مروجہ نظام تعلیم: دو انتہائیں

    August 28, 2016 4:02 pm PST
taleemizavia single page

عاصم قریشی
لیکچرر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول، ایبٹ آباد

پہلی قسط مدارس پر

مدارس میں پڑھایا جانے والا نظام ’درس نظامی‘ ملّا نظام الدین فرنگی محلی (متوفّٰی1748ء) کا تشکیل کردہ ہے۔

مدارس نہ صرف مذہبی تعلیم کے حصول کے مراکز ہیں بلکہ درحقیقت یہ اسلامی شعائر ہیں جو تاریخ اسلام کے صدر اول سے مسلمانوں میں مذہبی تعلیم کی فراہمی اور قرآن و حدیث کی ترویج کا ذریعہ رہے ہیں۔

اسلامی معاشرے میں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے کی وجہ سے ہم ان کو اسلامی شعائر میں شامل کرتے ہیں۔

اسلامی شعائر دراصل معاشرے میں وہ اعلیٰ مراکز ہوتے ہیں جو دین اسلام کی بنیادی روح کو معاشرے میں غالب رکھتے ہیں اور مہذب اسلامی عادات و خصائل کو پنپنے کا موقع و ماحول فراہم کرتے ہیں۔ تاریخ میں ان مراکز کا بڑا گرانقدر کردار رہا ہے۔

جن سے ہمہ جہت شخصیات فارغ التحصیل ہو کرانسان دوستی کے پیغام یا عملی نظام کی تقویت کا باعث بنتے رہے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلمانوں پر مسلط غلامی کے نظام نے جہاں سیاسی، معاشی، معاشرتی اوراخلاقی طور پر لاغر و کمزور بنا دیا وہیں دینی و مذہبی دائرہ میں غلامی کے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

دور زوال میں مذہب کی جامعیت کا پہلو پس منظر میں چلا گیا اور سطحیت پر مبنی ایک نیا تصورروشناس کروایا گیا۔

صرف انہی علماء، صوفیاء، قلم کاروں اور نمائندگان کو مذہبی رہنما کے طور پر پیش کیا گیا جو دین کا جزوی، فرقہ وارانہ و متشددانہ یا قنوطی تعارف پیش کرواتے ہیں۔

یہ امر قابل غور رہے کہ اجتماعی زوال نے صرف مذہبی تعلیم کے مراکز کو متاثر نہیں کیا بلکہ عصری تعلیم گاہوں کو بھی گدلا کیا اور سطحیت کے حامل طلباءفارغ ہوتے رہے لیکن ہماری آج کی گفتگو کا دائرہ کار صرف مذہبی درس گاہیں ہیں۔

مدارس میں پڑھایا جانے والا نظام ’درس نظامی‘ ملّا نظام الدین فرنگی محلی (متوفّٰی1748ء) کا تشکیل کردہ ہے۔

مسلمانوں کے غلبہ کے دور میں ان کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا جانے والے نصاب آج کم و بیش تین سو سال گزرنے کے باوجودانقلابی اصلاحات کا منتظر ہے۔

اس دور کے علمی و تحقیقاتی مضامین (فلسفہ، منطق، ریاضی وغیرہ) کو وقتی ضرورت کے تحت نصاب میں شامل کیا گیا تھا لیکن آج بھی جوں کے توں کسی اضافے اور نئی تحقیق کے بغیر موجود ہیں۔

انتہا یہ ہے کہ پاکستان میں رائج موجودہ درس نظامی میں مسلمانوں کے تشکیل کردہ علوم (سیرت رسولﷺ، تاریخ اسلام، جغرافیہ، ریاضی، علم المعیشت، علوم القرآن وغیرہ) بھی شامل نہیں ہیں جو کہ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

قرآن اور حدیث کو درس نظامی میں اصل اہمیت حاصل ہے، بقیہ علوم ان پرائمری علوم کے گرد محوّل ہیں۔

لیکن ان کی تدریس کا وہ بے معنٰی اور عجب طریقہ رائج ہے جس سے نہ پڑھنے والے کو فائدہ اور نہ پڑھانے والے کی تحقیق میں اضافہ کا باعث ہے۔

قرآن و حدیث کی تعلیم صرف چار فقہی مذاہب میں سے حنفی مکتب فکر کو نمایاں کرنے اور اس پر لگے بندھے دلائل دینے کے ساتھ وابستہ ہے۔

فارغ التحصیل طالب علم کے پاس حنفی مذہب کی حقانیت کو ثابت کرنے کے دلائل ہوں گے لیکن مستشرقین نے پچھلے دو سو سالوں میں جس میٹھے زہر کے ساتھ اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ان سے قطعی نا بلد ہوگا۔

طالب علم کو ماضی کے فرق باطلہ کا تعارف ہو گا (جو آج نسیاً منسیاً ہو چکے) لیکن آج کی باطل تحریکات میںاپنی ناواقفیت کی بنا پر بالواسطہ یا بلا واسطہ شامل ہو گا۔

قیام پاکستان کے ساتھ ہی سب سے بڑا المیہ دوہرے نظام تعلیم کی بقا تھا۔ تقسیم سے قبل نظام تعلیم کوعصری اور مذہبی تعلیم میں تقسیم کیا جانا قابل قبول تھا۔

لیکن اسلام کے نام پر بننے والے خطے میں اس تقسیم کو برقرار رکھنا اور ہمارے مذہبی رہنماؤں کا اس پر خاموش رہنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کیا انہوں نے دین اور دنیا کی تقسیم کو تسلیم کر لیا تھا؟ انہوں نے اپنے پاس آنے والے طلباءکے لئے عصری علوم کی تحصیل کی کیا بندوبست کیا؟مدارس سے فارغ التحصیل طلباءکی معاشی ضروریات کی تکمیل کے بابت کیا انتظام کیا گیا؟

دین اور دنیا کی بنیاد پر پیدا ہونے والی نئی نسل کے درمیان گہری خلیج کو کیونکر دور کیا جا سکتا تھا؟کیا مدارس سے فارغ التحصیل طلباءاس قابل ہو سکیں گے کہ ملکی نظام میں اپنا عملی کردار ادا کر سکیں؟

دین اور دنیا کی تقسیم کی بنیاد پر تعلیم حاصل کرنے والی پود کے ذہنوں میں اپنے مذہبی تفوق کے ساتھ دنیوی علوم کے حامل طلباءکے لئے ان کے اذہان میں حقارت اور نفرت کا جذبہ نمایاں رہا۔

ملکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دین و دنیا کی تقسیم کا نظام قائم کر کے معاشرے میں نمایاں طور پر دو طبقات قائم کئے گئے جو ایک دوسرے کے بارے میں حقارت اور نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں۔

سطحی مذہبی تعلیم کی وجہ سے مدارس سے فارغ التحصیل طلباءمذہب کا انتہائی سطحی علم رکھتے ہیں جو کہ نہ صرف جدید جیلنجز اور مسائل سے نبردآزما نہیں ہو سکتے بلکہ نت نئی ایجادات اور جدید تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

جدید سائنسی دور میں جس تیزی کے ساتھ معاشرتی اقدار و روایات تبدیل ہو رہی ہیں ان کے ساتھ اسلام کی رہنمائی مہیا کرنا اس سطحی تعلیم کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔

چنانچہ نئی نوجوان نسل مذہب کو اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ جان کر نہیں بلکہ صرف روح یا مذہبی جذبات کی تسکین کے لئے چند رسومات کی ادائیگی ضروری جانتی ہے۔

تربیت کسی بھی تعلیمی نظام کا سب سے اہم عنصر ہوتا ہے۔ تعلیم صرف معلومات کے حصول کا نام نہیں ہے بلکہ مقاصد کو پیش نظر رکھ کر نئی نسل کو عمدہ تربیت میں ڈھالنا چیلنج ہوتا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جب علمی سطح محدود ہو گئی تو تربیتی مقاصد اعلیٰ کیونکر رہ سکتے ہیں؟ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ محدود سطح کی جو تعلیم مدارس میں دی جا رہی ہے اس پر بھی بنیادی تربیت کا نظام موجود نہیں۔

صفائی ستھرائی اسلام کا بنیادی حصہ ہے لیکن مدارس میں عموماً بچوں کو ایسا ماحول نہیں دیا جاتا۔ میلے کچیلے کپڑے، بے ڈھنگی ٹوپیاں، وضع قطع میں عدم توازن، گندے کمرے اور غلاظت سے بھرپور واش رومز اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ ان طلباءکے اخلاق و تہذیب پر کس حد تک توجہ دی گئی ہے۔

آج مدارس میں غلامی کی روش کو ختم کرتے ہوئے ضرورت ہے کہ تعلیم نصاب پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو دور کے تقاضون کے ہم آہنگ کیا جائے۔

اس حوالے سے چند علماءکی کاوشیں نمایاں ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مذہب کے سطحی تعارف کی بجائے طلباءکو دین کی جامعیت سے متعارف کروایا جائے۔ تربیت کا فقدان منفی راستے کی بنیاد ہے۔ تھوڑے لیکن تربیت یافتہ طلباءپر فوکس کیا جانا بہت ضروری ہے۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *