لاہور گرائمر سکول کا والدین کی عزت نفس پر حملہ

    September 12, 2016 12:09 am PST
taleemizavia single page

خصوصی رپورٹ

لاہور گرائمر سکول، گلبرگ برانچ
بنام والدین

خط کی ابتداء کچھ یوں ہے کہ “آپ کی بیٹی کی فیس تاحال ادا نہیں کی گئی، آپ سے گزارش ہے کہ 9 ستمبر تک فیس ادا کر دیں۔اگر یہ فیس مقررہ تاریخ تک ادا نہ کی گئی تو عید کے بعد 15 ستمبر کو اپنی بیٹی کو سکول بھیجنے سے گریز کریں۔

اگر سکول انتظامیہ کو معلوم ہوگیا کہ فیس ادا نہ ہونے کے باوجود آپ کی بیٹی کلاس میں حاضر ہے تو ہم اُسے کلاس سے نکال دیں گے بلکہ زبردستی سکول سے نکال کر گھر بھیج دیا جائے گا۔ براہ مہربانی اپنی بیٹی اور سکول انتظامیہ کو ایسی کسی بھی پریشانی میں ڈالنے سے گریز کریں۔

فیس کا چالان نہ جانے کتنے پیسوں کا ہے بہرحال اس وارننگ لیٹر کو پڑھنے کے بعد یہ واضع ہوجاتا ہے کہ پرائیویٹ سکولز کے نزدیک دولت کی اہمیت تعلیم سے بڑھ کر ہے۔

حکومت پنجاب کے پاس کوئی واضع اور ٹھوس قانون موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر سکولوں کی فیسوں پر کوئی کارروائی کی جاسکے۔

البتہ 2015ء میں والدین کے دباؤ پر حکومت نے ایک آرڈیننس پاس ضرور کرایا ہے جو صرف فیسوں میں اضافے کے طریقہ کار پر لاگو ہوتا ہے اس کے علاوہ فیسوں کی حد مقرر کرنے پر یہ آرڈیننس کوئی ضابطہ فراہم نہیں کرتا۔

یہ وارننگ خط عکاسی کرتا ہے کہ سکول اپنے کمرشل مفادات میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ اُسے بچی کی عزت نفس کی بھی کوئی پرواہ نہیں بلکہ جس طرح دھمکی آمیز زبان اور الفاظ کا استعمال اس چار لائن کے خط میں کیا گیا ہے، ایک محنت کش والد یا والدہ کی عزت نفس مجروح کرنے کے لیے کافی ہے۔

لاہور گرائمر سکول پاکستان میں چین کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ملک کے بڑے بڑے شہر اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان کے پوش علاقوں میں اس سکول کی شاخیں موجود ہیں۔

اس قدر وسیع نیٹ ورک ہونے کے باعث ایل جی ایس کی انتظامیہ بھی طاقت ور ہوگئی ہے جس کا واضع ثبوت اس سکول کے فیس سٹرکچر پر حکومتی کنٹرول نہ ہونا ہے۔

اس برانچ میں زیر تعلیم بچے کے والد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایل جی ایس مختلف مد میں بھاری چارجز کو فیسوں میں شامل کرتی ہے اور اُنہیں بروقت فیس ادا کرنے کے لیے دھمکی آمیز زبان کا استعمال کرنا معمول کی بات ہے۔

اس والد نے مزید کہا کہ حکومتی سکولوں میں معیار تعلیم انتہائی ناقص ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور انہیں کوئی پکڑنے والا نہیں ہے۔

حکومتی شخصیات اور پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کے مالی مفادات مشترکہ ہیں اس لیے آج تک پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی وجود میں نہیں آسکی۔

لاہور گرائمر سکول کی آفیشل ویب سائٹ پر اے لیول کا فیس سٹرکچر موجود ہے جسے دیکھنے کے بعد آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔

ایل جی ایس ڈیفنس برانچ لاہور میں اے لیول میں داخلے کے لیے رجسٹریشن فیس 5000 روپے، ایڈمیشن فیس 30 ہزار روپے، سیکورٹی فیس 20 ہزار روپے، اے لیول کورس کی ماہانہ فیس 29 ہزار چار سو 50 روپے، فی مضمون کی لیب فیس 8 سو روپے ماہانہ، کمپیوٹر لیب فیس ایک ہزار روپے ماہانہ، آرٹ فیس ایک ہزار روپے ماہانہ، میگزین فیس ایک ہزار روپے سالانہ اور لائبریری، سٹیشنری، فوٹو کاپی اور سپورٹس کی مد میں ہر چار مہینے بعد 5 ہزار 500 روپے فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔

گویا اے لیول میں داخلہ لینے کے لیے 95 ہزار 5 سو پچاس روپے فوری طور پر جمع کرانا لازمی ہے۔ ابھی کتابوں کے پیسے اس مد میں شامل نہیں ہیں۔

لاہور گرائمر سکول کے مذکورہ وارننگ خط کے بعد تعلیمی حلقوں میں یہ بحث عام ہے کہ کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں پر کنٹرول رکھنا بھی ریاست کا فریضہ ہے لیکن ریاست اس میں بُری طرح ناکام ہوگئی ہے اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *