بلین کے ساتھ دنیا کی کُل آبادی کا 13 فیصد ہیں اور ان کی تعداد سالانہ تقریباً 1.52 فیصد بڑھ رہی ہے۔ہندو پاکستان کی آبادی کا 1.7 فیصد ہیں اور اس وقت تک وہ پاکستان کی ترقی کے عمل میں 5.5 فیصد حصہ دار ہیں ۔

لیکن اس کے باوجود چاروں صوبوں میں ان کیلئے صحت ، تعلیم اور معاش کی صورتحال انتہائی بدتر ہے ۔ یہاں ہندوﺅں کی اکثریت غربت اور پسماندگی کی بدترین لہر میں جکڑی ہوئی ہے ۔

پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز میں سے بھی سوائے چند ایک کے کوئی بھی ہندوﺅں کیلئے کام نہیں کررہا ۔ جو چند ایک کررہی ہیں وہ محض مقامی تنظیمیں اور ادارے ہیں جو حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے قائم کیے گئے ہیں ۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 75 لاکھ سے زائد ہے تو اس میں اقلیتی بچے شمار نہیں کیے جاتے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے مذہبی عدم برداشت اور متشدد نظریات پائے جاتے ہیں ۔

ہندو والدین کو شکایات ہیں کہ ان کے بچوں کو عام مسلمانوں کے سکول میں حصولِ تعلیم کے دوران ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان تعلیمی اداروں میں مسلمان بچے ہندو بچوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے ، کھیلنے کودنے اور دیگر سرگرمیوں میں اپنے ساتھ شامل کرنے سے کتراتے ہیں ۔

وہ اپنے بچوں کیلئے ایسے سکول تلاش کرتے ہیں جس میں تعلیم و تعلم کے ستون فقط ہندو عقائد کی بنیاد پر ہوں ، اور جہاں انہیں زبردستی مسلمانوں کی مذہبی تعلیم دے کر اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش نہ کی جاتی ہو ۔

ہندو خاندان سالانہ بنیادوں پر دلبرداشتہ بھارت اور دیگر ممالک ہجرت کررہے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال 5000 ہندو عدم تحفظ و عدم مساوات کا شکار ہوکر پاکستان سے ہجرت کرتے ہیں ۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ان کے حقوق کو قدر حاصل نہیں تو بہتر ہے کہ وہ بھارت میں ہی سکونت اختیار کرلیں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نے ہندوؤں کی تعلیم کا بندوبست کرنے کا آغاز کیا ہے۔اس پراجیکٹ کا نام تعلیم سب کے لیے ہے۔

اس ضمن میں جنوبی پنجاب کے ہندوﺅں کیلئے بہاولپور اور رحیم یار خان میں ہندو کمیونٹی کے بچوں کیلئے الگ تعلیمی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کے منتظمین نے تعلیمی زاویہ کو بتایا ہے کہ انہوں نے پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب میں 100 سے زیادہ گھروں والے علاقوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہندوﺅں کیلئے مجموعی طور پر 3 الگ سکول قائم کیے ہیں ۔

رحیم یار خان میں مجموعی طور پر 220,518 جبکہ بہاولپور میں 67,818 ہندو آباد ہیں ، جن میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد کم و بیش مذکورہ تعداد کی نصف سے زائد ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد ادارے کی تعلیمی خدمات کا دائرہ کار اقلیتوں تک وسیع کرنا ، ملکی تعمیر وترقی میں ہندو برادری کو موثر کردارادا کرنے کے قابل بنانا ، تعلیم وتربیت سے ہندو بچوں کے اخلاق سنوارنا ، انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانا ، مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کرنا اور ہندوبرادری کو اس امر کااحساس دلانا ہے۔

یہاں انہیں اپنے مذہب اور تعلیم کے حوالے سے مکمل حق ، آزادی اور تحفظ حاصل ہوگا ۔ ہندو بچوں کیلئے شروع کیے جانے والے ان سکولوں میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب کے علاوہ ہندو مذہب سے متعلقہ کتب کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ ان سکولوں کا تمام سٹاف بھی ہندو مذہب سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔

ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عامر جعفری کے مطابق ان سکولوں میں تمام بچوں کو تعلیم بھی بالکل مفت دی جارہی ہے جبکہ اساتذہ کی تنخواہوں کے حوالے سے بھی ٹرسٹ اپنے وسائل پر بھروسہ کیے ہوئے ہے ۔

انہوں نے پسماندہ دیہاتوں کی مسلم آبادیوں کے ساتھ ساتھ نظرانداز غریب پاکستانی ہندوﺅں کو بھی خواندہ بناتے ہوئے ملکی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کیلئے اس پراجیکٹ کو ہندو آبادی والے دیگر علاقوں تک مرحلہ وار وسعت دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔


noor-ul-huda

نور الہدی سماجی کارکن ہیں۔ وہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے این جی او کے ساتھ عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں۔

  1. A rare good attempt. Islam teaches us to faciltate the minoties. Now, Govt must take initiative in this regard.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *