ایران کی ہائر ایجوکیشن پر امریکی سرمایہ کاری، کون جیتا؟

    April 29, 2017 10:11 pm PST
taleemizavia single page

تجزیہ: محمد بشارت

ایران کی موجودہ پارلیمنٹ کی کیبنٹ دُنیا کی واحد کابینہ ہے جس میں سب سے زیادہ امریکہ سے تعلیم یافتہ اراکین شامل ہیں۔

تعلیمی شعبے میں ترقی کا آغاز بیسوویں صدی میں تیزی سے ہوا، اس صدی میں ہی یورپ اور امریکہ علم کی تخلیق اور سائنسی ایجادات کا مرکز بنے۔

بیسوویں صدی نے دُنیا کے نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا، جنگ عظیم اول کے بعد سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہوئے تو پھر عرب دُنیا میں قومیت کے تصور کی بنیاد پر نئے ممالک وجود پذیر ہوئے۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران ہی انقلاب روس قومی جمہوریت کے نئے دور کا سبب بنا، یورپ میں معاشی ترقی اور منڈیوں تک رسائی کے دوڑ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر دوسری جنگ کا آغاز ہوا۔

جنگ عظیم دوئم ختم ہوئی تو ایشیاء میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، برعظیم میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے پر انگریزوں کے بعد پاکستان اور بھارت بنے اور اسی دہائی میں چین میں بھی انقلاب برپا ہوا۔

1950ء کے بعد د و عالمی طاقتوں روس اور امریکہ کے درمیان جو سرد جنگ چھڑی تو چار دہائیوں تک اس جنگ نے مشرق وسطیٰ، ایشیاء اور یورپ پر بھی اثرات مرتب کیے۔

اسی سرد دور کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایک اور تبدیلی انقلاب ایران کی صورت میں نمودار ہوئی۔

ایران میں امریکہ نواز بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو نیا اسلامی جمہوری دور شروع ہوا اگرچہ اس جمہوریت پر شیعہ ازم کا لیبل لگا لیکن ایران کی قوم نے اپنی ہزاروں سال پرانی تاریخ، ثقافت کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کا عزم کیا اور پھر ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

بیسوویں صدی میں عالمی اُفق پر جو نئے ممالک وجود میں آئے ، صرف وہی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔

ایران میں بادشاہی نظام کی سرپرستی امریکہ کر رہا تھا لہذا امریکہ نے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات کے لیے اہم تعلیمی معائدات کیے۔

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق انقلاب ایران سے پہلے 50 ہزار سے زائد ایرانی طلباء امریکہ کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھے۔

امریکہ کی یونیورسٹی ایم آئی ٹی نے ایران میں نئی یونیورسٹیوں کو کھولنے کی بنیاد رکھی۔

ایران کی موجودہ کابینہ میں شامل 6 افراد امریکہ کی یونیورسٹیوں سے ہی پی ایچ ڈی یافتہ ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سان فرانسیسکو اور ڈینور یونیورسٹی امریکہ سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔

کابینہ میں شامل محمد علی نجفی ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی ریاضی، محمود ویزی سانجوز یونیورسٹی امریکہ سے انجینئرنگ، محمد رضا نعمت زدہ کیلی فورنیا یونیورسٹی سے انڈسٹریل مینجمنٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

کابینہ کے رکن علی اکبر صالح ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی نیو کلیئر انجینئرنگ اور محمد نیہا وندن جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اکنامکس کی ڈگری رکھتے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی بھی گلاسکو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی یافتہ ہیں۔

انقلاب ایران کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے جو چار دہائیوں بعد جوہری معائدہ کی شکل میں نئے اُفق کی جانب بڑھ رہے ہیں، ایران ایک بار پھر انقلاب سے پہلے کی حکمت عملی پر گامزن ہوگیا ہے۔

جوہری معائدہ ہوتے ہی امریکہ کی تین بڑی یونیورسٹیوں کے وفد نے ایران کی یونیورسٹیوں کا دورہ کیا، امریکی تعلیمی وفد نے ایران کی 12 یونیورسٹیوں کا دورہ کیا۔

اور وزارت سائنس ، وزرات ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ اہم ترین معائدات بھی کر لیے گئے ہیں، ان معائدات کے تحت ایران اور امریکہ کے پی ایچ ڈی سکالرز کے وفود کے تبادلے ہوں گے۔

جس میں سائنس و ٹیکنالوجی، واٹر کنزرویشن، فوڈ اور ماحولیات کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

ایران کے ساتھ امریکہ نے تعلقات کے نئے دور کا آغا ز ہوتے ہی امریکی طلباء کو اجازت دے دی ہے کہ ایرانی یونیورسٹیوں میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

ایران ، امریکہ سے ٹیکنالوجی اور سائنسی مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے، سخت پاپندیاں ہونے کے باوجود آج بھی امریکہ کی یونیورسٹیوں میں ایران کے 10 ہزار دو سو طلباء اور ایک ہزار 4 سو سکالر زیر تعلیم ہیں۔

ایران نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے چالیس سال سے تگ و دو میں ہے، امریکی دباؤ کے باوجود ایران تعلیمی شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

جوہری معائدہ میں ایران کی دوراندیشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پھر سے امریکی ایجوکیشن سسٹم سے مستفید ہونا چاہتا ہے۔

آزاد قومیں اپنی قومی ترقی کے لیے تعلیمی منصوبوں کو ٹھوس پالیسیوں کے تحت پایہ تکمیل پہنچاتی ہیں، انقلاب ایران کے بعد ایرانی قوم اپنی ترقی کی دوڑ میں برق رفتاری سے سفر طے کر رہی ہے۔

اگر ہم اس کا موازنہ پاکستان کی سیاسی حکومتوں اور جمہوری لیڈروں کے ویژن کے ساتھ کریں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ سڑکوں کی تعمیر اور اپنی تعریفوں کے لیے اخباری اشتہارات سے فرصت ہی نہیں ہے۔

جناب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی کابینہ میں یا پھرمشیروں میں کتنے افراد ایسے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں؟ پاکستان کے انتہائی قریبی دوست چین نے آج تک اعلیٰ تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے کتنی معاونت کی؟

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی تو درکنار بلکہ وزارت خزانہ حکومت پاکستان وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مختص فنڈز کو بھی جاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔

پاکستان کی جمہوری سیاسی تاریخ میں پہلی بار جعلی ڈگریوں کا استعمال کر کے بڑے بڑے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پول کھلے اور یہی جعلی ڈگریوں والے جب مشیر ہوں تو پھر اعلیٰ تعلیم کیسے ترقی کرے گی؟

ہمارے تعلیم دوست وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں یا پھر وزیر اعظم پاکستان دونوں کے مشیروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا انتہائی فقدان ہے اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک ہم قومی ترقی کا درست راستہ تلاش نہیں کر سکے۔

آٹھارویں آئینی ترمیم کے ساتھ تعلیمی شعبے کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم یتیم ہوگئی ہے۔

رہی سہی کسر صوبوں کی سطح پر بنائے جانے والے ایجوکیشن کمیشنز نے پوری کر دی ہے جس سے صوبائیت کو فروغ مل رہا ہے اور قومی ترقی کے مشترکہ ویژن سے پاکستان محروم ہوتا جارہا ہے۔

ایران کی طرز پر اگر پاکستان نے اعلیٰ تعلیم میں ترقی کرنی ہے تو پھر پہلے درجے میں سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد اعلیٰ تعلیم کو وفاقی دائرہ کار میں لانا ہوگا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈویژن کا لائزون بنانا ہوگا۔

آٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کو صوبوں کے حوالے کر دینا کوئی قرآنی اُصول نہیں بن گیا بلکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک اور آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کو واپس وفاقی ذمہ داری میں لے۔

اور صوبوں کی سطح پر بنائے جانے والی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ حکومت پاکستان نے قومی ترقی کے پیش نظر اعلیٰ تعلیم کو بیوروکریسی کے چنگل سے آزاد نہ کرایا تو پھر اس قوم کی معاشی بدحالی کو ختم کرنا دُشوار ہو جائے گا۔


basharat

محمد بشارت 25 سال سے تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ وہ تعلیم کے مقامی اور عالمی مسائل کے نبض شناس ہیں۔

  1. Hadiths Rasool saw hai kay taleem kay liye cheen bi channa paray tu joo. Jabkay saudi monarch nay terrorism ko farooq diya aur aab tuk america aur Israel kay saath Alliance main millions of muslims kay qatal main shamil hai.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *