پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں 9 ہزار سرکاری سکولز بند

  • April 10, 2018 12:41 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: عاصم قریشی

پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے باعث سرکاری سکولوں کی مسلسل بندش کی جارہی ہے اور پرائیویٹ سکولوں کو نوازنے کیلئے صوبے میں 9 ہزار 118 سرکاری سکولز بند کر دیئے گئے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مسلم لیگ نواز نے جب دو ہزار آٹھ میں حکومت سنبھالی تو اُس وقت پنجاب میں سرکاری سکولوں کی تعداد 62 ہزار 198 سرکاری سکولز تھے جو اب دو ہزار اٹھارہ میں کم ہو کر 52 ہزار 388 ہوگئے ہیں۔

یوں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران پنجاب میں 9 ہزار 118 سرکاری سکولز بند کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت میں اب لڑکیوں کے سکولز 33 ہزار 187 سے کم ہو کر 24 ہزار 946 ہو گئے ۔ لڑکوں کے سکولوں کی تعداد 29 ہزار گیارہ سے کم ہو کر 27 ہزار 442 ہو گئی ہے۔

پنجاب میں صرف 719 ہائر سیکنڈری سکولز باقی رہ گئے ہیں۔

پنجاب میں دو ہزا آٹھ میں سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ کی تعداد 3 لاکھ چار ہزار 224 تھے جبکہ اب یہ تعداد تین لاکھ چورانوے ہزار 473 ہوگئی ہے۔

پنجاب میں اب ہائی سکولوں کی تعداد چھ ہزار 667، مڈل سکولز 8 ہزار 290، پرائمری سکولوں کی تعداد 36 ہزار پچاس رہ گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے سکولوں کو پرائیوٹائزڈ کرنے کے لیے پبلک سکول سپورٹ پروگرام لانچ کر رکھا ہے اس پروگرام کو حکومت کے مشیر تعلیم برطانوی شہری سر مائیکل باربر کی سفارش پر شروع کیا گیا تھا۔

حکومت نے اس پروگرام کے تحت اب تک 4 ہزار 276 سرکاری سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کر دیا ہے اور اب ان سکولوں کی نگرانی حکومت کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران سرکاری سکولوں کی بندش پر ماہرین تعلیم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.