ٹاپ کالجوں کے فیل طلبہ کی فیکٹ فائنڈنگ کیلئے جوابی کاپیاں طلب

  • December 22, 2017 12:20 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

صوبائی حکومت کی جانب سےاعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے میٹرک میں اے ون اور اے گریڈ کے حامل ٹاپ کالجوں کے طلبہ کو فیل کرنے اور کم نمبر دیے جانے کے معاملے پر بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے بدھ سے اپنے کام آغاز کردیا ہے۔

جامعہ این ای ڈی میں کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس میں جامعہ کراچی کے سابق ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ارشد اعظمی، این ای ڈی یونیورسٹی کے ناظم امتحانات پروفیسر ڈاکٹر ناصرالدین شیخ اور ڈائو یونیورسٹی کے ناظم امتحانات ڈاکٹر امان اللہ منگی نے شرکت کی اجلاس میں طے کیا گیا کہ کمیٹی جمعرات 21 دسمبر کو اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کا دورہ کے گی جہاں وہ قائم مقام ناظم امتحانات انٹربورڈ اور دیگر عملے سے ملاقات کرے گی۔

جب کہ ٹاپ کالجوں کے پرنسپلز اور متاثرہ طلبہ سے بھی ملاقات کی جائے گی ا ور امتحانی کاپیاں تحویل میں لے کر ان کی ازسر نو ماہر اساتذہ سے جانچ کرائی جائے گی اور دیگر ثبوت بھی اکھٹے کیئے جائیں گے، واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے خراب نتائج اور طلبہ کو فیل کرنے کے معاملے پر بورڈ کے چیرمین کی جانب سے قائم کمیٹی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے نتائج کی اسکروٹنی اور تحقیقات کے لئے جامعات کے کنٹرولرز پر مبنی ایک اعلیٰ سطح کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی ۔

جو 20روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری بورڈز و جامعات محمد حسین سید کے جاری کردی نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی کے نتائج کے حوالے سے شکایات پر تحقیقات کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی طلبہ کی جوابی کاپی میں موجود جوابات پر دیئے گئے کم نمبروں کے حوالے سے بورڈ کو ملنے والی شکایات کا جائزہ لے گی اور شکایت جائز ہونے کی صورت میں اس کی نشاندہی کرے گی۔

کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ کاپیوں کی جانچ کے دوران ایگزامینر کے علاوہ اس عمل میں کوئی غیرمتعلقہ افراد تو شامل نہیں ہوئے جب کہ جن ایگزامینر کی جانب سے کاپیوں کی جانچ کی گئی ہے وہ آیا کہ وہ اس کے اہل بھی تھے یا نہیں اس کے علاوہ کمیٹی ’’ایگزامینر‘‘ کی جانب سے کی گئی کاپیوں کی ’’جانچ‘‘ کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے گی اور اس میں موجود خامیوں یا تضادات کی بھی نشاندہی کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اس امر کا بھی جائزہ لے گی کہ مبینہ طور پر ممتحن کی جانب سے گھروں پر کی گئی امتحانی کاپیوں کی جانچ بورڈ کے قوانین اور پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں، اگر ایسا ہے تو اس کے نتائج پر کیا اثرات مرتب ہوئے، ساتھ ہی ساتھ مزید براں تیار کئے گئے نتائج میں تو کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کمیٹی اس معاملے میں کسی بورڈ کے ملازم یا ٹیچر کے ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کرے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.