پروفیسرز کی دولت اور نئے علوم کی تخلیق

    April 20, 2017 10:27 am PST
taleemizavia single page

محمد بشارت

علم کی بنیاد پر ذاتی مفادات کی تکمیل ہو، اجتماعی ترقی کو انفرادی ترقی پر فوقیت دی جائے تو پھر سماج میں علمی ترقی جامد ہوجاتی ہے۔

اخلاق کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے اور رویوں کا تعلق انفرادی ذات سے اگر معاشرے کے اخلاق میں بگاڑ پیدا ہوجائے
تو پھر انسان کے انفرادی رویے بھی براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔

اخلاق سماجی روایات، رسوم، ضوابط پر منحصر ہوتے ہیں پاکستان کا سماج جب سے زوال پذیری کا شکار ہوا ہے تو یہاں اخلاق اور رویوں کی بحث مسلسل جاری ہے۔

اہل علم و دانش بسا اوقات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی اخلاق بگاڑ کا شکار ہیں اس لیے ہم انفرادی طور پر بھی بددیانتی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

سماج میں بسنے والے ہر طبقہ سے رویوں کا اظہار بھی مختلف ہوتا ہے کیونکہ ہر طبقے کی ذمہ داری کا دائرہ مختلف ہے جتنی بڑی ذمہ داری ہوگی اُتنا اعلیٰ رویہ پیدا ہونے کی توقع ہوگی۔

جدید انسانی سماج کی تخلیق میں جہاں معائدہ عمرانی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے وہیں پر اس سماج میں علم کے پھیلاؤ سے وابستہ افراد کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔

بھلا ایسا کیوں نہ ہو؟ آخر علم انسان کی ترقی کی ضمانت ہے بشرطیکہ علم نافع ہو، علم فاسد نہیں۔
ویسے بھی علم نافع کے نتیجے میں عاجزی و انکساری انسانی ذات کا حصہ بنتی ہے۔

لیکن اس علم کی بنیاد پر ذاتی مفادات کی تکمیل ہو، اجتماعی ترقی کو انفرادی ترقی پر فوقیت دی جائے تو پھر سماج میں علمی ترقی جامد ہوجاتی ہے۔ لاہور تہذیب و علم کا گہوارہ ہے اور یہاں پر بیس سے زائد یونیورسٹیاں اور چار سو زائد اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہونے کے باوجود نئے علوم کی تخلیق نہیں ہورہی۔

تو یہ پہلے درجے میں اساتذہ اور پھر طلباءپر سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔

دُنیا بھر میں یونیورسٹیاں جدید ٹیکنالوجی اور نئی ایجادات کا مرکز بن چکی ہیں اور انہیں جامعات میں انسانی جسم کی بیماریوں کے علاج سے لیکر اس کائنات میں چھپے خزانوں کی کھوج تک کے طریقہ کار کی دریافت کا مرکز یہی یونیورسٹیاں ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ہائر ایجوکیشن کمیشن)نے 2008ءمیں اسی سوچ کے تحت ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے لیے ایسا نظام متعارف کرایا جس کی بنیاد تحقیق اور صرف تحقیق تھی جس کے لیے ابھی 3ارب روپے اساتذہ پر خرچ کیے جارہے ہیں۔

ٹینور ٹریک سسٹم کا یہ منصوبہ تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں نافذ کیا گیا جس کے ضوابط طے کرنے کے بعد ان اساتذہ کو مالی طور پر خوشحال کرنے کے لیے اضافی پیسے دینے کا بندوبست ہوا۔

اس وقت ٹی ٹی ایس پروفیسر ایچ ای سی سے ماہانہ تنخواہ5لاکھ7ہزار روپے، ایسوسی ایٹ پروفیسر3لاکھ65ہزار625روپے جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر کو 2لاکھ64ہزار55روپے دیے جارہے ہیں۔

اتنی بھاری تنخواہ کے عوض اس پروفیسروں سے سال میں کم سے کم ایک ریسرچ پیپر لکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لیکن ٹیکسوں پر صرف سیاستدان ہی مزے نہیں لوٹ رہے بلکہ یہ ٹی ٹی ایس پروفیسرز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔

ان اساتذہ نے ایچ ای سی ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کیں اورنئے علوم کی تخلیق پر کام کرنے کی بجائے انتظامی ذمہ داریوں کو گلے لگا لیااورتحقیق کے نام پر ملنے والے پیسوں سے اپنی زندگیوں کو پُرتعیش کرنے میں مگن ہوگئے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایسے تمام اساتذہ کے خلاف انضباطی کارروائی کی ٹھان لی ہے جس سے ان کی نیندیں اُڑ گئی ہیں اور یہ اب کوئی قانونی جواز سے بچنے کی کوششوں میں ہیں۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے تو چار ڈینز ہی ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت ہیں جبکہ ٹی ٹی ایس پروفیسر رجسٹرار، ڈین، کنٹرولر حتیٰ کہ شعبے کا سربراہ بھی نہیں لگ سکتا۔

ٹی ٹی ایس پروفیسروں کو مارکیٹ سے تین گنا زیادہ تنخواہ دینے کا جواز صرف اتنا تھا کہ یہ علمی میدان میں پاکستان کو ترقی کی جانب لیکر جائیں۔

لیکن علمی ترقی کی بجائے یہ دولت سمیٹنے میں لگ گئے ہیں۔ان کی علمی ترقی صرف اگلے گریڈ میں ترقی حاصل کرنے کی غلام ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ٹی ٹی ایس کی تنخواہ اور انتظامی عہدے کا مزہ لینے والے اساتذہ کی گردنوں پر علمی احتساب کی تلواریں لٹکانے کا اعلان کیا ہے ۔

اب ذمہ داری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ دیکھیں کہ اُن کے یہاں کتنے ٹی ٹی ایس پروفیسر ریسرچ کے نام پر ملنے والے پیسوں کو حلال کر رہے ہیں اور کتنے پروفیسرز عوامی ٹیکسوں کے پیسوں پر ذاتی جائیداد بنانے کا کاروبار کر رہے ہیں۔

نئے علوم کی تخلیق کے نام پر یہ اساتذہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بیرون ممالک ریسرچ پیپرز پڑھنے کے نام پر الگ گرانٹس لیتے ہیں۔

جبکہ یونیورسٹیوں میں طلباءکی فیسوں سے جمع ہونے والے پیسوں سے فیکلٹی ڈویلپمنٹ گرانٹ کے نام پر الگ پیسوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور بیرون ممالک جو ریسرچ پیپرز پیش کر کے واپس آتے ہیں تو ان پیپرز کو خود اپنے طلباءکو دکھانے پر بھی شرم محسوس کرتے ہوئے انہیں چھپا لیتے ہیں۔

جامعات میں ابھی تک کوئی ایسی پالیسی نہیں ہے جس کے تحت یہ اساتذہ اپنے تحقیقی مقالوں کو پبلک کرنے کے پاپند ہوں اساتذہ اس پالیسی کا نہ ہونے کا بھر پور فائدہ لے رہے ہیں۔

درحقیقت دروخ گوئی اور فریب کی بنیاد بہت واضع ہے کہ ان اساتذہ کو فنڈز جاری کرنے سے پہلے ان کے ریسرچ پیپرز کی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان پر خرچ ہونے والے صرف تین ارب روپے کا ہی جائزہ لیا جائے تو تحقیق کے لیے ملنے والے ان پیسوں سے کتنا نیا علم پاکستان کی جامعات میں پیدا ہوا ہے؟

علمی بددیانتی کی داستان صرف یہیں نہیں ختم ہوتی بلکہ اس طویل داستان کے تمام کردار اساتذہ ہی ہیں سیاستدان طاقت کی بناءپر کرپشن کرتے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کے پروفیسرز علم کی بنیاد پر کرپشن کرتے ہیں۔

ٹینور ٹریک سسٹم کے نام پر ہونے والی کرپشن کو روکنے کے لیے اب ایچ ای سی کو اپنا شکنجہ مضبوط کرنا ہوگا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ٹی ٹی ایس پروفیسرز سے متعلق پالیسی کو بھی بدلنا ہوگا خاص طور پر کن شعبوں میں ٹی ٹی ایس پروفیسرز کی ضرورت ہے اس کی نشاندہی کرنا ضروری ہے کیا آرٹس اور سماجی علوم پڑھانے والے اساتذہ کو بھی ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت پانچ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دینے کی ضرورت ہے؟یا پھر یہ صرف پیسے بانٹنے کا کاروبار ہے۔

صرف انتظامی عہدوں پر ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے ٹی ٹی ایس پروفیسروں کو ہی احتساب کے کٹہرے میں نہ لایا جائے

بلکہ دیگر تمام ٹی ٹی ایس پروفیسرز جو قوم کے ٹیکسوں کے پیسوں سے تنخواہیں وصول کررہے ہیں ان کا بھی علمی آڈٹ ہونا چاہیے۔

ایچ ای سی کو اپنی پالیسیوں کو سخت کرنے کی ٹھوس حکمت عملی کو ترتیب دے کر ایسے اساتذہ کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
جو سال میں ایک ریسرچ پیپر لکھنے کے لیے جونئیر اساتذہ کا سہارا لیتے ہیں اور زبردستی اپنا نام ریسرچ پیپر میں لکھواتے ہیں، جامعات کا کام صرف کاغذ کے ٹکڑوں پر ٹھپے لگانا نہیں ہے جو صرف نوکری کا آخری سہارا ہو بلکہ اپنے حقیقی کردار پر عمل کرنا ہوگا۔

پاکستان میں علم کے نام پر ہونے والی کرپشن، بے ایمانی کو روکنے کے لیے سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے وگرنہ اس قوم کو پسماندگی سے نکال کر نالج اکانومی کی طرف لے کر جانا مشکل ہوجائے گا۔


  1. Totally disagree. Could you bother to tell the qualification of the author of this article? It is really surprising to hear from a person who really dont know anything about TTS, its salaries and ongoing issues. Author of this article should have consulted some TTS faculty before writing such article. At one point he is preaching others about morality, on the other he himself is ignorant about basics of morality. For the author’s kind information an assistant professor at early stage is paid only 130,000 PRK and every year he gets hardly one or two increments (one increment is around PKR 9000).. It will take about 4-5 years to reach to the amount mentioned by the author.

  2. Such an irresponsible piece of writing from Taleemi Zaavia. The writer didn’t even bothered to research or ask around people working on TTS in public universities and he himself is judging other people’s research. The salaries figures given here are totally wrong (for TTS assistant professor the salary is half than the mentioned here). The salary seems more than the BPS system but actually its less considering that TTS people won’t be getting any other benefits like Pensions etc. Even there job is not permanent (not even similar to Adhoc system). It will be a long debate on so called Facilties* (rather unfacilities) by HEC to TTS people. Actually it’s a perfect recipie for the onset of brain drain, and the writer has no idea what is he writing about and it’s shameful that Taleemi Zaavia has approved it.

  3. Wow bravo

    I wounder why did u mentioned the upper limit of salaries.

    Do u believe at least one third of faculty get this much salary.

    Do u know what r the research facilities available to faculty in foreign universities?

    Do u know tts faculty is forbidden to offer their expertise to industry to solve their real time issues.

    Do u know that only bps faculty decide how tts faculty should be guage and they r on same page with u

    Do u believe that Sceince revolution come in a blink of eye and do u know the beaurocatic hurdles?

    Do u know that 70 percent research do not give any product

    In the end do u guys want miracles like agha waqar invention which media highlighted.

    At the end I request the author to first do some scientific survey and then on its basis make some conclusion.

  4. بشارت صاحب، آپ نے ایک اہم ایشو پر تحریر کیا ہے. لیکن پڑھ کے یہ لگتا ہے، کہ آپ نے بہت سی چیزیں نظرانداز کی ہیں. مثلا ریسرچ کو پبلک کرنا. جو کہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے. ریسرچ پیپر تب تسلیم ہوتی ہے. جب وہ معیاری جرنل میں پبلش ہوتی ہے. ریسرچ میں آگے بڑھنآ ایک لمبا اور کٹھن سفر ہے.

    1. جناب اُس ریسرچ کو پبلک کرنے سے مراد یہ ہے کہ اساتذہ اپنی تحقیق کے اخذ کردہ نتائج اپنے طلباء کے ساتھ شیئر کریں مختلف اخبارات میں شائع کرائیں۔ میں آپ کو بیسیوں ایسے اساتذہ کے نام بتا سکتا ہوں جو اپنی تحقیق اپنے طلباء سے بھی شیئر نہیں کرتے۔ اور معیاری جرنل میں آرٹیکل شائع کرانا اگرچہ مشکل کام ہے لیکن یہ کام اساتذہ نے ہی کرنا ہے۔

  5. This work is a reflection of lack of knowledge of ther writer about the subject and its depth. Things are hugely different than the views of the writer.

    @taleemi zavia, are you reviewing the contents being published at your site. I think you are not!!

  6. تمام احباب کا مثبت تنقید کرنے پر شکریہ۔ پروفیسرز کا نئے علوم کی تخلیق میں مجموعی طور پر پاکستان میں کتنا حصہ ہے اس پر اعداد و شمار پر مبنی کوئی جوابی کالم لکھ دے تو میں مشکور ہوں گا۔ دوسرا یہ کہنا کہ ٹی ٹی ایس پروفیسرز کی تنخواہوں سے متعلق حقائق درست نہیں ہیں تو آپ ٹی ٹی ایس ورژن ٹو کا مطالعہ کر لیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں پروفیسرز کیا اپنی ذمہ داریوں کا تعین کر کے علم کے پھیلاؤ اور تخلیق میں مجموعی طور پر وہ حق ادا کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے؟ اس آرٹیکل کا مقصد کسی پروفیسر کی دل آزاری کرنا نہیں۔ اُن پروفیسرز کو سیلوٹ ہے جو آج بھی تندہی سے کام کرتے ہیں۔ آپ اس کالم کے رد میں ایک کالم لکھ دیں مجھے خوشی ہوگی مثبت مباحثہ کو آگے بڑھانے میں۔ ہمارے یہاں یونیورسٹیز میں اساتذہ کی سیاست کا محور ہمیشہ ذاتی ترقیاں اور مراعات رہا ہے۔ اس پر بے شمار کہانیاں ہر یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے ٹی ٹی ایس کا تو ورژن ٹو کے تحت اگر ٹی ٹی ایس اُستاد انتظامی عہدہ لیتا ہے تو یہ بنیادی خلاف ورزی ہے جس پر ایچ ای سی متعدد بار خطوط لکھ چکی ہے۔ شکریہ۔ محمد بشارت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *