الف اعلان کا تعلیمی سروے: اچھی ملازمت کسے اور کیوں ملتی ہے؟

    September 29, 2016 10:03 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد

ہماراتعلیمی نظام امیر اور غریب کے درمیان تفریق کو نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہےبلکہ اس تفریق میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔

پاکستان کو اس وقت تک اپنے روشن مستقبل کا یقین کیسے ہوسکتا ہےجب تک ملک کے سرکاری اسکول اپنےطلباء کی معاشی اور سماجی خوشحالی کے مواقع پیدا نہیں کرتے ؟

یہ وہ سوال ہے جوسوسائٹی فار دی ایڈوانسمنٹ آف ایجوکیشن اور الف اعلان کی طرف سے ایک نئی رپورٹ ،بہتر ملازمتیں کن لوگوں کو ملتی ہیں؟، کی تقریبِ رونمائی کے دوران زیرِ بحث لایا گیا۔

یہ رپورٹ اس سروے کے نتائج پر مشتمل ہے جو اسکولوں کی اقسام اور ملازمت کے مواقعوں کے درمیان تعلق کو جاننے کے لئے کیا گیا۔

اس رپورٹ میں اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کے 103 اداروں کے 828 درمیانے اور سینئر مینجمنٹ لیول کے ملازمین کی ابتدائی تنخواہ کا موازنہ ان اسکولوں کی بنیاد پر کیا گیا جہاں سے ان ملازمین نے تعلیم حاصل کی۔

اس موازنے کے نتائج ہمارےمعاشرے میں پائی جانے والی روایتی سوچ کے عکاس ہیں۔ اسکولوں کی مختلف اقسام ملازمین کی ابتدائی تنخواہوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

یہ رپورٹ پاکستان میں قائم اسکولوں کی پانچ مختلف اقسام کا جائزہ لیتی ہے جن میں نچلے درجے کے سرکاری اسکول، اعلٰی درجے کے سرکاری اسکول، نچلے درجے کے پرائیویٹ اسکول، درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسکول اور اعلٰی درجے کے پرائیویٹ اسکول شامل ہیں۔

اعلٰی درجے کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ملازمین کو نچلے درجے کے سرکاری اور/یا نچلے درجے کے پرائیویٹ اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ملازمین پر معاشی لحاظ سے بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے۔

وہ ملازمین جنہوں نے اعلٰی درجے کے پرائیویٹ)یا ایلیٹ( اسکولوں سے تعلیم حاصل کی ان کی اوسط ابتدائی تنخواہ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ملازمین سےدو گنا زیادہ ہے۔ سال 2000 سے 2010 کے درمیان ابتدائی تنخواہ کے اس فرق میں خا طر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ابتدائی تنخواہ پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں او/اے لیول یا میٹرک/ انٹرمیڈیٹ کرنا بھی شامل ہے۔’او’ اور ‘اے’ لیول کرنے والے ملازمین میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کرنے والے ملازمین سے دوگنا زیادہ ابتدائی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔

اسی طرح ، انگریزی زبان سے واقفیت بھی اچھی تنخواہ والی ملازمت ملنے کا باعث بنتی ہے۔ اعلٰی درجے کے پرائیویٹ اسکول اپنے طلباء کی انگریزی زبان سے بہتر واقفیت کو یقینی بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہتر ملازمت اور زیادہ ابتدائی تنخواہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

اعلٰی درجے کے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والےبچوں کو گھر میں بہتر معاونت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہتر ملازمت اور زیادہ ابتدائی تنخواہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ سروے گھر میں ملنے والی معاونت اور اسکول میں حاصل ہونے والی رہنمائی کے معاشی صورتحال پر مثبت اثرات کی یقین دہانی بھی کرواتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین کی متفقہ رائے کے مطابق ریاست کومعیارِ تعلیم کا ایک بنیادی پیمانہ مقرر کرنا چاہیے اور اسکولوں کی اقسام سے قطع نظر تمام اسکولوں پر اس پیمانے کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

معیار ِتعلیم کو جانچنے کا کم سے کم پیمانہ مقرر کیا جانا چاہیے اور سرکاری وسائل مختص کرتے وقت پہلی ترجیح نچلے درجے کے سرکاری اسکول ہونے چاہیں۔

پاکستان کے سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسکولوں میں معیارِ تدریس اور سیکھنے کے معیار میں بہتری کو یقینی بنانے کے لئے امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

اس سروے میں بنک، انشورنس کمپنیاں،انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام، میڈیا اینڈ ایڈورٹائزنگ،ٹیکسٹائل، فرٹیلائزرز،سمینٹ، فارماسیوٹیکل،آٹو موبائلز، کے شعبوں کے 828 افراد کے انٹرویوز کیے گئے ہیں۔

سروے میں اسلام آباد کی 29 کمپنیوں،لاہور کی 41 اور کراچی کی 33 کمپنیوں کے ملازمین کو شامل کیا گیا ہے جس میں 702 مرد اور 126 خواتین کے انٹرویوز کیے گئے ہیں۔

یہ رپورٹ محمد اظہر،فیصل باری،عبد السمیع خان،منہاج الحق،عباس راشد اور زوہیر زیدی نے مرتب کی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *