پنجاب میں ہائیر ایجوکیشن کی تباہی

  • August 17, 2018 7:09 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

کاروبار سیاست میں صرف سیاست باقی رہ جائے تو سماج کی شیرازہ بندی ہی خطرے سے دوچار ہوجاتی ہے۔ پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد طویل ترین دور حکومت شریف خاندان کا رہا ہے اور دس سال مسلسل اقتدار کا تاج اسی خاندان نے پہنے رکھا۔ نواز شریف نے جب وزارت عظمیٰ کا حلف ۲۰۱۳ء میں لیا تو پاکستان کو نالج اکانومی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پانچ سال بعد یہاں نالج کے ساتھ جو سلوک بغیر نالج والوں نے کیا اس سے اکانومی بھی جاتی رہی اور نالج تو ویسے ہی جامد کر دیا گیا۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ھماری حکومت نے ۱۹ نئی جامعات بنائیں اور سو سے زائد کالجوں کا نیٹ ورک بچھایا گیا یہ دعویٰ شاید گونگوں بہروں اور نابنیا افراد کو متاثر کرنے کے لیے تو درست ہوسکتا ہے لیکن دعویٰ کی حقیقت دعویٰ سے منسلک جملہ پہلوؤں کی جانچ پڑتال سے ہی ممکن ہے۔ پنجاب میں کالج ایجوکیشن سے لے کر یونیورسٹی ایجوکیشن تک ایک منظم اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ تباہی کے دہانے نہیں بلکہ تباہ کر دی گئی۔

ن لیگ کی حکومت نے حسب روایت اس تباہی کیلئے بیوروکریسی اور اُن تعلیمی مشیروں کا سہارا لیا جو ریاست کے تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کی سوچ رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے پنجاب حکومت نے یونیورسٹی کی خود مختاری پر قانونی راستہ اپنا کر ڈاکہ مارا۔ نئی یونیورسٹیوں کے لیے جو ایکٹ بنائے گئے اور قانون سازی کی گئی اس میں وائس چانسلر کو وزیر تعلیم کے ماتحت کر دیا گیا، سنڈیکیٹ پر پنجاب اسمبلی کے تین تین پارلیمنٹرین کو قابض کر دیا گیا حتیٰ کہ سنڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کا اختیار وائس چانسلر سے چھین کر وزیر تعلیم کو سونپ دیا گیا یعنی وائس چانسلر سنڈیکیٹ میں بیٹھ کر وزیر تعلیم اور تین تین ایم پی ایز، گورنر پنجاب کے نامزد کردہ نمائندے کی خواہش کے خلاف فیصلہ کرنے کی جراءت ہی نہ کرسکے۔

حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت نئی یونیورسٹیوں کے ایکٹ سے سینیٹ باڈی کا خاتمہ کر دیا۔پنجاب حکومت نے وزیر تعلیم کو محض ربڑ سٹیمپ نہیں رکھا بلکہ صوبے بھر کی جامعات میں پرو چانسلر لگا دیا تاکہ وہ براہ راست جامعات کی خود مختاری کو خود مختار نہ رہنے دے۔ یہ اعلیٰ تعلیم پر پہلا منظم حملہ ہوا۔ جب شہباز حکومت نے یہ کام مکمل کر لیا تو رہی سہی کسر اُن سرچ کمیٹیوں کے ذریعے سے پوری کرا دی گئی جس نے وائس چانسلرز کے اُمیدواروں کے انٹرویوز کرنا تھے۔

پہلے تو ان سرچ کمیٹیوں میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان کو شامل کیا گیا کہ وہ سرکاری یونیورسٹیوں کے سربراہ کی تقرری کا فیصلہ کریں جب پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے میرٹ پر سرچ کمیٹیوں کے ممبران کو نامزد کرنے کے لیے نام بھیجے تو محکمہ ہائر ایجوکیشن اور وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ میں بیٹھی بیوروکریسی نے ان ناموں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا حتیٰ کہ ایک پرائیویٹ سکولز کا برانڈ چلانے والی خاتون کو سرچ کمیٹی کا ممبر بھی لگا دیا گیا۔ یہ دوسرا منظم حملہ تھا۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت بڑھانے کے لیے بیوروکریٹ اور عالمی اداروں میں انتظامی عہدہ کا تجربہ رکھنے والے افراد کو بھی وائس چانسلر کیلئے اہل قرار دے دیا گیا۔

یوں اعلیٰ تعلیم کی تباہی کی داستان آگے بڑھتی ہے۔ شہباز حکومت نے صوبے کی سب سے بڑی جامعہ یعنی پنجاب یونیورسٹی کو دو سال تک مستقل وائس چانسلر کے عہدے سے خالی رکھا اور یونیورسٹی کو ایڈہاک ازم پر چلا کر اسے سیاسی تنظیم کے سُپرد کر دیا صرف یہی نہیں بلکہ تباہی کے اس منصوبے کو پنجاب تک پھیلایا گیا اور ۱۴ سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر کے عہدے خالی رکھے اور بھر پوری سیاسی مداخلت کر کے ان یونیورسٹیوں کے اندرونی ڈھانچوں کو کھوکھلا کر دیا گیا۔ آج بھی پنجاب کی جامعات میں وائس چانسلر کے عہدے خالی پڑے ہیں۔

تباہی کی اگلی منزل کیلئے پنجاب حکومت نے سرکاری کالجوں کا چناؤ کیا۔ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے عمارتیں بنانے کی بجائے صوبے کے پوسٹ گریجویٹ سرکاری کالجوں کی تختیاں ہٹا کر خادم صاحب نے یونیورسٹیوں کی تختیاں لگا دیں۔ چنانچہ صوبے میں ڈویژینل ہیڈ کوارٹرز کے بڑے کالجوں میں انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن سطح کی تعلیم کو بند کر دیا گیا اور جو تختیاں یونیورسٹی کے نام کی لگائی گئیں ان یونیورسٹیوں سے بڑے لاہور کے سرکاری کالج ہوں گے۔ صرف یونیورسٹی کا نام سیاسی مہم میں استعمال کرنے کے لیے چھ کالجوں میں یونیورسٹی کے بورڈز لگا دیے گئے آج یہ بورڈ شہباز شریف کی حکومت پر ماتم کناں ہیں۔

ایک وقت تو ایسا آیا کہ یونیورسٹیوں کے تعلیمی فیصلوں کا اختیار رانا ثناء اللہ کو سونپ دیا گیا۔ شہباز حکومت کا دل اور جگرا بہت بڑا تھا اس لیے اب صوبے کے تعلیمی بورڈز کا رُخ کیا گیا اور بیورورکریسی نے کمال مہارت کے ساتھ ان بورڈز پر قبضۃ کر لیا۔ پنجاب کے سات تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کے عہدے شبہاز حکومت نے جان بوجھ کر پندرہ مہینے تک خالی رکھے اور ہر ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر کو چیئرمین بورڈز لگا دیا گیا۔

شہباز حکومت نے ہائر ایجوکیشن کی بربادی کا یہ پراجیکٹ اپنے خاص مشیر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو سپرد کر رکھا تھا اور ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی نے اپنی پرائیویٹ یونیورسٹی کی تو حفاظت کی لیکن وہ سرکاری اداروں کی تباہی میں برابر کے شریک رہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی المعروف ڈاکٹر زک جو پروفیسر بننے کے لیے اہل نہیں تھے انھیں ہائر ایجوکیشن کی منصوبنہ بندی اور یونیورسٹیوں کا وائس چانسلر لگانے کیلئے اہل قرار دیا گیا۔

پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ ن لیگ کی حکومت نے جو کچھ کیا اب تحریک انصاف قانونی راستہ اپنا کر ان تباہ حال یونیورسٹیوں اور کالجوں کی بحالی کیسے کرتی ہے۔ پنجاب میں اس وقت عالمی ڈونز ایجنسیوں کے سہولت کاروں، پالیسی ساز بہروپیوں کا کنٹرول ہے اور تعلیم کے شعبے میں یہ کنٹرول سکولز ایجوکیشن سے لے کر ہائیر ایجوکیشن تک موجود ہے۔ مجھے بس اتنی فکر ہے کہ تحریک انصاف نے اس تعلیمی تباہی کے پراجیکٹ کو بند نہ کیا تو پھر مستقبل میں ہائر ایجوکیشن کی حالت سرکاری سکولوں کی جیسی ابتر حالت سے مشابہہ ہوگی۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
Back

  1. Disorder in higher educatiin generally in Pakistan and especially in Punjab is almost irreversible. Weak and hand-picked Vice Chancellors can not improve the situation which is getting darker and darker day by day. A national commission should be constituted comprising senior Educationists but not the imported ones. Tht commission should first indicate the “reasons” and second recommend remidies. Then goverment should make a serious attemt to implement the recommendations throughout the country.

  2. جناب سومرو صاحب آپکا تجزیہ واقعی قابل تحسین مگر تھوڑی سی روشنی اگر آپ یونیورسٹیوں کے بی ایس, ایم فل/ ایم ایس اور پی ایچ ڈی پر ڈالیں گے تو آپکو یونیورسٹیوں چہرہ بہت ہی بھیانک نظر آئے گا.
    اور اس کے پیچھے یونیورسٹیوں کی وہ دوڑ ہے جسکا مقصد محض طلباء سے فنڈز لینا ہے اور خدا غضب کروڑوں روپے تو صرف پراسپیکٹس کی مد میں طلباء سے اکٹھے کر لیے جاتے ہیں اور پھر سالانہ یہ اربوں تک جا پہنچتی ہے
    جبکہ داخلہ لینے والے طلباء کا کوئی پرسان حال نہی ہے
    سمسٹرز سسٹم نے کوالٹی ایجوکیشن کا تو بیڑا ہی غرق کردیا ہے
    جبکہ ریسرچ کے نام پر طلباء کا استحصال جاری وساری ہے اور ریسرچ کروانے والے بعض سپروائزرز ریسرچ کی بجائے طلباء کا مالی استتحصال کرنا فرض عین سمجھتے ہیں
    اوپر سے سب کیمپسز کھول کر تعلیم کی فروخت کا کاروبار چمکا یا جا رہا ہے اور طلباء کا پرسان حال کوئی پوچھنے والا نہیں

  3. سارے عوامل میں سے جو بات یہاں میں کہنا چاہوں گی وہ کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دینا ہے۔جو تباہی اس فیصلے سے آئی ہے وہ بیان سے بھی باہر ہے۔میں دو مرتبہ بحیٹیت استاد اس تجربے سے گزری۔اور اپنی آنکھوں سے بہترین رزلٹ اور ریکارڈ رکھنے والے اداروں کو صرف پیسے کمانے کی مشین بنتے دیکھا۔صرف یونیورسٹی کا نام ساتھ لگانے سے اور پی ایچ ڈی بھرتی کرنے سے کوئی ادارہ ترقی نہیں کر سکتا۔ وقت آگیا ہے کہ اس حقیقت کو سمجھا جائے۔تعلیمی نظام کو اے ٹی ایم مشین بنانے کی بجائے اگلی نسلوں کی تربیت گاہ تک رہنے دیا جائے۔تو اس قوم اور ملک بر احسان ہو گا۔دردمندانہ اپیل ہے۔اس لئے بھی کہ کئی ہیرے صرف اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کہ اے ٹی ایم تعلیمی نظام کی فیس انکے گھر آنے والی قلیل تنخواہ سے میل نہیں کھاتی۔۔صرف ایک بچہ بھی اس تنخواہ سے نہیں پڑھ سکتا۔تو پھر ہم کس قوم کے کس مستقبل کے لئے یہ تعلیمی نظام بنا کے بیٹھے ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.