کیا حیدرآباد یونیورسٹی غیر قانونی ہے؟

    April 23, 2019 1:23 pm PST
taleemizavia single page

حامد شیخ

وزیراعظم عمران خان نے حیدرآباد میں وفاقی یونیورسٹی کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب اسلام اباد میں منقعد کی گئی جس میں ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،عامر خان اور فیصل سبزواری کے علاوہ گورنر سندھ اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی بھی شریک تھے ۔

عمران خان نے کہا کہ یونیورسٹی کی مخالفت کرنے والوں کا “مائنڈ سیٹ ” نہیں سمجھ سکا، یہ کون سی ذہنیت ہے جو یونیورسٹی بنانے کی مخالفت کر رہی ہے۔

حیدرآباد کی واحد اعلیٰ تعلیمی درسگاہ “سندھ یونیورسٹی ” 1951 میں قائم کی گئی ۔ اس جامعہ میں حیدرآباد اور اندرون سندھ کے ہزاروں طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ “سندھ یونیورسٹی ” کو پاکستان کی دوسری قدیم ترین درسگاہ ہونے کے ساتھ اور قیام پاکستان کے بعد بننے والی پہلی جامعہ کا اعزاز حاصل ہے ۔ یونیورسٹی میں طلباء کی رہائش کے لیے میٹھارام عمارت میں ہاسٹل قائم کیا گیا تاہم 1965 کے بعد جامعہ کے تنظیمی امور میں سیاسی بنیادوں پر تبدیلی کرتے ہوئے اسے ضلع جامشورو منتقل کردیا گیا ۔

یہ بات بھی قبل ذکرہے کہ سندھ کے دوسرے بڑے اور تاریخی شہر حیدرآباد سے ایم کیوایم تین دہائیوں سے مسلسل انتخابات جیت کر صوبائی اور قومی اسمبلی میں پہنچ رہی ہے ۔ اس کے علاوہ شہر میں اسی جماعت کا میئر منتخب ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ حیدآباد میں اعلی تعلیم کی درسگاہ بنانے میں ناکام رہی ۔ ایم کیوایم نے اپنے انتخابی منشور میں ہمیشہ یونیورسٹی کی تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور اس کو اپنی سیاست کا محور بھی بنایا تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل پرویزمشرف کے دور میں متحدہ قومی موومنٹ کو جتنے اختیارات اور وسائل مہیا کیے گئے اس میں ایک عالمی سطح کی بہترین جامعہ کا قیام کوئی مشکل کام نہیں تھا ، حیدرآباد کے شہری بالعموم اور طلبہ و طالبات با لخصوص کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم نے کبھی سنجیدگی سے حیدرآباد میں جامعہ کی تعمیر کی جانب ایک قدم بھی نہیں بڑھایا۔

23 فروری 2013 کو گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں ایک پر وقار تقریب منقعد کی گئی جس کے مہمان خصوصی اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف تھے۔ راجہ پرویز اشرف نے خود بھی اسی کالج سے تعلیم حاصل کی ہے۔ تالیوں کی گونج میں راجہ پرویز اشرف نے کالج کی تعمیروترقی کے لیے کروڑوں روپے کا اعلان کیا اور اچانک ہی ہال کے آخر ی حصے میں موجود طلباء نے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ شور کے باعث راجہ پرویز اشرف طلباء کے مطالبے کو سن نہیں سکے ۔ انہوں نے اسٹیج پر موجود پرنسپل صاحب سے استفسار کیا ، پرنسپل نے وزیر اعظم کو بتایا کہ طلبہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے جوں ہی یونیورسٹی کا اعلان کرنے کے لیے ڈائس کے جانب بڑھے تو اس وقت کے صوبائی وزیرتعلیم پیر مظہرالحق نے ڈائس پر جا کر وزیراعظم کے کان میں کچھ کہا ۔ جس کے بعد راجہ پرویز اشرف خاموشی سے اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئے ۔ یوں حیدرآباد کے شہریوں اور طلبہ کے دیرینہ مطالبہ پھر سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ۔

حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے کے نام پر سیاست ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی خوب کی۔ گزشتہ عام انتخابات سے قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے 27 مارچ 2017 کو حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حیدرآباد ایئرپورٹ کی بحالی ، میئر حیدرآباد کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 100 کروڑ روپے اور میٹرو بس منصوبے کے ساتھ ہی حیدرآباد شہر میں وفاقی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا ۔ وہ تقریر بھی تاریخ کے صفحوں میں کہیں گم ہو گئی ۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں معیاری یونیورسٹی بنانے کا اعلان میاں نواز شریف نے اپنی اس وقت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کہنے پر کیا ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح 2017 میں ایم کیوایم پاکستان مسلم لیگ ن کی ضرورت تھی بلکل اسی طرح آج عمران خان کی ضرورت ہے کیوں کہ ایم کیو ایم پاکستان پی ٹی آئی حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ حیدرآباد میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے معیاری یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا گیا اور 10 اکتوبر 2017 کو گور نمنٹ کالج حیدرآباد کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر سند ھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے گورنمنٹ کالج حیدرآباد کو ریونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا۔

پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے گورنمنٹ کالج حیدرآباد کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے اعلان کے ساتھ ہی قائم مقام وائس چانسلر بھی مقرر کردیا لیکن یونیورسٹی سینڈیکیٹ کی تشکیل نا معلوم وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہو گئی ۔ جامعہ کے قیام میں دوسری بڑی رکاوٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا اجازت نامہ تھا کیوں کہ موجودہ قوانین کے مطابق جب تک ایچ ای سی گورنمنٹ کالج حیدرآباد کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر داخلے شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا اس وقت جامعہ حیدرآباد میں تدریسی عمل شروع نہیں ہوسکے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے حیدرآباد میں وفاقی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد تو رکھ دیا لیکن پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت خوش نہیں ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کہتے ہیں کہ حیدرآباد ہمارا شہر ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یونیورسٹی کہاں بنانی ہے۔ وزیراعظم کے بیانات سے کچھ نہیں ہوتا کیوں کہ یونیورسٹی بنانے کیلئے سندھ اسمبلی سے رجوع ضروری ہے جس کی منظوری کے بغیر جامعہ تعمیر نہیں ہو سکتی ، وزیراعظم اس قانونی شق سے لاعلم ہیں ۔

ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنما حیدر آباد کی اعلی تعلیمی درسگاہ کے قیام میں تاخیر کو یہاں کے باسیوں کے لیے ناکردہ جرم کی سزا کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جامعہ حیدرآباد کے معاملے پر سیاست اوراس کے قیام میں رکاوٹیں ڈالنا قابل مذمت ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ طاقتور سیاستدانوں اور زمینداروں کے بچے تو پیسے کے زور پر اندرون اور بیرون ملک کے بہترین تعلیمی اداروں سے اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن غریب اور متوسط آمدن کے سفید پوش لوگوں کے بچوں کو اعلی تعلیم سے محروم کر کے ہزاروں طلباء و طالبات کے مستقبل کو تاریک کیا جا رہاہے ۔

1768 میں قائم ہونے والے حیدرآباد کو سندھ کا تاریخی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے ۔ حیدرآباد کی وجہ شہرت اس کے قیمتی ریشمی ملبوسات ، سونے اور چاندی کے تاروں سے کپڑے پر کڑھائی ، مٹی اور شیشے کی خوبصورت ظروف سازی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں کے ہنر مندوں کا ایشیا میں کوئی ثانی نہیں تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں کے ماہر ہنر مندوں نے یورپ کی کئی صنعتی نمائشوں میں انعامات بھی جیتے ۔

لیکن ان ماہر کاریگروں میں اگر کوئی کمی تھی تو وہ اعلی تعلیم اور معیاری درسگاہوں کی۔ یہاں کا فن تعمیر بھی دنیا سے مختلف تھا جس کی ایک جھلک شہر میں موجود جاگریانی اور تالپر حکمرانوں کی قدیم قبریں ہیں۔

حیدرآباد کے طلبہ و طالبات میں قابلیت اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ۔ یہ وہ مٹی ہے جو ” ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ” ۔حیدرآباد میں تعمیر ہونے والی جامعہ سندھ بھر کے طالبہ و طالبات کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہو گا۔ کیوں کہ اس شہر کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال کر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ صدیوں سے یہاں کے طلب علموں کی اہلیت اور قابلیت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہاں کے باسیوں کو ایک اعلی اور معیاری تعلیمی درسگاہ کب میسر ہوگی اور اس اہم سوال یہ کہ اس غیر سیاسی معاملے پر سیاست کب ختم ہوگی؟