ملین ڈالرز کی صنعت: انگریزی زبان آئیلٹس کے کورس سے 362 ملین ڈالرز کی آمدن

    September 11, 2016 1:13 pm PST
taleemizavia single page

ازکیٰ ضیاء، لاہور

انٹرنیشنل سٹوڈنٹس پلیسمنٹ کمپنی، آئی ڈی پی ایجوکیشن نے گزشتہ سال نومبر میں طلباء اور اُن سے حاصل ہونے والی آمدن کے اعداد وشمار جاری کیے۔

یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ کمپنی کے سالانہ منافع میں 40 ملین آسٹریلین ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد زائد ہے۔

کمپنی کی کارکردگی معنی خیز انداز میں 2015ء میں ہونے والے نتائج کی پیشن گوئی پر سبقت لے گئی۔اور منافع جات کمپنی کے آئی۔پی۔او کے لئے جاری پراسپیکٹس کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ تھے۔

کل آمدنی سترہ فیصد تک بڑھی جو قریباً تین سو باسٹھ (362)ملین ڈالر ہے۔

اوسط فیس میں 7 فیصد اضافہ اور آئیلٹس ٹیسٹ کے حجم میں چار فیصد اضافے کی وجہ سے یہ ترقی ہوئی۔

کثیر المقاصدحکمت عملی کی وجہ سے ترقی اور متنوع فوائد نتائج میں واضح طور پرعیاں ہیں۔ آئی ڈی پی ایجوکیشن کے 50 سے زائد مختلف ممالک میں قریباً 400 آئیلٹس کے امتحانی مراکز ہیں۔

اس کی انگریزی امتحان کی شاخ کی کل آمدنی 11 فیصد بڑھی جو قریباً 237 ملین ڈالرز ہے۔

انگریزی زبان کی امتحانی کارروائیوں میں جنوب مشرقی ایشیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔آئی ڈی پی ایجوکیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو برکلے نے “دی پائی نیوز” کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔

اس انٹرویو کے مطابق انگریزی سیکھنے کے شوقین افراد میں اضافہ ہونے کے باعث اور اپنے ملک سے بیرون ملک جاکر تعلیم حاصل کرنے کے رجحان کے باعث منافع میں اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص ایشیاء کے ممالک جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش سرفہرست ہیں۔

سٹوڈنٹس پلیسمنٹ کی مد میں بھی منافع میں اضافہ ہوا ہے جو کہ 33 فیصد ہے۔ آسٹریلیا میں طلباء کی پلسیمنٹ کے منافع میں 17 فیصد اضافہ ہواجو کہ 65 ملین ڈالرز ہے۔

جبکہ دیگر ممالک بشمول امریکہ اور کینیڈا میں طلباء کی پلیسمنٹ کے منافع میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 27 ملین ڈالرز ہے۔

کمپنی کی رپورٹ کے مطابق کثیر المقاصدحکمت عملی کی وجہ سے ترقی اور متنوع فوائد نتائج میں واضح طور پرعیاں ہیں گزشتہ مالی سال کی نسبت برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں سٹوڈنٹ پلیسمنٹ کا حجم 72 فیصد بڑھا۔

گزشتہ سال نومبر میں ، جب کیریئرز ویب سائٹ کمپنی “سیک” نے اپنی نصف کمپنی فروخت کر دی تھی تو اس وقت آئی ڈی پی ایجوکیشن آسٹریلوی سیکورٹیز ایکسچینج میں مندرج تھا اور اپنی ابتدائی سرکاری پیشکش میں 331.6 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے کے بعد آئی ڈی پی ایجوکیشن نے تجارت شروع کر دی تھی۔

کمپنی کا دیگر نصف حصہ (50 فیصد) اب بھی 38 آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں کی ملکیت ہے ۔

انگریزی زبان کی تعلیم کے کاروبار میں بھی 25 فیصد اضافہ ہوا۔کورس فیس کی مد میں 10 فیصد جبکہ طلباء کے حجم میں 14فیصد اضافہ شامل ہے۔

انگریزی بطور عالمی زبان سے آئی ڈی پی ایجوکیشن کو مالی فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ انگریزی زبان سیکھانے کا کاروبار اُس وقت زیادہ سود مند ہوجاتا ہے جب مختلف ممالک کی حکومتیں غیر ملکی طلباء کے داخلوں کی نرم پالیسی نافذ کرتی ہیں۔

جن ممالک میں انگریزی زبان نہیں بولی جاتی وہاں انگریزی زبان سیکھانے کے ادارے صنعت کے طور پر اُبھر رہے ہیں۔

آئی ڈی پی ایجوکیشن نے آن لائن کیمونٹی کو بھی مستقل پلیٹ فارم مہیا کر رکھا ہے جسے ڈیجیٹل آپریشن کا نام دیا گیا ہے۔

اس ڈیجیٹل آپریشن کے ذریعے سے آن لائن کیمونٹی کے تحت بین الاقوامی طلباء کی سفر میں رہنمائی اور ان کی زندگی میں تعلیم، کیرئیر جیسے اہم پہلوؤں پر رہنمائی کی جاتی ہے۔

پاکستان میں انگریزی زبان کا کورس کرانے کے متعدد ادارے موجود ہیں۔ برٹش کونسل اور آسٹریلوی ادارہ اے ای او سرفہرست ہے جہاں پر آئیلٹس کا کورس کرنے والے طلباء کا رش رہتا ہے۔

یہ ادارے صرف آئیلٹس کا امتحان ہی نہیں لیتے بلکہ آئیلٹس کے کورس کی تیاری بھی کراتے ہیں۔ پاکستان کے وہ طلباء جو برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا یا پھر دیگر ایسے ممالک میں جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں اُنہیں آئیلٹس کا امتحان لازمی طور پر دینا ہوتا ہے اور اس میں کم از کم چھ بینڈز بھی لینا ضروری ہوتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *