طلباء یونین پر پاپندی محنت کش طبقے کو سیاست سے دور رکھنے کیلئے لگی

    September 5, 2016 5:13 pm PST
taleemizavia single page

حیدرآباد، سندھ

انٹرنیشنل یوتھ ورکرز موومنٹ حیدرآباد سندھ کے رہنما اختیار سومرو کہتے ہیں کہ محنت کش اور درمیانے طبقہ کی سیاست کے خاتمے کے لیے طلباء سیاست پر پاپندی لگائی گئی ہے۔

اختیار سومرو کا کہنا ہے کہ متوسط طبقے کے پاس سیاست میں داخل ہونے کا واحد راستہ طلباء یونین تھیں جسے ختم کر کے ریاست نے بنیادی انسانی حقوق توڑے ہیں۔

انٹرنیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ حیدر آباد کے تحت طلباء یونینز بحالی کی دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

دو ستمبر سے شروع ہونے والی اس مہم میں حیدر آباد کے سرکاری کالجوں یونیورسٹیوں کے طلباء اس دستخطی مہم کی مناسبت سے لگے کیمپ میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس مہم کا پہلا مرحلہ چار ستمبر کو ختم ہوا ہے تاہم اس کے بعد سندھ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اس دستخطی مہم کو شروع کیا جائے گا۔

سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سندھ، مہران یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لیاقت یونورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اور حیدرآباد کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء نے اس مہم میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے طلباء نے اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ ثبوت دیا ہے کہ وہ طلباء سیاست پر لگی پاپندی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

حیدرآباد پریس کلب کے سامنے لگے اس کیمپ میں انٹرنیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ حیدرآباد کےرہنما اختیار سومرو ، امجد فیاض گورڑ، زینت بھٹی،ترقی پسند راہنما کامریڈ وزیر لاکھو نے بھی شرکت کی۔

وزیر لاکھو نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے تحفظ اور حصول کے لئے تنظیم سازی کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے جبکہ ریاست نے تیس سالوں سے طلباء یونین پر پاپندی عائد کر رکھِی ہے۔

وزیر لاکھو کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ میں طلباء یونین پر پاپندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم آٹھ سال گزرنے کے باوجود اس پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔

حیدرآباد میں جاری اس تحریک کے رہنما امجد فیاض گورڑ کہتے ہیں کہ ریاست کو چلانے والوں نے درمیانے طبقے کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے طلباء یونین پر پاپندی لگوائی ہے۔

امجد فیاض گورڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ہمیشہ سیاست جاگیرداروں ،سرمایہ داروں، وڈیروں ،جرنیلوں، مراعات یافتہ طبقے اور دولتمندوں کے قبضے میں رہی ہے۔

امجد فیاض کہتے ہیں کہ طلباء یونین کے پلیٹ فارم سے سیاسی جماعتوں کو بڑے بڑے لیڈرز ملے ہیں۔

طلباء یونین پر پاپندی کے بعد تعلیم کی کمرشلائزیشن کا شکارہورہی ہے۔ منڈی کی اس معیشت کے نظام میں تعلیم کو بھی پراڈکٹ بنا دیا گیا ہے۔جس میں تعلیم بھی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کر دی گئی ہے۔

انٹرنیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے رہنماوں کے مطابق ریاست کو طلباء کے ساتھ دوہرے معیار کو چھوڑنا ہوگا۔

طلباء یونین اور طلباء کی سیاسی جماعتیں ہی دراصل حقیقی جمہوریت کی بنیادی نرسریاں ہیں۔ پاکستان میں قیادت کا جو خلاء پیدا ہو رہا ہے اس میں طلباء سیاست کا ختم ہوجانا بھی موجب بنا ہے۔

حیدرآباد سے شروع ہونے والی اس تحریک کے ذریعے حکومت سے تین مطالبات کیے گئے ہیں؛

فی الفور طلباء یونینز بحال کرکے انتخابات کرائے جائیں۔
سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری فوری طورپر منسوخ کی جائے ۔
طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ کرکے جدید سائنسی تعلیم کی ہر بچے کو فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *