پاکستان میں نیا آڈیو کلچراور ایف ایم ریڈیو

    March 4, 2018 12:37 pm PST
taleemizavia single page

محمد عاطف شیخ

پاکستان میں مارچ دو ہزار دو میں پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا قیام ہوا۔ اس دوران ایف ایم ریڈیو کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ ابتداء میں ایف ایم ریڈیو سننے کی سہولت ملک کے صرف تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں دستیاب تھی جسے ملک بھر میں پھیلانے کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو کافی حد تک پیمرا نے پورا کیا۔

پیمرا نے اپنے آغاز کے پہلے سال کے دوران 22 پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے لائسنس جاری کئے۔ اور یوں ملک بھر میں ایف ایم ریڈیو کی نشریات پھیلتی گئیں۔ اس وقت ملک میں 239 ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں جبکہ میڈیم ویو اسٹیشنز کی تعداد 22 ہے یعنی اس وقت پاکستان کے 91.57 فیصد ریڈیو اسٹیشنز ایف ایم کے ہیں۔ جن میں 49 ایف ایم اسٹیشنز ریڈیو پاکستان کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں 142 کمرشل ایف ایم لائسنسز کا اجراء پیمرا کر چکا ہے۔ اور 45 لائسنسزمختلف اداروں کو جاری نان کمرشل ایف ایم کی کیٹگری میں جاری کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ریڈیو چائنہ انٹرنیشنل کے 3 ایف ایم اسٹیشنز بھی ملک میں کام کر رہے ہیں۔

یوں وطنِ عزیز میں کام کرنے والے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کا 59 فیصد نجی شعبہ میں متحرک ہے۔ اور21 فیصد ریڈیو اسٹیشنز سرکاری حیثیت میں آن ائیر ہیں۔ جبکہ 19 فیصد ادارتی سرپرستی میں بطور نان کمرشل ایف ایمزکی صورت میںکام کر رہے ہیں۔

ملک میں موجود ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا سب سے زیادہ تناسب اس وقت صوبہ پنجاب میں موجود ہے جہاں پاکستان کے 44 فیصد ایف ایمز کی تنصیب ہو چکی ہے۔

اس کے بعد سندھ ہے جہاں یہ تناسب 25 فیصد ہے۔ تیسرے نمبر پر خیبر پختونخوا اور اسلام آباد ہیں جہاں ملکی ایف ایمز کا 10 فیصد فی کس موجود ہیں۔ 5 فیصد کے ساتھ بلوچستان چوتھے، 4 فیصد کے ساتھ آزاد جموں کشمیر پانچویں اور 2فیصد تناسب کے ساتھ گلگت بلتستان چھٹے نمبر پر ہے۔

اس وقت ملک کے تقریباً 94 چھوٹے بڑے شہروں میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں۔ پنجاب کے 47 شہروں میں اس وقت ایف ایم موجود ہیں جبکہ سندھ کے 23 اور خیبر پختونخوا کے11 شہر ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے حامل ہیں۔

بلوچستان کے 6، آزاد جموں کشمیر کے 4 اور گلگت بلتستان کے2 شہر ایف ایم ریڈیو اسٹیشن رکھتے ہیں۔ اسلام آباد سب سے زیادہ ایف ایمز کی تعداد کے ساتھ سر فہرست ہے جہاں 23 ریڈیو اسٹیشنزسرکاری، نجی اور ادارتی حیثیت میں موجود ہیں۔ 21 کی تعداد کے ساتھ کراچی اور لاہور دوسرے نمبر پر ہیں۔ جبکہ فیصل آباد 10 ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

نجی کمرشل ایف ایم کی سب سے زیادہ تعداد اس وقت کراچی میں موجود ہے جہاں10 ایسے اسٹیشنز کام کر رہے ہیں۔ اسلام آباد اور لاہور میں سات، سات کمرشل ایف ایم فعال ہیں جس کے باعث یہ دونوں شہردوسرے نمبر پر ہیں۔ تعلیمی اور تربیتی مقاصد کے لئے جاری نان کمرشل ایف ایم لائسنسز کی سب سے زیادہ تعداد اسلام آباد میں ہے جہاں ایسے 12 ریڈیو اسٹیشنز کے لائسنس موجود ہیں۔ جب کہ 9 کی تعداد کے ساتھ لاہور دوسرے اور 6 کے ساتھ کراچی تیسر ے نمبر پر ہے۔

ریڈیو پاکستان کے سب سے زیادہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز اس وقت کراچی اور لاہور میںمتحرک ہیں جن کی تعداد چار، چار ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کی موجودہ دستیاب صورت صرف جامعات میں موجود نان کمرشل ایف ایم کے طور پر ملتی ہے۔جس کا آغاز 17 جنوری2004 ء کو پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے تحت قائم ہونے والے کیمپس ریڈیو سے ہوا۔

اور اس وقت ملک کی 26 جامعات اور کالجز میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کام کر رہے ہیں۔جو ملک کی ریڈیو صنعت کو تربیت یافتہ افرادی قوت مہیا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

روایتی طور پر یہ استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ ایف ایم انقلاب میں ٹیکنالوجی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے اخراجات کو کافی کم کر دیا ہے۔

اب ایک متحرک اور فعال ایف ایم ریڈیو اسٹیشن15 ہزار ڈالر تک کے بجٹ کے ساتھ بنایا جا سکتا ہے۔ جو کہ50 کلو میٹر کے علاقہ میں سنائی دے سکتا ہے۔ یہ اخراجات 1980 کے عشرے کے مقابلے میں پانچ گنا کم ہیں۔

اب کم طاقت یعنی چند والٹ کا ٹرانسمیٹر جو کہ ایک گاؤں کو اپنے دائرہ کار میں لے سکتا ہے صرف 800 ڈالر سے بھی کم مالیت میں بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرانسمیٹر اور ٹرانسمیشن کی کم قیمت، ایک مخصوص جغرافیائی علاقہ تک پہنچ اور کم قیمت ٹرانسسٹر اور ریڈیو سننے کے دیگر ذرائع نے ایف ایم ریڈیو کو تو غریب آدمی کی پہنچ میں کر دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے ایسے انفرادیوں اور گروہوں کی دسترس میں بھی کردیا ہے جو اس کا غیر قانونی استعمال اشتعال انگیزی اور نفرت کے پھیلاؤ کے لئے کرتے ہیں۔

پیمرا نے دیگر حکومتی اداروں کے تعاون سے اب تک ملک بھر میں 180 سے زائد ایسے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو بند کیا ہے۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکشن یونین کی رپورٹ ’’ ڈبلیو ایس آئی ایس ٹارگٹس ریویو اچیومنٹس چیلنجز اینڈ دی وے فارورڈ ‘‘ کے مطابق’’ عالمی سطح پر گھروں میں ریڈیو سیٹس کی موجودگی میں کمی واقع ہو رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نئے ابلاغی ذرائع کا پھیلاؤ ہے‘‘۔

اور ان نئے ابلاغی ذرائع میں موبائل فون سر فہرست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کی تائید پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2012-13 کے یہ اعداد وشمار بھی کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق اُس وقت ملک کے87 فیصد گھرانوں کے پاس موبائل سیٹس موجود تھے۔

دیہات میں موبائل فون کے حامل گھرانوں کا تناسب83 فیصد اور شہروں میں 95 فیصد تھا۔ جبکہ جون 2016 ء میں گیلپ پاکستان کے گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن کے لئے کئے جانے والے سروے کے مطابق 67 فیصد پاکستانیوں نے ذاتی ملکیت میں موبائل فون ہونے کا اقرار کیا۔

اسی طرح ریڈیو سیٹس کی موجودگی کے بارے میں گیلپ پاکستان کے پاکستان آئی سی ٹی انڈیکیٹر سروے 2014 ء کے اعدادوشمار یہ بتاتے ہیںکہ اُس وقت پاکستان کے صرف27 فیصد گھرانوں کے پاس ریڈیو سیٹ تھے۔

اس حوالے سے اگر صوبائی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جو تصویر ابھرتی ہے اُس کے مطابق پورے ملک میں پنجاب کے گھروں میں سب سے کم ریڈیو سیٹ موجود تھے اور صوبے کے صرف16 فیصد گھرانوں میں یہ سہولت موجود تھی۔ جبکہ سب سے زیادہ ریڈیو سیٹ کے حامل گھرانوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا جہاں 47 فیصد گھرانوں کے پاس ریڈیو سیٹس تھے۔ سندھ کے 28 فیصد اور بلوچستان کے 37 فیصد گھر ریڈیو کی ملکیت رکھتے تھے۔

جبکہ ملک کے29 فیصد دیہی اور 23 فیصد شہری گھرانے ریڈیو سیٹ کے حامل تھے۔اس سے قبل 2006-07 ء کے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق اُس وقت ملک کے31.7 فیصد گھروںمیں ریڈیو سیٹ موجود تھے۔

نومبر 2016 ء میں پیمرا کی جانب سے فیز 9 کے تحت مزید 67 نئے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کے لائسنسز کے اجراء کے لئے بولیوں کا انعقاد مستقبل کے اُس منظر نامہ کی ایک جھلک ہے جس میں ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک ریڈیو اسٹیشن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ تمام عمل اُس وقت ہی با ثمر ہو سکے گا جب حکومتی ترجیحات میں ریڈیو کو اُتنی ہی اہمیت حاصل ہو جتنی دیگر ابلاغی ذرائع کو حاصل ہے۔ 1995 میں فقط چار ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں سے ملک میںایف ایم نشریات کے جس پودے کا بیج بویا گیا تھا وہ آج 239 سرکاری اور پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی صورت میں ایک تناور درخت بن چکا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *