محکمہ تعلیم سندھ کا بحران: چار سالوں سے 54 افسران کے عہدے خالی

    September 9, 2016 1:58 pm PST
taleemizavia single page

لاڑکانہ

محکمہ تعلیم سندھ میں دو ایڈیشنل سیکرٹریز کام کر رہے ہیں جبکہ محکمہ میں منظور شدہ ایڈیشنل سیکرٹریز کی تعداد نو ہے۔ ریحان اقبال بلوچ اور خادم حسین چنا بطور ایڈیشنل سیکرٹری فرائض نبھا رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم میں ڈپٹی سیکرٹریز کی 17 سیٹیں مختص ہیں جبکہ اس وقت صرف 3 ڈپٹی سیکرٹریز تعینات ہیں۔

صرف یہی نہیں سندھ کے محکمہ تعلیم کے پاس سیکشن آفیسر بھی دستیاب نہیں۔ سیکشن آفیسر کی 39 مختص سیٹوں پر صرف 9 سیکشن آفیسرز تعینات ہیں۔

سندھ کے سکولوں میں بیسوویں گریڈ کی 37 سیٹیں مختص ہیں جبکہ 32 سیٹوں پر اٹھارویں گریڈز کے افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

محکمہ تعلیم سندھ میں 4 سپیشل سیکرٹری کی سیٹیں مختص ہیں جبکہ صرف ایک سیٹ عالیہ شاہد بطور سپیشل سیکرٹری تعینات ہے۔ عالیہ شاہد اس وقت ایڈیشنل سیکرٹری کے ماتحت کام کر رہی ہیں۔

محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تمام ریجنز میں ایجوکیشن مینجمنٹ کے عہدوں پر دو ڈائریکٹرز کی سیٹیں مختص ہیں لیکن تاحال ان پر حکومت کی جانب سے تعیناتی نہیں کی جاسکی۔

اسی طرح تمام ریجنز میں چار چار ڈپٹی ڈائریکٹرز کی سیٹیں بھی مختص ہیں لیکن کسی ایک ریجن میں بھی ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا گیا۔ ریجنز کی سطح پر 50 ڈپٹی ڈائریکٹرز کی سیٹیں مختص ہیں۔

ذرائع نےبتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی عزیز ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو محکمہ تعلیم میں بطور سیکرٹری تعینات ہیں۔ ڈاکٹر فضل اللہ چار سال سے اس عہدے پر تعینات ہیں اور وہ ون مین شو کے تحت پورا محکمہ چلا رہے ہیں۔

سیکرٹری محکمہ تعلیم کی جانب سے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایڈیشنل سیکرٹری ریحان اقبال بلوچ کو سیکرٹری تعلیم نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور پروگرام آفیسر تعینات کر رکھا ہے۔

ریحان اقبال بلوچ عالمی ڈونرز ایجنسیوں کی جانب سے فنڈڈ تعلیمی پروگرامز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جبکہ قانون کے مطابق سیکرٹری تعلیم خود سے ایڈیشنل سیکرٹری کو پراجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات نہیں کر سکتا۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایجوکیشن مینجمنٹ کیڈر پر دو سال سے عمل درآمد نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے۔

ایجوکیشن مینجمنٹ کیڈر کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ رائٹ پرسن کو رائٹ پلیس پر انتظامی و تدریسی امور کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

محکمہ تعلیم سندھ میں انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں نہ ہونے ک باعث سکولز اور کالجوں کی پرفارمنس اثر انداز ہورہی ہے اور محکمہ کی کارکردگی دیگر محکموں کے مقابلے پر ناقص ہے۔

بشکریہ: ڈیلی ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *