غیر ملکی طلباء کی رہائش کا عالمی کاروبار، کس ملک میں کتنا خرچہ؟

    September 30, 2016 7:17 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: رملہ ثاقب

غیر ملکی طلباء کی رہائش کا بندوبست کرنے والی اس وقت سب سے بڑی ویب سائٹ سٹوڈنٹ ڈاٹ کام ہے جو 2011ء میں شروع کی گئی تھی۔ سمندر پار طلباء کو رہائش فراہم کرنے کے لیے یہ ویب سائٹ 426 بڑے شہروں میں کام کر رہی ہے۔

اس وقت اس کی سالانہ آمدن 60 ملین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

سمندر پار طلباء کی ضروریات پر میں رہائش انتہائی بنیادی ہے انہیں کہیں نہ کہیں رہنا پڑتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریا میں کم ازکم 160 یورو ماہانہ کرایہ غیر ملکی طلباء سے وصول کیا جاتا ہے۔ بیلجیئم غیر ملکی طلباء کی رہائش کے اعتبار سے یورپ کے ایک سو پچیس شہروں میں مہنگا ترین ہے۔ جہاں ایک سنگل کمرے کا ماہانہ کرایہ 500 یورو تک ہے۔

بلغاریہ میں ایک روم کا کرایہ 150 یورو، سائپرس میں 180 یورو، فن لینڈ میں اگرچے اعلیٰ تعلیم مفت ہے تاہم پرائیویٹ رہائش کے اخراجات یہاں پر بھی بہت زیادہ ہیں۔

پیرس میں جانے والے غیر ملکی طباء کے رہائشی اخراجات 500 یورو ماہانہ، جرمنی میں 300 یورو سے لیکر 350 یورو تک ماہانہ کرایہ ہے۔

آئرلینڈ میں غیر ملکی طلباء کی رہائش کا ماہانہ کرایہ 300 یورو، آئس لینڈ میں 200 یورو جبکہ اٹلی میں 600 یورو تک ایک طالبعلم سے ماہانہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔

ناروے میں غیر ملکی طلباء کی رہائش پر 220 یورو ماہانہ، پولینڈ میں 150 یورو، پرتگال میں 250 یورو، سپین میں دو سو یورو، سویڈن میں 400 یورو جبکہ سوئزرلینڈ میں 500 یورو تک ماہانہ کرایہ ہے۔

سمندر پار بین الاقوامی طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یونیورسٹیوں نے اب اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ غیر ملکی طلباء کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اُنہیں پیش کش دینا ضروری ہے جس میں تعلیم کے ساتھ رہائش کی سہولیات شامل ہیں۔

اگر رہائش کی ضمانت یا کنٹرول کی ذمہ داری یونیورسٹی نہیں لے سکتی تو غیر ملکی طلباء کے لیے یہ خطرہ ہے کیونکہ اگر کسی ملک کا طالب علم 10 ہزار یورو ٹیوشن فیس ادا کرنے کے لیے تیار ہے تو اُس کے لیے مناسب رہائش کا بھی بندوبست کرنا ضروری ہے۔

اس نئے کاروباری رجحان کے باعث بڑی بڑی کمپنیاں اب طلباء کے ہاسٹلز پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے یورپ کا رُخ کر رہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی تعلیم کا مرکز تیس بڑے شہروں میں غیر ملکی طلباء کی رہائش کے 2 ہزار 596 ہاسٹلز ہیں جہاں 4 لاکھ 24 ہزار 96 بستر موجود ہیں۔

طلباء کی ان رہائشوں میں سے کچھ کے نام کیمپس لونگ ویلیجز، دی سٹوڈنٹ ہوٹل اور یونائیٹڈ سٹوڈنٹ کے نام سے مشہور ہیں۔

آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں ایشیائی طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سرمایہ کاروں کو ہاسٹل بزنس کی طرف راغب کر دیا ہے۔

اب یہ کمپنیاں ایسے تصورات پیش کر رہی ہیں کہ جن سے طلباء کو یقین دلایا جائے کہ جب وہ داخلے کے بعد یونیورسٹی پہنچیں گے تو ان کا سامان محفوظ طریقے سے ان کی رہائش تک پہنچا دیا جائے گا بلکہ ان کی اشیاء کا دھیان بھی رکھا جائے گا۔

ڈیوڈ بیکروفٹ ہوم سٹے بزنس مینجر ہیں وہ اس وقت آسٹریلین ہوم سٹے نیٹ ورک اور امریکن ہوم سٹے نیٹ ورک ایک ساتھ چلا رہے ہیں۔

ان دونوں نیٹ ورک کے ذریعے سے ہونے والی بکنگ میں چالیس فیصد ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو صرف تعلیم کی غرض سے آسٹریلیا اور امریکہ جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمپنیاں صرف اپنے ذاتی ہاسٹلز نہیں چلا رہیں بلکہ ایسے افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہیں جو اپنے فلیٹ میں کسی طالبعلم کو پیسے وصول کر کے رکھنے کو تیار ہوتے ہیں۔

ہوم سٹے ڈاٹ کام ایسی ویب سائٹ بن چکی ہے جو طلباء کی رہائشی پروگرام میں انقلاب برپا کر چکی ہے۔

یونی پیلس کمپنی بڑی کاروباری شخصیات کو رہائش کی پیشکش کی اجازت دیتی ہے یہ کمپنی بھی طلباء کو مرکزی پورٹل فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے سے ایک ہزار چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں کے غیر ملکی طلباء کی رہائش کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

یونی پیلس کچھ کاروباری شخصیات کو ساتھ ملا کر نیا بکنگ سسٹم بنانے کی کوشش میں ہے جس پر 24 ملین ڈالرز خرچ ہوں گے۔ یونی پیلس یورپ کے 9 ملکوں میں غیر ملکی طلباء کی رہائش کا کاروبار شروع کرنے جارہی ہے۔

طلباء کے لیے ایک اور کمپنی بھی متحرک ہے جس کا نام ہاؤسنگ اینی ویئر ہے۔ یہ کمپنی اُن طلباء کو رہائش فراہم کرنے کا بندوبست کرتی ہے جو ایک سال یا چھ مہینے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *