سندھ: میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے دو بارہ ٹیسٹ کیخلاف طلبہ کا احتجاج

  • November 15, 2017 9:27 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

صوبے کے میڈیکل کالجز میں داخلے کے امیدواروں نے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے فیصلے کے خلاف منگل کو سندھ اسمبلی اور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے مطالبات درج تھے اس موقع پر زبردست نعرے بازی بھی کی گئی ۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ 22اکتوبر کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج کو تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ طلبا و طالبات کے فیل ہونے کا خمیازہ ہم کیوں بھگتیں۔ ہم نے دن رات محنت کرکے ٹیسٹ میں حصہ لیا دوبارہ داخلہ ٹیسٹ کسی صورت قبول نہیں ہے۔

چند لوگوں کو جواز بنا کر21 ہزار سے زائد طلبہ کے نتائج منسوخ کرناناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے پیپر کو سوشل میڈیا پر آؤٹ کیا انکی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

واضح رہے کہ سندھ کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس ( این ٹی ایس ) کے تحت پہلی مرتبہ پورے سندھ میں ایک ساتھ 22 اکتوبر کو ٹیسٹ کا انعقاد ہوا تھا لیکن پیپر آؤٹ ہونے کی شکایت پر صوبے بھر میں کچھ طلباءاور ان کے والدین نے احتجاج بھی کیا تھا۔

احتجاج کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی تھی۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پیپر آؤٹ ہونے کی تصدیق کی اور دوبارہ ٹیسٹ لینے کی سفارش کی۔ حکومت سندھ نے انکوائری کمیٹی کی سفارش پر ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو 15دن کے اندر دوبارہ ٹیسٹ لینے کا حکم دیا ہے۔

اس حکم کے خلاف منگل کو طلبہ نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ طلبہ ٹیسٹ دوبارہ نہ لینے کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے طلبہ کو سندھ اسمبلی گیٹ کی طرف جانے سے روک دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.