نئی پی ایچ ڈی پالیسی: میٹرک سے میٹرک تک

    January 14, 2021 9:18 am PST
taleemizavia single page

شبیر احمد خان

ہمارے ایک دوست انگریزی کے پرچے میں پورے پورے پاسنگ مارکس یعنی 33 نمبروں کے باعث میٹرک پاس کرگئے اور ہمارے ساتھ ہی شہر کے سب سے بڑے گورنمنٹ کالج میں داخلہ بھی مل گیا۔ ایف۔ اے کا امتحان بھی غیر امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا مگر صرف انگریزی میں فیل ہوئے۔ مگر کالج کی پروموشن پالیسی کے باعث ایک مضمون میں کمپارٹمنٹ کے باوجود تیرہویں جماعت میں ترقی کے حقدار ٹھرے، مگر ایک شرط کے ساتھ کہ بی۔اے کے امتحان سے پہلے، ایف۔اے کی انگریزی کے پرچہ کو پاس کرنا ہوگا۔

ہمارے اس دوست کا پُختہ ایمان کی حد تک خیال تھا کہ ایف۔ اے۔ کی انگریزی، بی۔ اے۔ کی انگریزی سے زیادہ مُشکل ہے، اور اگر وہ ایف۔ اے۔ کی انگریزی کلیئر کرگئے تو پھر بی۔اے۔ کی انگریزی تو ہے ہی آسان۔ بی۔اے۔ کا امتحان قریب آگیا اور صرف ایف۔ اے۔ پاس کرنے کا ابھی ایک ہی چانس باقی تھا تو ہم نے اُنہیں یاد دلایا کہ اگر اُنہوں نے ایف۔ اے۔ پاس نہ کیا تو پھر وہ بی۔اے۔ کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ یہ سُن کےاُن کا فرمانا تھا جو ہمیں آج بھی یاد ہے۔

” دوستو یاد دہانی کا شُکریہ، ٹرائی کر لیتے ہیں، ایف۔ اے کی انگریزی پاس تو بی۔ اے بھی پاس، وگرنہ میٹرک تو مُجھ سے کوئی چھیننے والا نہیں ہے، میٹرک تو میں رہوں گا”۔

میرا خیال ہے کہ ہمارے اس دوست کی ہی طرح کے لوگ اعلی تعلیمی کمیشن میں بیٹھے ہیں کہ ایسے ایسے لوگ پہلے پی۔ ایچ۔ ڈی کرجائیں کہ اگر بعد میں اُن سے میٹرک بھی نہ پاس ہو سکے تو کم از کم وہ پی۔ ایچ۔ ڈی تو رہیں۔

ماشااللّہ پی۔ ایچ ۔ ڈی کرلی ہے اب میٹرک بھی کر ہی لو۔ شاید چند سالوں کے بعد یہ صائب مشورہ حقیقت کا روپ دھارلے۔ اعلی تعلیمی کمیشن نے بی۔ایس۔ کے بعد، ایم-اے اور ایم۔ فل سے پہلے پی۔ایچ۔ ڈی کرنے کی اجازت دے دی ہے، بات بڑھتی بڑھتی میٹرک تک آہی جائے گی ۔ اور تو اور اب پی۔ ایچ۔ ڈی کے لئے یہ بھی شرط نہیں ہوگی کہ جس مضمون میں کی جائے وہ کبھی زندگی میں پڑھا بھی ہو، جو جی میں آئے بلکہ جو مُنہ میں آئے اُس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جاسکے گی ۔اس سے جعلی ڈگریوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی، جب اصلی ڈگری ، جعلی ڈگری سے بھی زیادہ آسانی سے مل جاۓ گی تو لوگ جعلی ڈگریوں کی طرف کیوں بھا گیں گے۔

تعلیمی ادارے مُفت کی بدنامی سے بھی بچ جائیں گے۔ ظاہر ہے اب بدنامی پہ کُچھ نا کُچھ خرچ ہوگا۔ اس پالیسی سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اعلی تعلیمی کمیشن ابھی بھی یہ سمجھتا ہے کہ مُلک میں اعلی تعلیم کا جنازہ اُٹھنے میں ابھی کُچھ کرنا باقی ہے۔

بی۔ایس۔ کے بعد پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا بس ایک فائدہ ہے کہ اکثر رشتہ کے وقت لڑکے اور لڑکی والے دونوں ٹرمینل یعنی آخری تعلیمی قابلیت یا ڈگری سے عمُر کا اندازہ لگا لیتے تھے۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کا سُنتے ہی مُنہ بن جاتا تھا کہ عمُر زیادہ ہے ، بھئی تعلیم بھی تو زیادہ ہے، مگر اس پر غور نہیں کرتے تھے۔ لیکن اب شاید ایسا نہ ہو۔ مُجھے ڈر ضرور ہے کہ شاید اب ضمنی سوالات زیادہ پوچھے جائیں گے کہ اگر لڑکی پی۔ ایچ۔ ڈی ہے تو کیا پُرانے سسٹم والی یا بی۔ ایس کے بعد والی۔ لیکن اگر بات میٹرک تک آگئی تو پھر اصل آسانی پیدا ہوگی جب ماں باپ فخر سے بتایا کریں گے کہ جناب لڑکی یا لڑکے نے پی۔ ایچ۔ ڈی ۔ کی ہے اور جلد میٹرک بھی کرلے گی یا گا۔ یوں رشتوں میں آسانی پیدا ہوجایا کرے گی۔

ایک اور پالیسی کہ جہاں سے ڈاکٹریٹ کی ہے وہاں تین سال گُزرنے تک مُلاازمت نہیں کرسکیں گے اگر آپ اُن بدنصیب لوگوں میں سے ہیں جو پہلے وہاں مُلازم نہیں تھے۔ اس لۓ پہلے کسی تعلیم کے اعلی ادارے میں مُلازمت حاصل کریں ، خواہ کسی بھی گریڈ میں ہو، پھر پی۔ ایچ۔ ڈی۔ تو رُنگے میں ہوجاۓ گی، ہوسکتا ہے باہر کے لئے وظیفہ بھی مل جاۓ، اور پھر ترقی کے راستے یوں کُھل جائیں گے کہ پوری زندگی میں ایک بھی مُقابلے کے امتحان یا بھرتی کرنے والے بورڈ میں پیش ہوئے بغیر سیدھے وفاقی سیکرٹری کے برابر اکیسویں گریڈ میں براہ راست بھرتی بھی ہوجائے گی اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا۔

شفافیت کا یہ عالم ہے کہ خبردار جو اپنے ہی شعبہ کے جرنل میں اپنا مقالہ چھاپا یا چھپوایا۔ تو میری کمر کُھجا میں تیری کمر کُھجا دیتا/دیتی ہوں کی پالیسی زیادہ مُناسب رہے گی۔ آخر باہمی تعاون اور میل جول بھی تو کوئی چیز ہے۔

ہمارے ہاں ‘ مفادات کا ٹکراؤ’ یعنی کنفلکٹ آف انٹریسٹ والا اصول تعلیم میں ہرگز نہیں ہے۔ بس علم حاصل کرنا ہے ۔ ترقی یافتہ دُنیا میں تعلیمی حوالے سے بھی مفادات کے ٹکراؤ کا خیال رکھا جاتا ہے اور سخت قوانین موجود ہیں۔ ایک پُختہ روایت کے مُطابق شمالی امریکہ کے تعلیمی نظام میں جہاں سے پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کی جاتی ہے وہاں مُلازمت نہیں کی جاتی۔

اس لئے عموماً ٹیچنگ فیکلٹی کا تعلق دوسری یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں احادیث ضعیف، غریب ، یا کمزور ہوسکتی ہیں ، مگر مجال ہے کہ تعلیمی ڈگری ضعیف، غریب۔ یا کمزور ہو؟ ایک کمزور سے کمزور ڈگری بھی کسی بھی اعلی سے اعلی تعلیمی عہدے کے حصول میں رُکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہاں بلوچستان کے عظیم سپوت نواب اسلم رئیسانی صاحب کی یہ کہاوت یاد آجاتی ہے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔

لیکن جناب ابھی بھی ایسے اعلی تعلیم کے اعلی ادارے موجود ہیں جہاں قابلیت اور معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مُلک کے ایک معروف تعلیمی ادارے نے ایک ایسے صاحب علم کو جو اپنے والد سے بھی زیادہ صاحب علم ہیں اور اکیلے کئی کئی پی۔ ایچ۔ ڈیز پر بھاری ہیں، اُنہیں پی۔ ایچ۔ ڈی، میں داخلہ دینے سے اس لیے انکار کردیا ہے کہ اُن کی وجہ سے داخلے کا معیار اتنا اونچا نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی دوسرا داخلے کا اہل ہی نہ ہو۔ اور وہ کام جو وہ پی۔ ایچ۔ ڈی۔ ہوئے بغیر زیادہ بہتر انداز سے کئی عشروں سے کرتے چلے آرہے ہیں وہ ابھی بھی اُسے جاری و ساری رکھیں ۔

پرائمری، مڈل ، ہائی سکولوں ، اور کالجز کی بربادی کے بعد اب اعلی تعلیمی اداروں کی باری آگئی ہے کہ رہی سہی کسر ان کی تباہی سے پوری کی جاۓ۔ اور یہ نیک کام اعلی تعلیمی اداروں کی قیادت غیر محسوس انداز میں نہایت دیانت داری سے کرسکتی ہے، باقی کسر ترقیوں کے مُتلاشی ، درس وتدریس کے متوالے پوری کردیں گے۔

رہی بات پروفیسر ہود بھائی (غلطی سے پروفیسر کود بھائی لکھا گیا تھااور جسے بھائی کے علاوہ سب کُچھ سمجھا جاتا ہے) کی باتوں پہ کان دھرنے کی چنداں ضرورت نہیں، نری بکواس کرتا ہے۔ اپنی برداری کا ہوکر کیڑے نکالتا ہے، بھلا کوئی سگے باپ کو ماں کا خصم کہتا ہے، یہ اکیلا بھائی ہے جو کہہ دیتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ جس کے ساتھ بھی بھائی لگتا ہے وہ اتنا ناپسندیدہ کیسے ہوجاتا ہے۔ سواۓ مُنا بھائی کے۔ ہود بھائی ہمارے اعلی تعلیمی نظام کی کامیابیوں سے جلتا ہے۔ جلنے والے کا مُنہ کالا اور جلانے والے کا کُچھ بھی کالا نہیں۔ ہود بھائی کا اُس وقت کیا حال ہوگا جب جلد ہی ترقی یافتہ مغربی مُلکوں کے طلباوطالبات ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کا رُخ کریں گے۔ میرا خیال ہے پروفیسر ہود بھائی شرم سے پانی پانی ہوجائے گا، اور پھر اس کے پانی سے ہم کار چلائیں گے۔ پھر اسے اندازہ ہوگا کہ پانی سے کار چلائی جاسکتی ہے۔

چند سال پہلے تندور پر روٹیاں لگانے والا لڑکا بی۔ اے۔ کے امتحان میں ٹاپ کرگیا۔ اعلی تعلیم کے ارباب اختیار نے اُسی دن فیصلہ کرلیا تھا کہ ایسی ڈگری کس کام کی کہ ایک تندورچی چھوکرا حکومت کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کا یوں پول کھول دے۔ چُناچہ دو سالا بی۔ اے۔ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ شاید اب مزید دو سال کی گُنجائش نکالی ہے، اس کے بعد، بی۔اے۔ کی جگہ ایک معاون ڈگری کا آغاز متوقع ہے۔ جب بی۔اے۔ ہی ختم کرنا ہے تو پھر دوسالا ایم۔ اے۔ کو بھی لپیٹ دیا جاۓ۔ آئندہ یہ ہونے بھی جارہا ہے۔

ہوسکتا ہے یہ ایف-اے۔ کی پخ بھی اُڑا دی جاۓ ، تو پھر میٹرک رہ جاۓ گا، صرف میڑک اور پی۔ ایچ۔ ڈیز۔ باقی بچیں گے۔ اگر شرط ہوئی کہ پی۔ ایچ۔ ڈیز۔ بعد میں میٹرک بھی کریں تو پھر لگتا ہے زیادہ پی۔ ایچ۔ ڈیز ہی بچ جائیں گے۔

اسی طرح شاید حکومتی مدد کے بغیر ہر قسم کی تعلیم پر پابندی لگنے کا بھی امکان ہے۔ یعنی پرائیوٹ، یا گھر میں بیٹھ کر اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کرکے ، ڈگری ہولڈرز کی بے روزگار فوج کی بجاۓ بہتر ہے لوگ بغیر تعلیم کے بھی ہوں اور بغیر روزگار کے بھی۔ اس سے حکومت کی بدنامی میں کُچھ کمی واقع ہوگی۔ میں نے صرف پی۔ ایچ۔ ڈی۔ بے روزگاروں کو روزگار کے لۓ مُظاہرے کرتے دیکھا ہے، کبھی میٹرک، ایف۔اے۔ یا بی۔ اے۔ پاس کو یہ حرکت کرتے نہیں دیکھا، وہ اور کئ کام بھی کر لیتے ہیں۔ پی۔ ایچ۔ ڈی والوں کا کہنا ہے کہ پی۔ ایچ۔ ڈی۔ کرنے کے علاوہ اُنہیں اور کوئی کام آتا بھی نہیں۔ حکومت پھر بھی اُن کی نہیں سُن رہی۔

ہمارے اعلی تعلیم سے وابستہ ایک دوست بتا رہے تھے کہ سال میں امریکہ دُنیا میں سب سے زیادہ پی۔ ایچ۔ ڈیز۔ جو پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہیں پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح انڈیا سمیت کئی اور مُلکوں کا بتایا جو ہمارے سے کہیں زیادہ پی۔ایچ۔ ڈیز۔ پیدا کرتے ہیں۔ مُجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ تو امریکہ میں رہے ہیں تو کیا یہ دُرست ہے ؟ میں نے پوچھا کہ اس میں مسئلہ کیا ہے۔ فرمانے لگے کہ ہمارے ہاں تو پی۔ ایچ۔ ڈیز۔ پیدا نہیں ہوتے۔ سب بچے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے حضرات اب اعلی تعلیمی کمیشن میں بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ پی۔ ایچ۔ ڈیز۔ پیدا کیے جائیں۔ یہ خواہش رکھنا بُری بات نہیں ہے۔

میری تحریر سے یہ مطلب نہ نکالا جاۓ کہ ایک نیا ہود بھائی جنم لینے کو ہے۔ آ نیو ھود بھائی اِز ِان میکنگ۔ میں کہاں اور ہود بھائی کہاں جو ایم۔ آئی۔ ٹی۔ سے پی۔ ایچ۔ ڈی۔ ہے اور میں ایم۔ آئی۔ ٹی۔ کے صرف سامنے سے گُزرا ہوں۔ نہ یہ سمجھا جاۓ کہ اعلی تعلیم میں کسی اصلاح کا حامی ہوں۔ بس یہ ضرور ہے کہ اگر اسے دانستہ برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو صرف یہ عرض ہے کہ اتنی جلدی کیا ہے، یہ کام آہستہ آہستہ بھی ہوسکتا ہے۔ آخر میں بس ایک شعر۔

واۓ ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

  1. Its a thoughtful review of our deteriorating education system.Unfortunatelty everything in our dear home land fell a victim to dirty politics with vested interests of the few which resulted in a disaster.We have good policies with bad intentions and no implementations.The whole official machinsry moves in a single direction to please the high ups.Repeated change of secretary educations in all regimes shows the lack of consistency and non serious attitude of the ruling class.BS Honours and M.Phil leading to PhD or direct PhD after BS with two years course work is not a bad option provided that it is implemented in true letter and spirit.
    As for as publushing policy is concerned either we go for a neo imperialism by providing no funding and insisting on publishing in Web of Sciences which generally has all American publishing companiesor national journals of the universiries which publish on recommedation not merit or new publishing houses run under the hiddrn umberalla of HEC
    and charge in lacs.And then what happened to the merit is yet another tale of a dream gone sour

  2. میرے خیال میں وطن عزیز میں دانستہ طور پر اور ایک پلاننگ کے تحت تعلیم اور تعلیمی اداروں کو تباہ کیا گیا ھے۔ تباہی کا آغاز اس وقت ھوا جب UGC کو HEC میں بدلا گیا اور بے شمار ایسے پروگراموں کا آغاز کیا گیا جن کا ثمر آج ھمیں مل چکا ھے۔ اس تباہی میں ان بڑے بڑے جگادریوں کا ھاتھ ھے جو آج بھی اپنے آپ کو علمی دنیا کا افلاطون سمجھتے ھیں اور ہنوز بھی ایسی تعلیمی پالیسیاں پیش کر رھے ھیں جو انشااللہ رھی سہی کسر پوری کر دیں گی۔ تعلیم کا جنازہ تو نکل چکا ھے صرف تدفین باقی ھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *