شامی مہاجرین کی تعلیم کی خاطرجرمنی کو100ارب ڈالرز کی ضرورت

    September 1, 2016 1:16 am PST
taleemizavia single page

خصوصی رپورٹ: ازکیٰ ضیاء

تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق جرمنی سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعلیم پر سو ارب ڈالرز خرچ کرنے پڑیں گے۔

نئے تعلیمی سال میں صرف جرمنی میں پچیس ہزار نئے اساتذہ کی ضرورت ہے۔

شام میں جنگی حالت کے باعث ملک چھوڑ کر جرمنی آنے والے خاندان شدید مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے بچوں کو سکولوں میں گنجائش نہ ہونے کے باعث داخل کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال جرمنی میں گیارہ لاکھ افراد میں سے دو لاکھ بیس ہزار پناہ گزینوں کی عمر بیس سال یا اس سے کم ہے۔

جرمنی میں آئندہ مہینے مقامی انتخابات ہورہے ہیں، توقع کی جارہی ہے کہ ان انتخابات میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کیوں کہ جرمنی میں پناہ گزینوں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے فیصلے پر لوگوں کو اپنی رائے کے ذریعے رد عمل دینے کا موقع ملنے جارہا ہے۔

بعض جرمن کے نزدیک پناہ گزین ملکی معیشت پر دباؤ ہیں۔

تعلیمی معاشیات اور سماجی امور کے تحقیقی مرکز کے سربراہ ڈایئٹرڈوہمین کا کہنا ہے کہ ہم نے کچھ نئے حساب کتاب کیے ہیں جن کے مطابق جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں کی مکمل تعلیم کا کُل خرچہ 67 بلین یورو ہے۔

جرمنی میں ہونے والی غیر مطبوعہ تحقیقی اندارے کے مطابق پندرہ لاکھ پناہ گزین جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دو ہزار بیس تک داخلہ لے سکیں گے۔

اس میں اعلیٰ تعلیمی اخراجات بھی شامل ہیں۔ واضع رہے کہ جرمنی میں یونیورسٹی تعلیم مفت ہے اور دو ہزار سولہ میں اس کے لیے پندرہ ارب یورو مختص کیے گئے ہیں۔

جرمنی میں پناہ گزین مہاجرین کی تعداد کے اندازے کے مطابق دو لاکھ بچوں نے کنڈر گارڈن اور مزید تین لاکھ بچوں نے سکول کی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ اس کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم بھی شامل ہوگی۔

اگر کسی تین سالہ بچے کی مثال لی جائے تو اس نے ابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے اس لئے یہ اعداد و شمار اگلے بیس سال تک کے ہیں۔

مسٹر ڈوہمین کہتے ہیں کہ اس چیلنج کو پورا کرنے کے لئے 25,000 مزید اساتذہ کی ضرورت ہے۔

تاحال کئی کلاسیں رضاکار چلا رہے ہیں۔ سکول بھی دفتری رکاوٹوں کے خلاف کوشش کر رہے ہیں مثلاً حالیہ ریٹائرڈ اساتذہ کو دوبارہ تدریس کے لیے بھرتی کیا جائے۔

اس وقت ریاست کے تعلیم کے وزراء اعلیٰ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن بنیادی طور پر عملے کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور ان کا بھرتیوں کا عمل بھی خاصا پیچیدہ ہے۔

جرمنی میں شرحِ پیدائش گرنے کی وجہ سے سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں شدید کمی آئی تھی۔ اعداد و شما ر کی ایجنسی ڈیسٹاٹس کے مطابق 2005ء میں آٹھ لاکھ بائیس ہزار بچوں نے سکول جانا شروع کیا اور دو ہزار پندرہ میں یہ تعداد کم ہوکر سات لاکھ نوے ہزار رہ گئی۔

اساتذہ کی نمائندہ تعلیمی یونین کے صدر مارلس ٹیپ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 16 وفاقی ریاستیں ہیں اور ان سولہ حکومتوں کو تقریباً پچیس ہزار نئے اساتذہ کی ضرورت ہے لیکن خاطرخواہ تعداد میں اساتذہ دستیاب نہیں ہیں اور کچھ علاقوں میں ان کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔

مسٹر ٹیپ نے کہا کہ مہاجرین کے اس اضافے سے نمٹنے کے لیے 14,000 اساتذہ بھرتی کر لیے گئے ہیں۔

ابتدا میں ایک رائے عامہ تمام سکولوں کی تھی کہ باقاعدہ اسباق سے قبل ان تمام بچوں کو جو جرمن زبان نہیں بول سکتے، انہیں مناسب انداز میں ایک جماعت میں ڈال دیاجائے۔

مسٹر ہیملراتھ نے کہا درحقیقت ہمارا بھی یہی خیال تھا اور تعلیمی سائنسدانوں نے بھی یہی بتایا کی نئے بچوں کو مکمل طور پر علیحدہ کر دینا صحیح نہیں ہو گا۔ انہیں باقاعدہ جماعت میں کچھ وقت درکار ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *