مردان یونیورسٹی: مشتعل طلباء نے 23 سالہ طالبعلم کیوں ہلاک کیا؟

    April 13, 2017 11:44 pm PST
taleemizavia single page

مردان

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر توہین رسالت پر مبنی مواد شیئر کرنے کے الزام میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کا تیئس سالہ طالبعلم مشال خان تشدد کے نتیجے میں ہلاک میں ہوگیا ہے۔

طالبعلم پر تشدد کا واقعہ یونیورسٹی کی حدود میں ہی ہوا جس کے بعد یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور تمام ہاسٹلز کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی سنگین صورتحال سے بچا جاسکے۔

مردان ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق 45 طلباء کو تشدد کے اس واقعہ میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ توہین رسالت کے مبینہ الزام میں شامل دیگر دو طلباء کے خلاف پولیس نے فی الحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

مردان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمد عالم شنہواری کے مطابق تشدد سے ہلاک ہونے والا طالبعلم مشال خان فیس بک پر توہین رسالت پر مبنی مواد شیئر کرتا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق طلباء کے ایک بڑے گروہ نے مشعال پر حملہ کیا اور اُسے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا اور طلباء گروہ نے مشال خان کی ڈیڈ باڈی کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔

عینی شاہدین کے مطابق یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف ماس کیمونیکیشن کے دو طالبعلم مشال خان اور عبد اللہ فیس بک پر احمدی نظریات کی ترویج کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق طلباء گروہ نے پہلے عبد اللہ کو گھیرے میں لیا اور اُسے قرآن پاک کی آیات تلاوت کرنے کا کہا گیا اگرچہ عبد اللہ نے احمدی ہونے سے انکار کیا تاہم اس کے باوجود طلباء گروہ نے اُس پر تشدد کیا۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر عبد اللہ کو ریسکیو کر لیا تاہم ہاسٹل میں موجود مشال خان پر طلباء گروہ کی جانب سے حملہ کیا جا چکا تھا اور پولیس وہاں تاخیر سے پہنچی۔

واقعہ کے بعد پولیس نے ہاسٹل کو گھیرے میں لے لیا اور ہاسٹل میں موجود مشعال کے کمرے کی تلاشی بھی لی گئی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق تشدد کے اس واقعہ میں یونیورسٹی کی مختلف طلباء تنظیموں کے لیڈرز بھی شامل ہیں۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مشعال کے اُستاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ذہین طالبعلم تھا اور ملکی سیاست اور نظام سے متعلق فکر مند رہتا تھا تاہم اُس نے کبھی بھی مذہب کے خلاف بات نہیں کی تھی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے ذمہ دار افسر فیاض علی شاہ کے مطابق جامعہ کے بیس سے زائد افسران موقع پر پہنچے تاہم مشتعل طلباء کو روکنے میں ناکام رہے۔ اس واقعہ کے بعد مشتعل طلباء کا گروہ یونیورسٹی کے چکر لگاتا رہا۔

ہاسٹل وارڈن محمد علی کا کہنا ہے کہ اُنہیں اس حملے کی اطلاع مل چکی تھی اور اُنہوں نے گیٹ بند کرا دیے تاہم مشتعل طلباء گیٹ توڑ کر ہاسٹل میں داخل ہوئے اور مشعال پر پہلے گولی چلائی گئی جس کے بعد تشدد کے ذریعے اسے مار دیا گیا۔

یونیورسٹی طلباء کے مطابق تشدد کا واقعہ ہونے سے پہلے پولیس کیمپس میں موجود تھی تاہم پولیس مشتعل طلباء کو روکنے میں بالکل ناکام رہی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *