لاہور ہائیکورٹ کی نجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلوں کی اجازت

    December 9, 2017 3:45 pm PST
taleemizavia single page

لاہور

لاہورہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تشکیل غیر قانونی قرار دے دی۔عدالت نےنجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے 2016 کی سینٹرل اینڈ کشن پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو سال دو ہزار تیرہ کی پالیسی کی روشنی میں داخلے کرنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے موجودہ پی ایم ڈی سی کی تشکیل غیر قانونی قرار دیتے ہوئے موجودہ کونسل کو نئے انتخابات ہونے تک صرف انتظامی امور جاری رکھنے کیہدایت کردی۔عدالت نے وفاقی حکومت کو نوے یوم میں پی ایم ڈی سی کےانتخابات کرانے کاحکم دے دیا۔

عدالت نے اے لیول، او لیول اور بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے طالبعلموں کو سیٹ ٹو اینٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلے کا اہل قرار دے دیا۔

عدالت نے مشترکہ مفادات کونسل کو پی ایم ڈی سی کے موجودہ قوانین کا جائزہ لے کرچھ ماہ میں نئے قوانین تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔ عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مافیا کو کھلی چھٹی مل گئی،جس کے نتیجے میں ذہین،غریب اور محنتی طلبہ کے لئے میڈیکل کی تعلیم کے دروازے بند ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *