وائس چانسلرز: اُستاد سے شہنشائے سیاست تک

    March 7, 2017 4:55 pm PST
taleemizavia single page

نعیم مسعود

ہمیں عادت ہے، بلکہ ہم پاکستانیوں کو زیادہ ہی عادت ہے ، کہ ہم زندگیاں مشکل کر لیتے ہیں۔ رسک لینا اور رسک لینے پر مجبور کر دینا اپنا مرعوب مشغلہ ہے۔ موٹے موٹے تین چار شعبے ایسے ہیں جنہیں انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وہی حساس ہیں جن کا ہمیں احساس نہیں۔

یعنی دفاع، خارجی امور، اطلاعات و نشریات، تعلیم و تربیت اور امور صحت کے علاوہ بھی حساس معاملات ہوں گے لیکن بات تو ہمارے احساس کی ہے نا ، کہ وقت کتنا ہے اور اپنے پاس، عقل کتنی؟ اگر یہ دونوں ہی میسر ہیں تو پھر اخلاص کتنا ہے؟

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ زیادہ تر حکمران، بیوروکریٹس، ٹیکنو کریٹس اور وائس چانسلرز حقیقت کا ساحل چھوڑ کر خواہشات کے گہرے سمندر میں غرق ہونا پسند کرتے ہیں! عادت کہوں اسے یا بیماری کہا جائے؟ بیمار تو یہاں کئی ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ باہمی احتساب سے پہلے خوداحتسابی ضروری ہے لہٰذا میں پہلے اپنی دائمی مرض کی بات کرتا ہوں۔

ہاں، یہ ایک نہیں18ویں ترمیم پر غوروفکر اور عملدرآمد کا فقدان، ہیلتھ سروسز میں عاقبت نااندیشوں کی موجیں، مسئلہ برین ڈرین، وزیر خارجہ کی ریاستی رگ و پے اور خون میں کمی، ٹیکنوکریسی اور بیوروکریسی میں ”آئیوڈین“ کی کمی اور تحقیق کی آماجگاہ ہوں میں وائس چانسلرز و ایچ ای سی و ایچ ای ڈی کے ربط (کوآرڈینیشن) میں کمی۔ یہ وہ امراض ہیں جن کا مجھے فوبیا ہے۔

مدافعت سے قوت برداشت تک سبھی میری امراض کو لاعلاج ہی گردانتے ہیں بلکہ مجھ پر ہنستے ہیں۔ ہنس لو، ہنس لو مہربانو! لیکن کچھ واقعات بہرحال سننے پڑیں گے۔ باقی آپ کی مرضی فکر کرنا یا نہ کرنا۔ نتیجہ اخذ کرو، نہ کرو۔

بے زبانی بخش دی خود احتسابی نے مجھے
ہونٹ سل جاتے ہیں دنیا کو گلہ دیتے ہوئے

یاں وہ ،کم و بیش تین صوبوں کے سنگم پر، ضلع رحیم یار خان کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں پر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی زیرتعمیر ہے۔ ہلکی پھلکی کلاسز بھی جاری ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب تعلیم دوست ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ کی طرح مقامی سیاستدان بھی تعلیم دوست بنیں، اپنی یونیورسٹی کو سرگودھا کے سیاستدانوں کی طرح سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

رحیم یار خان والے اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ پی پی پی کے مرکزی رہنما اور سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کی ”محبت“ میں صوبہ پنجاب انہیں فنڈز کی کمی نہیں آنے دے رہا۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اطہر محبوب کا ایک ریکارڈ ہے کہ تمغہ امتیاز کے لئے اُس کے نام کی نشاندہی آرمی کی جانب سے آئی۔ ایک تو اُنہوں نے ڈی ایس یو میں اعلیٰ خدماات سرانجام دیں دوسرا وہ ڈی ایچ اے صفاء یونیورسٹی کراچی کے پہلے پی ایچ ڈی تھے۔

یہاں ایک بات اہل نظر کی نذر اور بھی، کہ جہاں اپوزیشن مضبوط ہو وہاں حزب اقتدار سو نہیں سکتی۔ توقع ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی مستقبل کا عظیم ادارہ ہوگی۔ انجنئرز وزرا احسن اقبال اور بلیغ الرحمان خصوصی دورہ کریں علاوہ بریں سینئر انجنئیرز پروفیسرز بھی بھرتی کئے جائیں کہ گلشن کا کاروبار چلے! ایک دورہ چئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختاراحمد کا بھی درکار ہے، جی! پچھلے دنوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی دو انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کی سعادت کا موقع ملا۔

بزرگ یونیورسٹیوں میں اس کی روایات، حسن انتظام، تدریسی معاملات (کسی حد تک تحقیقی معاملات) قابلِ ستائش ہیں واقعی سپر !!! ڈاکٹر قیصر مشتاق یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کہتے ہیں ایک سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بلال خان نے یونیورسٹی کو گلستانوں اور گیسٹ ہاﺅس سے کلاس رومز اور ایڈیٹوریم تک کو پیس آف آرٹ بنا دیا۔ بعدازاں سابق وی سی ڈاکٹر محمد مختار اور بالخصوص آج کی قیادت نے اسے دوام بخشا۔ یہ کام کرنے والے لوگ ہیں، انہیں ٹھیکیداری اور عمارتی چکروں اور بعدازاں نیب شیب میں نہ گھسیٹیں۔ قانون کے وزیر اور مشیر ان پر رحم کریں۔ ان سے وہی کام لیں جو ایک وائس چانسلر سے لئے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر قیصرمشتاق جیسے قومی اثاثہ سے ملک وملت تعلیمی و تحقیقی فائدہ اٹھائے! اللہ کا واسطہ ہے یہ کیا بات ہوئی کہ راتوں رات دیوار بنائیں ورنہ صبح پابند سلاسل کر دیں گے۔ ٹھیک ہے دہشت گردی کے تھریٹ ہیں لیکن یہ بھی تو سوچیں دہشت گردی کا سبب یہ ہیں کیا یا صرف ان سربراہان تعلیمی ادارہ جات ہی نے ”اینٹی ٹیررسٹ“ کا کردار ادا کرنا ہے؟

ہاں تعلیمی و تحقیقی کامیابی کے امکانات اس وقت مزید بڑھیں گے جب تھرڈ پارٹی سسٹم سے جامعات کی رینکنگ ہو گی۔ وہ ”ترقی“ کی خاطر، پچھلے دنوں سرکار نے ملک بھر میں دیارغیر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو اعزازات بخشے۔ ان میں سے کچھ پیا گھر واپس چلے گئے ، کچھ ایکٹ سمجھنے سے قاصر اور کچھ اپنے آپ کو سمجھنے میں ناکام بیٹھے ہیں!!! چلیں ٹھیک ہے ، لیکن جامعہ زکریا ملتان والوں کو بھی کہیں کہ اداروں پر توجہ دیں اور وہاں جلوہ افروز رہیں یا پھر رئیس جامعہ ایک سیٹلائٹ دفتر ہی اسلام آباد بنا لیں۔

ہمیں تو وائس چانسلرز سے محبت ہے، اسی محبت میں، ہم اور وہ بیوروکریٹس کے حوالے سے شکوے تو بہت کرتے ہیں مگر اپنا معاملہ بھی یہ ہے کہ، کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ اب ایک دوست کا نام لیں گے تو بددعا دے گا لیکن اس نے بغیر سوچے سمجھے جو اختیارات سنڈیکیٹ کے تھے اُس کے اپنے بھی نہیں وہ اٹھا کر رجسٹرار اور خازن کو دے دیئے۔

مانا کہ اس کی باہر کی ڈگری اور حکومت میں یاری ہے لیکن اپنی ”تربیت“ بھی ضروری ہے جاناں! میری اپنی تحقیق کے مطابق کچھ وائس چانسلرز بیوروکریٹس سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں اور خود دعوت دیتے ہیں کہ آبیل مجھے مار۔ ٹھیک ہے بائیسوویں گریڈ میں ہیں مگر”کنٹریکٹ“ پر ؛ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے چند نام نہاد ماہرین تعلیم سے دس گنا اچھا کام بھی کیا ہے۔

ہم بھولے نہیں کچھ ایچ ای سی کے چیئرمینوں اور سائنسدانوں کو جن کی جنرل سائنس سے زیادہ اپنی سائنس تھی اور زبیدہ جلال کی طرح قول و فعل میں تضاد اور اغیار سے ”جائز“ راہ و رسم۔ کہیں صرف حاجی ابراہیم جمال انسٹیٹیوٹ کراچی ہی کو ادارہ سمجھنا، کہیں مسئلہ لکشمی بلڈنگ اور کہیں دبئی میں بینتھم پریس کا کراچی سے کنٹرول اور کبھی ”ان بکس“ کے کمپیوٹر ہی کا ہر جگہ جانا اور پایا جانا….؟ اللہ! کن خشک باتوں کی جانب چلے گئے۔

وہ یاد آیا کہ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا مین ایڈیٹوریم کمال تھا، بہت کمال ! لیکن فیصل آباد میں جی سی یونیورسٹی کا قائداعظم ہال پورے ملک کے ہالوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے التماس کروں گا کہ وہاں پر ایک قومی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کرائیں اور خود تشریف لائیں۔۔۔۔۔ خود!!! اگر قومی اسمبلی ہال سے زیادہ مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔

ویسے بھی یہ نوجوان یونیورسٹی، جامعہ پنجاب، جامعہ بلوچستان، جامعہ پشاور، جامعہ کراچی اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد جیسی بزرگ دانش گاہوں کے لئے لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہو گی، اگر ان کے کرتے دھرتے خول سے نکل کر سیر کو آئیں گے! ہاں، وہ بھی یاد آیا کہ کچھ یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی وائس چانسلر بن گئے۔

اچھی بات ہے ان کے سی وی پر بوسٹن سکول آف تھاٹ طرز کے کوئی ٹھپے ہوں گے یا اسلام آباد کا مرکزی تجربہ۔ ہم تو خود اس بات سے متفق ہیں پروفیسر یا پی ایچ ڈی ہونا کامیاب وائس چانسلر کی گارنٹی یا وارنٹی نہیں لیکن اکیڈمک کے لئے ازراہِ کرم فل پروفیسر تو بھرتی کر لیں۔ وہ جو بورڈ بٹھا کر ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں، کہ کوئی اپنا نہیں آیا لہٰذا پروگرام ملتوی۔ وہ، یاد رکھیں کہ داماد اور بیگم کے ہاتھوں مجبور ہمارا ایک عزیز دوست پس دیوار زندان کے عنوان پر “پی ایچ ڈی کم پروفیسری” کر چکا۔ کسی رئیس جامعہ کو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس کی تعلیم میں کمی ہے البتہ تربیت میں گڑبڑ کا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

آج کسی کو مانو کل خود کو منوا سکو گے، اگر کل کا وی سی کچھ کر گیا ہے تو وہ اتھارٹی تھا آج کا وی سی خودسری یا خود پسندی کی آزھ میں بلاوجہ اور بلاضرورت اسے چیلنج تو نہ کرے۔ کیا تعلیم میں بھی حمزہ ومریم یا بلاول و مونس لازم و ملزوم ہیں؟ باہر کے پڑھاکو خان یہاں ہلاکو خان بننا چاہتے ہیں تو بسم اللہ، انفراسٹرکچر اور اپنا اندازفکر بھی ہاورڈ اور آکسفرڈ سا بروئے کار لائیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 18ویں ترمیم، تحقیق، غیر سیاسی تعلیمی ماحول، من پسند “رجسٹراری” سے پاک پیش منظر، سفارشی پس منظر سے پرہیز والے معاملات کو بروئے کار لایا جائے! فرسودہ رجسٹرار سسٹم تبدیلی مانگتا ہے ، یہ پٹوار خانہ بنتا جارہا ہے۔

استاد کو سلام مگر ڈین کا تاج سجائے کچھ اساتذہ تحقیقی اور تدریسی کنگ بننے کے بجائے شہنشائے سیاست وی سی حضراے کے لئے خورشید شاہ بنے بیٹھے ہیں۔ ارے بابا! دوسری طرف 18 ویں ترمیم نے اگر چانسلرز کو بھنگ پلائی ہے تو یہ پروچانسلرز کس مرض کی دوا ہیں؟ یہ تو لسی چھوڑ کر کافی پیا کریں ۔ تعلیمی افق کے “تعلیمی دہشت گردوں” کا بھی سوچیں، محض بھاڑوں شاڑوں ہی پر وقت اور سرمایہ لگانا کافی نہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کے پی کے کی شہر شہر پھیلی چھوٹی چھوٹی یونیورسٹیوں کی اصل شکل، سندھ کی یونیورسٹیوں کی سیاسی ہلچل کی جگہ تعلیمی سرگرمیوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی بانجھ یونیورسٹیوں پر سربراہان جامعات ہی کی نہیں سربراہان حکومت و مملکت کی توجہ کی بھی ضرورت ہے۔ ترقی کی گارنٹی یہ یونیورسٹیاں ہیں ، اور جمہوریت کا سیف گارڈ تعلیم کے علاوہ کچھ نہیں۔ پیارے وائس چانسلرز بھی اپنی زندگیاں آسان کریں، وہی کام کریں جن کے لئے انہیں عزت بخشی گئی۔ سیاست اور بادشاہت سے ان کا پرہیز بھی ضروری ہے۔ ثابت کرنا ہو گاکہ احساس کتنا اور اخلاص کتنا ہے؟


naeem masood

نعیم مسعود ماہر تعلیم ہیں اور وہ تین دہائیوں سے صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔

  1. Writer’s style of writing is bit annoyed. Reader has to translate his phrasal urdu in his mind than he understand about what is that the writer want to say. So that style make the writer uneasy for general reader.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *