حکومت کاعدم اعتماد، کھلی کچہری سے وی سی جامعہ پنجاب کو باہر نکال دیا

  • October 31, 2017 10:54 am PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

پنجاب کے وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے بطور پرو چانسلر پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کھلی کچہری لگائی اور اس دوران یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامی افسران اور طلباء کے ساتھ ملاقاتیں کیں، یونیورسٹی کے تعلیمی و انتظامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تعلیمی و انتظامی مسائل پر یونیورسٹی کے اساتذہ سے آزادانہ رائے جاننے کے لیے قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین کو کمرہ اجلاس سے باہر بھیج دیا گیا اور کھلی کچہری کے دوران ڈاکٹر ظفر معین ناصر اپنے دفتر تک ہی محدود رہے۔

وزیر ہائر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے مہینے میں ایک دن بطور پرو چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے مسائل پر کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے میں آج پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں سارا دن گزارا۔ وزیر ہائر ایجوکیشن نے یونیورسٹی کی تمام کلیات کے ڈینز اور کالجوں کے پرنسپلز کے ساتھ کھلی کچہری کا آغاز کیا اور بطور ڈین ان کی تعلیمی و انتظامی امور پر کارکردگی پر بریفنگ لی۔

اس دوران پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر نظام الدین بھی موجود تھے۔

وزیر سید رضا علی گیلانی نے ڈینز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ یونیورسٹی کو کیو ایس رینکنگ میں شامل کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور وہ اپنی فیکلٹی کے تمام شعبہ جات میں اساتذہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور تعلیمی اہداف پر روڈ میپ تیار کریں۔ اُنہوں نے ڈینز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ شعبہ جات میں اساتذہ کی سیاست اور انتقامی کارروائیوں پر قابو پا کر خالصتا تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دیں۔

ڈینز کے ساتھ اجلاس کے بعد وزیر ہائر ایجوکیشن نے یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کی اس دوران اساتذہ نے وزیر کو بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے اُنہیں سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وائس چانسلر کی جانب سے من پسند افراد کو غیر قانونی طور پر عہدے دے کر نوازا جاتا ہے اور اگر اس کے خلاف آواز اُٹھائی جائے تو اُنہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

شعبہ جات کے سربراہان نے بتایا کہ اساتذہ میں تشویش پائی جاتی ہے کہ یونیورسٹی کے سیاسی ماحول کے باعث تعلیمی امور شدید متاثر ہوتے ہیں اور انتظامیہ اس پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔ وزیر ہائر ایجوکیشن کو اس موقع پر اُن افسران کی فہرست بھی فراہم کی گئی جنہیں عہدے دے کر نوازا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیر ہائر ایجوکیشن نے ہاسٹلز کے معاملات سے متعلق چھان بین کرنے کے لیے وارڈنز اور سپریٹنڈنٹنس کے ساتھ بھی اجلاس کیا۔ سید رضا علی گیلانی نے یونیورسٹی ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا اور وارڈنز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ رات گئے اپنے ہاسٹلز کی انسپکشن کریں۔ اس موقع پر اُنہوں نے طلباء کو میرٹ پر ہاسٹلز کی الاٹمنٹ کرنے کے میکانزم کی مانیٹرنگ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

وزیر ہائر ایجوکیشن نے استفسار کیا کہ ہاسٹلز میں بائیو میٹرک سسٹم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو کنٹرول کیوں نہیں کیا جاسکا؟ اس موقع پر رجسٹرار کو سختی سے اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں گئیں۔

کھلی کچہری کے دوران وزیر تعلیم نے رجسٹرار کو ہدایات جاری کیں کہ پی ایچ ڈی اساتذہ کا اعزازیہ نو سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار پانچ سو روپے کر دیا جائے۔ پرو چانسلر سید رضا علی گیلانی نے بلوچستان کے طلباء سے ملاقات بھی کیں اور بلوچی طالبات کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے وائس چانسلر کی جانب سے متعدد غیر قانونی اقدامات کرنے اور پنجاب یونیورسٹی میں سیاسی مذہبی جماعت کے طلبہ ونگ کے بڑھتے اثرو رسوخ ور یونیورسٹی کے اہم عہدوں پر ان کی سابقون کی تعیناتیوں کا سخت نوٹس لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ظفر معین کی جانب سے یونیورسٹی سینڈیکیٹ اور حکومت پنجاب سے اجازت لئے بغیر دبئی میں کیمپس کھولنے، یونیورسٹی کے تعمیراتی کاموں میں پیپرا قوانین کی خلاف ورزی اور بغیر اشتہار دئیے دو کروڑ روپے کے ٹھیکے دینے، سلیکشن بورڈ میں مخصوص سیاسی جماعت کے اساتذہ کو ترقی دینے، 23 مارچ کے واقعے میں ملوث طلبا کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور یونیورسٹی کے مختلف اساتذہ کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں

اور وزارت قانون کو احکامات دئیے ہیں کہ اس سلسلے میں سمری تیار کر کے عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے اور ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی جگہ ڈاکٹر ذکریا ذاکر کی بطور عبوری وائس چانسلر تعیناتی کے احکامات کو بھی عدالت سے منظور کرایا جائے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیز میں پرو وائس چانسلر کے عہدے پر تقرری، مستقل رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات اور خزانہ دار کی تقرریاں جلد کر لی جائیں گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید رضا علی گیلانی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں طلباء سیاست اور طلباء یونین پر پاپندی ہے اور کسی بھی طلباء تنظیم کی اجارہ داری نہیں ہونے دی جائے گی۔ سید رضا علی گیلانی کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پشتون اور اسلامی جمعیت طلباء کے درمیان تصادم کی انکوائری کے مطابق طلباء کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور اس حوالے سے رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی سے تازہ رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر ہائر ایجوکیشن نے کہا کہ یونیورسٹیوں سے اساتذہ کی سیاست کو ختم کر کے انہیں کیو ایس رینکنگ میں لانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کا احتساب کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے کی پانچ سرکاری یونیورسٹیز کو کیو ایس رینکنگ میں لانا چاہتی ہے اور اس میں پنجاب یونیورسٹی سر فہرست ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.