پاکستان میں 87 پی ایچ ڈی پروگرام بند اور 38 اساتذہ بلیک لسٹ: ہائر ایجوکیشن کمیشن

    September 22, 2016 6:50 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل کردہ ماہرین کی ٹیم نے ملک بھر کی 171 جامعات میں جاری بی ایس آنرز، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کا جائزہ لیا۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کے مطابق اس ٹیم نے سرکاری و نجی جامعات میں جاری 293 پی ایچ ڈی اور 57 ایم فل کے جاری پروگرامز کا جائزہ لیا ہے۔

ان میں سے 31 پی ایچ ڈی اور 26 ایم فل کے جاری پروگرامز کو مطلوبہ معیار پر پورا نہ اُترنے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مختلف جامعات میں 56 پی ایچ ڈی اور 10 ایم فل میں نئے داخلوں کو بھی فی الحال روک دیا گیا ہے۔

وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سیکرٹیریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

ڈاکٹر مختار احمد نے میڈیا کو بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پنجاب میں بارہ ادارے کھولے گئے جن میں سے تین اداروں کو مطلوبہ ضوابط پر پورا نہ اُترنے کے باعث بند کرا دیا گیا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور آخری مرحلے میں ان یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ پرائیویٹ و سرکاری کالجوں میں جاری پروگرامز کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

میڈیا کے نمائندوں کو چیئرمین نے بتایا کہ 2006ء سے لے کر اب تک ایچ ای سی کو چربہ سازی یعنی پلیجرازم سے متعلق 198 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 160 شکایات کو نمٹایا گیا جبکہ 90 شکایات غلط ثابت ہوئیں۔

ڈاکٹر مختار احمد نے بتایا کہ پلیجرازم کی بنیاد پر یونیورسٹیوں کے 38 اساتذہ کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کے لیے 29 اضلاع میں نئے کیمپسز قائم کیے جاچکے ہیں۔
چیئرمین نے پاکستان میں سنٹر آف ایڈوانسٹد اسٹڈیز ان کلائمیٹ چینج قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

جس کے لیے سرکاری یونیورسٹیوں کے درمیان مقابلہ کرانے کے بعد جامعہ کا انتخاب کیا جائے گا جہاں یہ سنٹر قائم ہوگا۔

ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن ویژن 2025ء پر کام کیا جارہا ہے جس میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کے اہداف طے کیے گئے ہیں۔

جن یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام بند کیے گئے ہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ان کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *