مشال خان یوسفزئی کے قتل کا مقدمہ درج، آٹھ طالبعلم گرفتار

    April 15, 2017 1:13 am PST
taleemizavia single page

مردان

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں توہین مذہب اور توہینِ رسالت کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور نامزد ملزمان میں سے آٹھ کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

مردان میں پولیس کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق مشال خان کی ہلاکت کا مقدمہ شیخ ملتون تھانے میں درج کیا گیا ہے اور اس میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے سربراہ فیاض علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو ہی مشال خان کے علاوہ دو اور طالبعلم، عبداللہ اور زبیر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات تھے جس کے لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور تینوں طلبہ کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا تھا۔ فیاض علی شاہ نے کہا کہ کمیٹی کا اجلاس 18 اپریل کو ہونا تھا۔

فیاض علی شاہ کے مطابق طالبعلم عبداللہ اس وقت پولیس کی نگرانی میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ طالبعلم زبیر کل سے لاپتہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ مردان یونیورسٹی: مشتعل طلباء نے 23 سالہ طالبعلم کیوں ہلاک کیا؟

خیال رہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے 13 اپریل کو جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’طالب علم مشعل خان، عبداللہ اور زبیر کی توہین مذہب سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

ڈی پی او کے مطابق مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمے میں 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ویڈیوز کے ذریعے کی گئی اور بقیہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ادھر ہلاک ہونے والے طالبعلم مشعل خان کو جمعے کی صبح صوابی میں ان کے گاؤں زیدہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

صوابی سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشعل خان کے جنازے میں 400 سے 500 افراد شریک تھے۔

توہینِ مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے طلبا کے ہاتھوں مشال خان کی ہلاکت کا واقعے جمعرات کی صبح پیش آیا جب سینکڑوں طلبا نے ہوسٹل میں گھس کر مشعل خان سمیت تین طلبا پر شدید تشدد کیا۔

اس تشدد کے نتیجے میں مشال خان ہلاک ہو گئے جبکہ دیگر دو طلبا شدید زخمی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مقامی پولیس جب یونیورسٹی پہنچی تو مشتعل مظاہرین مقتول کی لاش جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ پولیس نے لاش اپنی تحویل میں لی اور اسے ہسپتال منتقل کیا۔

اس واقعے کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی اور مردان شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ہلاک ہونے والے طالب علم مشال خان یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کے ایک استاد کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کیونکہ مذکورہ طالب علم سے انھوں نے ایسی کوئی بات کبھی نہیں سنی تھی۔

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشعل کچھ عرصہ ملک سے باہر بھی گزار چکا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے پہلے تو مشعل کے دوستوں کو مارنا شروع کیا تاہم وہاں موجود چند لوگوں نے جب انھیں بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی مشعل نہیں تو ان افراد نے ان دو طالب علموں کو شدید زخمی کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔

اطلاعات کے مطابق بعد میں چند طالب علموں نے مشعل کو ڈھونڈ کر پہلے تو مبینہ طور پر گولیاں ماریں اور پھر مبینہ طور پر ان کی لاش کو گھسیٹے ہوئے لے کر آئے۔

FIR


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *