لاہور کتاب میلہ، پبلشرز سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے کرایہ وصول

    February 5, 2018 11:03 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

پانچ روزہ لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر ایکسپو سنٹر میں اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ اس عالمی کتاب میلے میں کتابوں کے270 سٹالز لگائے گئے جبکہ امریکہ، برطانیہ، سنگا پور اور بھارت سے پبلشرز نے بھی شرکت کی۔

کتاب میلے میں پبلشرز سے فی سٹال کا کرایہ پچاس ہزار روپے وصول کیا گیا اور ایک سٹال کی چوڑائی اور لمبائی تین تین میڑ تھی۔ یوں لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر کی انتظامیہ نے پبلشرز، بُک سیلرز سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے کرایہ وصول کیا گیا۔

کتاب میلے کی انتظامیہ نے ایکسپو سنٹر کو پانچ روز کا کرایہ بشمول ٹیکس 77 لاکھ روپے ادا کیا ہے۔ ایکسپو سنٹر نے کتاب میلے کے ایک روز کا کرایہ بارہ لاکھ روپے وصول کیا ہے۔ اس کرایہ میں حکومت کی جانب سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی رقم بھی شامل ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کتاب میلے کی انتظامیہ نے پانچ روز میں 50 لاکھ روپے سے زائد منافع حاصل کیا ہے۔

لاہور ایکسپو سنٹر میں منعقد ہونے والے سالانہ کتاب میلے میں حکومت کی جانب سے کوئی گرانٹ نہیں دی جاتی اور نہ ہی کتاب میلے کو منعقد کرنے کے لیے حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔

دوسری جانب ایکسپو سنٹر میں پہلا کتاب میلہ دو ہزار گیارہ میں منعقد ہوا تھا اور تین سال تک یہ میلہ دو ہالز میں منعقد کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ دو سالوں سے یہ کتاب میلہ اب صرف ایک ہال میں ہی منعقد ہوتا ہے، مہنگے سٹالز کی بناء پر ہر سال پبلشرز کی تعداد میں کمی ہوتی جارہی ہے۔

Book Fairs

پبلشرز اور بُک سیلرز کی کمی کے باعث اب یہ میلہ صرف ایک ہال میں ہی منعقد ہوتا ہے۔

میلے میں شریک ایک پبلشر کا کہنا ہے کہ کتاب خریدنے کا کلچر کم ہے،ا نتظامیہ جب سٹال کی مد میں پچاس پچاس ہزار روپے کرایہ وصول کرتی ہے تو پبلشرز سستی کتابیں کیسے فروخت کریں؟ اس کا کہنا تھا کہ اچھے پبلشرز کو اپنی تمام کتابیں ڈسپلے کرنے کے لیے کم از کم تین سٹال لینے پڑتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پانچ دن کا کرایہ ہی صرف ایک لاکھ پچاس ہزار روپے بنتا ہے۔

کراچی سے آنے والے ایک پبلشر کا کہنا ہے کہ سفری اخراجات، کتابوں پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور لیبر کی مزدوری کو ایک ساتھ ملائیں تو یہ کتاب میلہ اُنہیں انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مہنگے سٹال کا مطلب ہے کہ کتاب سستی نہیں ہوگی اور اس کا براہ راست اثر خریدار پر پڑتا ہے۔

لاہور کے ایک پبلشر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ انتظامیہ نے کتاب میلے کا منافع بخش کاروبار بنا لیا ہے اور پبلشرز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔