آپ کی “سی وی” ملازمت کی پہلی سیڑھی ہے

  • November 30, 2017 10:48 pm PST
taleemizavia single page

سید اویس مختار

جاب انٹرویو پر بلائے جانے سے قبل آپ کا ریزیومے (سی وی) ہی آپ کی شخصیت اور قابلیت کا عکاس ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیجیے کہ آپ کا چہرہ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ’پہلا تاثر ہی دراصل آخری تاثر ہوتا ہے،‘ لہٰذا آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ آپ کا پہلا تاثر یعنی آپ کا ریزیومے اِس قدر متاثر کن ہو کہ ادارہ آپ سے متاثر ہوکر انٹرویو کے لیے بلانے پر مجبور ہوجائے۔

جب آپ کا ریزیومے کسی بھی ادارے کے ہیومن ریسورس (ایچ آر) ڈپارٹمنٹ کے ذمہ دار کے ہاتھوں میں پہنچتا ہے تو فقط 10 سے 12 سیکنڈز میں ہی یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ آپ کا ریزیومے ادارے کی خالی آسامی کے تقاضوں پر پوری اترتا ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم آپ کو اِس بلاگ کے توسط سے اپنی ریزیومے متاثرکن بنانے کے لیے چند اہم مشورے دیں گے، جس کی مدد سے آپ ریزیومے کی جانچ پڑتال کے اِن 10 سیکنڈز میں اپنا گہرا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔

اِس اثر کو ہم کچھ اِس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ اپنی گاڑی میں کہیں جا رہے ہیں اور اچانک آپ کی نظر ایک بل بورڈ پر موجود پُرکشش اشتہار پر پڑتی ہے تو چند ہی سیکنڈز میں چلتی گاڑی سے آپ اُس اشتہار کا جائزہ لے لیتے ہیں، بس بالکل اِسی طرح آپ کو اپنے ریزیومے میں بھی کچھ ایسی ہی کشش ڈالنی ہے کہ اُس کو دیکھنے والا ایک ہی نظر میں سمجھ جائے کہ ریزیومے لکھنے والا کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے۔

ریزیومے کو اخبار نہیں بروشر بنائیے

جب ہم ریزیومے بنانا شروع کرتے ہیں تو اِس حوالے سے باقاعدہ علم نہ ہونے کے سبب ہر وہ معلومات ڈال دیتے ہیں جس کی شاید ضرورت بھی نہیں ہوتی، کیونکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ سی وی جتنی بھری ہوئی ہوگی اُتنی ہی جاندار ہوگی، مگر ایسا بالکل بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ریزیومے میں بہت زیادہ لکھنا دراصل منفی ثابت ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ مواد ہوگا اُتنی ہی زیادہ پڑھنے والے کو پریشانی اور سمجھنے میں مشکل ہوگی۔ خود اپنے آپ سے سوال کریں، اخبار پڑھنا زیادہ مشکل ہے یا ایک بروشر پڑھنا؟ بس آپ کا ریزیومے آپ کا بروشر ہے لہٰذا اِس میں بہت ساری خالی جگہ ہونی چاہیے تاکہ پڑھنے والے کی آنکھوں پر بار نہ پڑے بلکہ وہ اِس کو پڑھنے میں دلچسپی محسوس کرے۔

مختصر مگر پُراثر

آپ کا ریزیومے مختصر مگر پُراثر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ہم اوپر بھی بتاچکے ہیں کہ ریزیومے پڑھنے کے لیے 10 سے 12 سیکنڈز درکار ہوتے ہیں، اِس لیے ہماری اولین کوشش ہونی چاہیے کہ پڑھنے والوں کو اِن 10 سیکنڈز میں مطلوبہ چیز نظر آجائے، اگر ایسا نہیں ہوا تو عین ممکن ہے کہ وہ ریزیومے کو مزید وقت دینے کے لیے راضی نہ ہوں۔

یاد رکھیے کہ اگر آپ کا ریزیومے تین صفحات کا ہو جس میں سے پہلے صفحہ پر کام کی چیز (یعنی تجربہ اور تعلیم) کے بجائے صرف آپ کے شخصی تعارف کی بھرمار ہو تو پھر یہ چیز پڑھنے والے کی دلچسپی کو اپنی جانب مبذول نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا ریزیومے کو مختصر سے مختصر کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ پہلی مرتبہ نوکری کی تلاش کررہے ہیں اور آپ کے لیے یہ کام کا پہلا تجربہ ہے تو ایک صفحے کا ریزیومے کافی ہے، اگر آپ کو ملازمت کرتے ہوئے 5 سے 10 سال ہوگئے ہیں تو ڈیڑھ سے دو صفحے، اور اگر پندرہ سال سے اوپر کا تجربہ رکھتے ہیں تب ہی تین صفحات تک پہنچیں، مگر یاد رکھیں کسی صورت میں بھی ریزیومے تین صفحات سے زیادہ نہ ہوں۔

اِس حوالے سے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ شروع میں ہی اپنا ذاتی تعارف دینے کے بجائے آپ اِس کو حذف کرسکتے ہیں۔ موجودہ دور میں زیادہ ذاتی معلومات دینا نہ صرف آپ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے بلکہ آپ کے ریزیومے پر بھی ایک بوجھ ہے۔ جب آپ ملازمت کے حصول کے لیے اداروں میں اپنا ریزیومے بھیجتے ہیں تو کسی کو بھی آپ کی ولدیت، شناختی کارڈ نمبر، آپ کی ازدواجی حیثیت اور آپ کے پاسپورٹ نمبر کی ضرورت نہیں ہوتی، لہٰذا ایسی معلومات کو حذف کریں اور اپنے ریزیومے کو مختصر کریں۔ یہ معلومات بعد ازاں ضرورت پڑنے پر آپ سے مانگی جاسکتی ہیں۔

اِس کے علاوہ اکثر ہم ایسی غلطی کرتے ہیں کہ اپنی جاب کی ذمہ داریاں (یعنی جاب ڈسکرپشن) لکھتے ہوئے بہت زیادہ تفصیل سے پیراگراف کی صورت میں لکھ دیتے ہیں جس سے پڑھنے والے کو آپ کے ریزیومے کا فوری جائزہ لینے میں مشکل پیش آتی ہے، لہٰذا اِس کو مختصر اور پڑھنے میں دلچسپ بنانے کے لیے آپ اِنہیں نکات کی صورت میں لکھیں اور اِن نکات کو بھی صرف 5 سے 7 پوائنٹس تک محدود رکھیں۔

یاد رکھیے کہ دورانِ ملازمت بھلے ہی آپ نے 100 کام کیے ہوں لیکن یہاں اُن سب کی تفصیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اُنہی ذمہ داریوں کا ذکر کریں جو کہ سب سے اہم ہوں۔ یوں آپ کا تجربے والا حصہ نہ صرف مختصر بلکہ پڑھنے میں بھی دلچسپ ہوجائے گا۔ اگر آپ ایک پرانے اور تجربہ کار ملازم ہیں تو زیادہ توجہ اپنی موجودہ ملازمت پر دیں اور پرانے تجربات کی تفصیلات کو جتنا مختصر ہوسکتا ہے اتنا مختصر رکھیں۔

اپنی تعلیمی تفصیلات کو آخری دو ڈگریوں تک محدود کریں، اگر آپ نے ماسٹر کیا ہوا ہے تو صرف ماسٹر اور گریجوئیشن کی تفصیل لکھیں، جب آپ ماسٹر کرچکے ہیں اور برسوں سے نوکری کر رہے ہیں تو پھر کمپنیوں کو اِس بات میں دلچسپی نہیں رہتی کہ آپ نے میٹرک کہاں سے کیا ہے؟ لہٰذا یہ اضافی معلومات ہیں اِنہیں حذف کردیں۔

تصویر

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تصویر لگانا ریزیومے میں ضروری نہیں، یہ بات کچھ عرصہ قبل تک کہی جاتی تو درست تھی، لیکن سوشل میڈیا کے استعمال میں زیادتی ہونے کے بعد اب ہر کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو کسی بھی شخص کے نام کے ساتھ اُس کی تصویر نہ دیکھ کر عجیب سا لگتا ہے۔ لہٰذا اپنے ریزیومے میں ایک تصویر کا اضافہ ضرور کریں، مگر خیال رکھیں کہ یہ پروفیشنل پورٹریٹ ہو، گوگل کرنے پر آپ کو پروفیشنل پورٹریٹ کی کئی مثالیں مل جائیں گی، جس سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد آپ ایک عدد پروفیشنل پروفائل پکچر بنوا کر اپنے ریزیومے میں لگاسکتے ہیں۔

کی-ورڈز کا استعمال

کی-ورڈ وہ لفظ ہوتا ہے جو آپ کی مکمل جاب پروفائل کو ایک لفظ میں بیان کردیتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کا تجربہ سیلز کے حوالے سے ہے تو آپ کے لیے مناسب کی-ورڈ ہوں گے سیلز، مارکیٹنگ، کسٹمر ہینڈلنگ، کمپلین مینیجمنٹ، وغیرہ۔ جب ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا ذمہ دار آپ کے ریزیومے کا مطالعہ کرے گا تو ایک طائرانہ نگاہ میں وہ اُنہی الفاظ یعنی کہ کی-ورڈز کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔ اگر وہ اُس کو نظر آگئے تو آپ کا ریزیومے پاس ہوجائے گا لیکن اگر مناسب طور پر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے یہ کی-ورڈز اُس کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو بہت ممکن ہے کہ آپ کا ریزیومے مسترد ہوجائے لہٰذا اپنی ملازمت کے حوالے سے کی-ورڈز تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اُن کو ریزیومے میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

اِسی طرح اگر کمپنی کا ایچ آر کوئی سافٹ ویئر یا کسی ویب سائٹ کا استعمال کررہا ہے، جیسے لنکڈ-ان، تو پھر یقیناً اِن کی-ورڈز کا مؤثر استعمال آپ کو اُس کے سامنے لاسکتا ہے، لیکن اِن کی-ورڈز کا کم استعمال آپ کو پسِ منظر میں بھی دھکیل سکتا ہے۔

کیریئر آبجیکٹیو

کئی لوگ ریزیومے کے اِس اہم نکتے کو نظر انداز کردیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ آپ کا کیریئر آبجیکٹیو، جو کہ ریزیومے کا سب سے ابتدائی حصہ ہوتا ہے، اگر وہ پڑھنے والے کو متاثر کردے تو اِس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ باقی کا ڈاکیومنٹ بھی اُس کا دل جیت لے گا۔ اکثر لوگ آبجیکٹیو اسٹیٹمنٹ کاپی پیسٹ کرتے ہیں جوکہ ایک بہت بڑی غلطی ہے، لہٰذا جب پڑھنے والے کی پہلی نظر اِس اسٹیٹمنٹ پر پڑتی ہے تو اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ جان لیتا ہے کہ یہ کاپی پیسٹ ہے، اور یوں اُس کے ذہن پر ملازمت کے درخواست گزار کا کچھ اچھا تاثر نہیں پڑتا، جس کی وجہ سے وہ اُس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔

دو یا تین لائن کا اسٹیٹمنٹ تیار کرنے میں آپ کو وقت لگانا پڑے گا، آپ کو اِس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آپ کے اِس فیلڈ میں آنے اور اِس کمپنی میں اپلائی کرنے کا کیا مقصد ہے، اور پھر اُسی مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا چند لائنوں پر مشتمل اسٹیٹمنٹ لکھیں جو مختصر، پُراثر اور حقیقت پر مبنی ہو۔ یاد رکھیں کہ یہ اسٹیٹمنٹ مختلف کمپنیز کے لیے مختلف ہوسکتا ہے۔

مطابقت

ریزیومے بناتے وقت مطابقت کو ذہن میں ضرور رکھیں، یعنی ریزیومے میں جو تجربات شامل کریں، اُن کا متعلقہ اسامی سے مطابقت ہونا نہایت ضروری ہے۔ آپ جو تعلیم اور اہلیت لکھیں وہ آپس میں موافق ہو۔ یہاں تک کہ مشاغل میں بھی اپنے ایسے مشاغل کو بیان کریں جن کا کسی نہ کسی طور پر اسامی کی ممکنہ ذمہ داریوں سے تعلق ہو۔

غیر متعلقہ باتیں آپ کے ریزیومے کا صرف وزن بڑھائیں گی جبکہ اُس میں کوئی ویلیو ایڈیشن نہیں کرسکیں گی۔ مثلاً اگر میں ٹیچنگ کی ملازمت کے لیے اپلائی کررہا ہوں اور میں اپنے مشاغل میں پبلک اسپیکنگ لکھوں تو اِس کا کافی فائدہ ہوگا، اِسی طرح میں سیلز میں اپلائی کررہا ہوں اور میں اپنے مشاغل میں نئے لوگوں سے ملنا جلنا لکھوں تو یہ بھی ملازمت کے حوالے سے کافی فائدہ مند ہوگا۔

آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ آپ کا ریزیومے ایک زندہ ڈاکیومنٹ ہے، یہ کوئی ایسی دستاویز نہیں جو ایک بار بنا دی تو ساری زندگی کے لیے کافی ہوگئی، بلکہ ہر کچھ دن بعد اِس کو ضرور دیکھیں کہ کس طرح اِس کو بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ کس طرح اِس میں زبان و بیان کی تبدیلی لائی جاسکتی ہے؟ کس طرح اِس میں نئے کورسز شامل کیے جاسکتے ہیں؟ اور کس طرح اِسے مزید جامع بنایا جاسکتا ہے؟

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ریزیومے ہر ملازمت کی اسامی کے لیے ایک سا نہیں ہوتا۔ آپ جس اسامی کے لیے اپلائی کررہے ہیں اُس حساب سے اپنے ریزیومے میں ترمیم کریں، جو باتیں اسامی سے مطابقت نہیں رکھتیں اُنہیں خارج کریں یا اُن کو پس منظر میں لے جائیں، جبکہ جو باتیں اسامی سے متعلق ہیں اُن کو نمایاں کریں۔

اُمید ہے آپ جب مذکورہ ہدایات پر عمل کریں گے تو اپنے ریزیومے کے جواب میں ملنے والے ردِعمل میں ایک واضح فرق محسوس کریں گے۔


بشکریہ ڈان نیوز

Leave a Reply

Your email address will not be published.