آغا خان یونیورسٹی کو گیٹس فاؤنڈیشن کی 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی گرانٹ

    September 1, 2016 9:01 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

آغا خان یونیورسٹی کراچی کو بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پانچ سال سے کم عمر بچوں اور ماں کی زندگی کو بچانے کے منصوبے پر 25 ملین امریکی ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔

آغا خان یونیورسٹی اس فنڈ سے کم عمر بچوں اور دوران زچگی خواتین کی اموات کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 4 لاکھ چالیس ہزار بچوں اور خواتین کا 2015ء میں اموات ہوئی ہیں۔

کیونکہ خواتین اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح دیہی علاقوں میں زیادہ ہے۔

لہذا آغا خان یونیورسٹی کے ریسرچرز اس فنڈ کے ذریعے سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت 14 ڈسٹرکٹ میں کام کا آغاز کریں گے۔

پاکستان کے شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں دوران زچگی بچوں اور خواتین کے اموات کی شرح چار گنا زیادہ ہے۔

بچوں اور خواتین میں ہونے والی ان اموات میں سے اکثر اموات بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتی ہیں جس پر قابو پانا ممکن ہے۔

مثال کے طور پر 5 سال سے کم عمر بچوں کی 30 فیصد اموات نمونیا اور ڈیریا کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

اس گرانٹ کے ذریعے سے آغا یونیورسٹی اُمید نو کے نام سے پراجیکٹ کا آغاز کر رہی ہے جس میں بڑے پیمانے پر پبلک اور پرائیویٹ اداروں کی معاونت سے چھ منصوبوں شروع کیے جائیں گے۔

بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے گلوبل ڈویلپمنٹ پروگرام کے صدر ڈاکٹر کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ انفرادی سطح پر ایسی زندگیوں کو بچانے کے لیے سرمایہ کاری کرنا زندگی کی ہر سطح پر ضروری ہے، خاص طور پر نوجوان خواتین، نو مولود بچے اور کم عمر بچوں کی زندگی بچانا انتہائی ضروری ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے سے زچہ و بچہ کی حفاظت اور نگرانی کی جائے گی جس میں شعبہ صحت کو بھی ساتھ شامل کیا جائے گا۔

منصوبے میں اس پر بھی توجہ دی جائے گی کہ جوان لڑکیوں کی صحت اور خوراک کی اہمیت سے متعلق آگاہی پھیلائی جائے گی کیونکہ حکومتی سطح پر پالیسی ساز ادارے سکولوں اور کیمونٹی کی سطح پرلڑکیوں کی صحت پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

منصوبے کے تحت مختلف حکمت عملی اپنا کر بچوں اور خواتین کی اموات کو تیس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد تک لانے میں مدد ملے گی۔

آغا خان یونیورسٹی کی سنٹر آف ایکسی لینس ان ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ 2015ء میں عالمی سطح پر 5 سال سے کم عمر 60 لاکھ بچوں کی اموات ہوئی ہیں جبکہ 3 لاکھ خواتین دوران زچگی موت کا شکار ہوئی ہیں۔

کیونکہ یہ اموات ہماری لاپرواہی کی وجہ سے ہوتی ہیں اس لیے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

لیکن پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں ایک سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہیلتھ کیئر اور ہیلتھ نالج کو کیسے عام کیا جائے؟

آغا خان یونیورسٹی آئندہ دس سالوں میں 85 ملین امریکی ڈالرز اس منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے جس کا مقصد ان اموات پر قابو پانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *