یونیورسٹی میں قومی فساد کی سازش

    April 2, 2017 7:18 pm PST
taleemizavia single page

محمد نورالہدیٰ

پنجاب یونیورسٹی میں دو طلباء تنظیموں کے درمیان اکیس مارچ کو ہونے والے تصادم بظاہر کلچر ڈے پر حملہ تھا لیکن اب اس حملے کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کسی اور سمت جارہے ہیں بالخصوص سوشل میڈیا پر جس طرح سرد جنگ کا آغاز ہوا ہے اور ماتمی پوسٹوں اور فتوے بازیوں کے ذریعے جیسے صوبوں اور قوموں کو گالیاں دی جارہی ہیں اس سے نہ صرف صوبائیت اور عصبیت کو ہوا مل رہی ہے بلکہ دو قوموں کے درمیان خلیج ڈالنے اور آپس میں نفرتیں بڑھانے کا بھی سبب بن رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر مذکورہ دونوں تنظیمات کے حامی و مخالف نوجوان جذبات کی رو میں بہہ کر ملامت انگیز پوسٹوں کے ذریعے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے سے تکرار اور طنز کے وار کررہے ہیں اور کھلے انداز میں لعنت ملامت اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

یہ نوجوان اس امر سے بے نیاز ہیں کہ ان کا عمل صوبائیت کو تقویت دے کر ملک کو نقصان پہنچانے اور انتشار کا سبب بن رہا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے مذکورہ واقعہ کے بعد چند نوجوانوں کی زبان پر لایا گیا ”پنجاب کا جو یار ہے ، غدار ہے غدار ہے“ کا نعرہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ کس طرح آپس میں دوریاں پیدا کی جارہی ہیں اور کیسے قوم پرستی کے فروغ کی کوشش ہو رہی ہے۔

اگرچہ ذرائع ابلاغ نے مذکورہ صوبہ مخالف نعرے کو نظرانداز کرکے جانبدارانہ رپورٹنگ کی مثال قائم کی اور ایک طلبہ تنظیم کا میڈیا ٹرائل جاری رکھا ، مگر سوشل میڈیا پر دونوں گروپوں کے اطراف کا اخلاقی زوال بہرحال واضح دکھائی دے رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی سمیت ملک کے ہر تعلیمی ادارے میں طلبہ گروپوں میں ایسے پھڈے آئے روز کا معمول ہیں مگر کسی ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر بریکنگ نیوز دینا ، اس پر ٹاک شوز کرنا ، اخبارات میں مسلسل اسے ڈسکس کرنا ، کسی ایجنڈے کا شاخسانہ ہی ہوسکتا ہے ، وگرنہ اس سے قبل تو آج تک تعلیمی اداروں میں ہونے والے لڑائی جھگڑوں کو کبھی اتنی شدت کے ساتھ زیر بحث نہیں لایا گیا ۔ البتہ یہ ضرور ہوتا رہا ہے کہ ہر مرتبہ ایک طلبہ تنظیم کو ہدف بناکر اس کی واٹ لگائی جاتی ہے ۔ اب کی مرتبہ بھی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ۔

آخر یہ ڈور کہاں سے ہلائی جارہی ہے اور مذکورہ سانحہ کی پرورش کی ذمہ داری کس نے ادا کی ۔ اس پر سے اگرچہ پردہ اٹھ چکا ہے ، مگر ذرائع ابلاغ شاید ”بوجوہ“ اسے سامنے لانے سے گریزاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر نسلی اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر چند نام نہاد تجزیہ کار میدان میں ہیں اور انہیں مخالف پراپیگنڈا کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ تاکہ وہ لسانی بنیادوں پر لاشیں گرائیں اور حالات کو ایک خاص سمت لے جائیں ، جہاں ”نادیدہ قوتوں“ کی خواہشات کی تکمیل ممکن ہوسکے ۔

ہم آج جس نہج پر ہیں ، کہ چاروں اطراف سے ہمارے خلاف سازشیں ہورہی لسانی بنیادوں پر ملک تقسیم ہورہا ہے اور اس کا ادراک بھی نہیں ہونے دیا جارہا ۔ صوبوں بالخصوص پشتونوں کا حق مارنے پر مباحثہ ہورہا ہے تاہم اس حقیقت سے کنی کترائی جارہی ہے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد اور حصول معاش میں مصروف ہے حتیٰ کہ افغانستان سے بھی لوگ ہجرت کرکے بیشتر شہروں میں آباد ہیں ، یوں پاکستان کا ہر شہر ان مہمانوں کا کفیل ہے۔

بلکہ پنجاب نے تو این ایف سی ایوارڈ میں بھی اپنا حصہ کاٹ کر سب سے زیادہ رقم بلوچستان اور کے پی کے کیلئے مختص کی ہے ۔ اس کے باوجود نفرتیں پھیلانے اور آپس میں لڑانے کیلئے ایک مخصوص طبقے کی جانب سے کبھی صوبوں کے ساتھ زیادتی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے تو کبھی کوئی اور مسئلہ بناکر انہیں آپس میں لڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کبھی ہمارے نصاب تعلیم میں ایسا مواد شامل کردیا جاتا ہے جس سے ہمارے ذہنوں میں ایک دوسرے کے بارے میں منفی باتیں پیدا ہوں۔ تو کوئی نیا ، اسلامی و خوشحال ، ترقی یافتہ ، آزاد ، انقلابی ، فلاحی ، جمہوری یا سیکولر پاکستان کا نعرہ بلند کرتا ہے ۔

غرض ہر پارٹی ، ہر گروہ وطن عزیز کو اپنے انداز میں ڈھال کر اپنے مفادات کا حصول چاہتا ہے۔ اپنے اپنے پاکستان کی اس کھینچا تانی نے وطن عزیز کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ آج ہم ہر طرف سے مایوسیوں میں گھرے ہوئے ہیں ۔ بدقسمتی سے یہاں سیاست ، اصلاح کا نام نہیں رہی ۔ یہاں صوبائیت ، لسانیت ، عصبیت ، ضمیر فروشی اور قوم پرستی کی سیاست کی جارہی ہے ۔

ہم بحیثیت عوام پہلے ہی استحصال کا شکار ہیں ۔ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم اپنی منزل اور ترقی سے محروم ہیں ہم قوم نہیں ، اک ہجوم بن کر رہ گئے ہیں اور کسی منتشر معاشرے کو اکٹھا کرنا یوں بھی نہایت مشکل کام ہے ۔ اس نوک جھونک اور تیرے میرے پاکستان کی کھینچا تانی میں ہم موجودہ پاکستان کو بھی کھو رہے ہیں ۔

ہمارے مسائل کا حل صرف اور صرف اتحاد اور یکجہتی میں پنہاں ہے مگر اپنی کوتاہیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم غلطیوں پر غلطیاں دہراتے چلے جارہے ہیں ۔

نوجوان وطن عزیز کا نصف سے زائد حصہ ہیں اور انہی سے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ان کا جذبہ بلاشبہ جوان اور خون گرم ہوتا ہے ۔ لیکن اگر یہ تسلط اور جبر کی باتیں کریں گے تو اتحاد اور یکجہتی کو آنچ آئے گی ، جو ہم کسی صورت ایفورڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔

لہذا ، مذکورہ حالات ، شرپسندوں کی سازشیں اور سوشل میڈیا کے محاذ پر لڑتے خودساختہ ”دانشور مجاہدوں“ کی اس ساری صف بندی میں دائیں بازو کے گروہوں کو احتیاط اور حکمت سے کام لینا ہوگا اور شائستگی ، صبر ، استقامت کا دامن تھامے رکھ کر لوگوں کی ذہن سازی کرنا ہوگی۔

المیہ تو یہ بھی ہے کہ ملکی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے کیلئے شرپسند حلقے زیادہ استعمال بھی نوجوانوں کا ہی کرتے ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی کے حالیہ واقعہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نسلی ، علاقائی اور لسانی فتنوں نے دائیں بازو کی ایک تنظیم کے خلاف محاذ کھولا۔ اس واقعہ کے ذریعے ایک سوچ کو دوسری سوچ سے لڑایا گیا ہے ۔ نتیجتاً جہاں دونوں اطراف سے شخصیت پرستی شروع ہوئی ہے ، وہیں اخلاق ، دلیل ، تہذیب سے عاری گفتگو کرتے ہوئے اعتدال کا توازن بھی کھو یا گیا ہے ۔ نفرت کی اس آگ پر ابھی سے پانی نہ ڈالا گیا تو بہت نقصان ہوگا ۔

اس ضمن میں یہ امر بھی ضروری ہے کہ اکیس مارچ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے ۔ پنجاب یونیورسٹی نے طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر پاپندی عائد کر کے بہت بہترین فیصلہ کیا ہے ۔ اگر یہ فیصلہ بہت پہلے ہوجاتا تو کوئی بھی گروہ آج اپنے اپنے پروگرامات کے نام پر یونیورسٹی میں اپنی موجودگی اور برتری ثابت کرنے یا قوت ، رسائی ، دسترس اور انتظام کی جنگ نہ لڑرہا ہوتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ طلباءکو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ڈنڈے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ ہم اپنا کردار بدلنے پر آمادہ نہیں ۔ محبت اور تعاون کی زبان میں بات کرنے والی انتظامیہ اب ہمیں راس نہیں آتی ۔ اسی لئے تعلیمی اداروں میں ہر گروپ اپنی من مانی کرتا ہے ، جس کی وجہ سے معاملات بگاڑ کی طرف جاتے ہیں۔

بہرحال اگر حکومت تعلیمی اداروں میں امن قائم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے تو یونین الیکشن کی جانب توجہ دے اور مطمئن رہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں اور لوگوں میں شعور آچکا ہے ، بالخصوص تعلیمی اداروں میں روزمرہ بنیادوں پر جھگڑے دیکھنے والے طلباءکیلئے فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ انہوں نے کس کو اپنی قیادت کیلئے چننا ہے۔

لہذا ضروری نہیں کہ جیت اسلامی جمعیت طلبہ کی ہو ، کیونکہ جمعیت کیلئے اب مقابلہ آسان نہیں ہوگا ، اسے اپنا امیج بحال کرنے کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے ۔ پس حکومت خاطر جمع رکھے اور یونین الیکشن پر توجہ دے تاکہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک کیا جاسکے۔

نیز طلباءونگز کو بھی غیر سیاسی کیا جائے تاکہ یونین کا حقیقی امیج بحال ہوسکے ۔ اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر پائیدار امن کی خاطر ایک بڑا قدم اٹھاناہوگا ، بڑا فیصلہ کرنا ہوگا۔


noor-ul-huda

نور الہدی سماجی کارکن ہیں۔ وہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے این جی او کے ساتھ عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *