کیا تعلیم “فارمیشن” کا نام ہے؟

    January 21, 2017 9:39 pm PST
taleemizavia single page

ارشد محمود

ہمارے تعلیمی اداروں کی دیواروں پر بڑے جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے، ایجوکیشن از فارمیشن ناٹ انفارمیشن۔ پتہ نہیں یہ نعرہ کس کی ایجاد ہے لیکن اس قول کی دانش سے ہمارے اساتذہ، تعلیمی ماہرین بے حد متاثر نظر آتے ہیں لگتا ہے ہمارے تعلیمی فلسفے کی اساس اسی قول میں مضمر ہے۔

نعرے یوں ہی مقبول نہیں ہوتے ان سے قوموں کی اجتماعی نفسیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس نعرے کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہےہ کہ تعلیم معلومات حاصل کرنے کا نہیں، مخصوص قالب مین ڈھلنے کا نام ہے۔ اگر یہ نعرہ ہم نے مغرب سے مستعار لیا ہے تو ہم نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کم ازکم مغربی اقوام نے اس نعرے کو کبھی اپنی تعلیم کی بنیاد نہیں بنایا۔

اب یہ نعرہ واضح کرتا ہے کہ اس کی وساطت سے خاص قسم کے ذہن اور فکر کو پیدا کرنا مقصود ہے۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم کے بنیادی مقصد سے ہٹ کر ریاست کی توجہ محض خواندگی رہ جاتی ہے۔ ہماری قوم کے پڑھے لکھے افراد میں تعلیم یافتہ ہونے والی بات نظر نہیں آتی، وہ اپنے رویہ، مزاج اور فکر میں ناخواندہ لوگوں سے مختلف نہیں ہو پاتے تو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انہیں صرف خواندہ ہی بنایا گیا ہوتا ہے۔

جدید تعلیمی نظریات میں تعلیم کا مطلب “علم دینا” نہیں بلکہ فرد کو علم کے “پراسیس” میں ڈالنا ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اس کا مطلب فارمیشن (تشکیل شخصیت) کیا جائے۔ جب تعلیم کو فارمیشن کی سطح پر لے آئیں گے تو نہ صرف پوری فلاسفی تبدیل ہوجائے گی بلکہ نصاب، تعلیمی منتظمین اور اساتذہ کا سارا کردار علم پروری کی بجائے انڈاکٹرائن شپ یا دوسرے لفظوں میں برین واشنگ ہوجائے گا۔ ریاست کے سامنے پہلا سوال یہ ہوگا کہ کیا پڑھایا جائے اور کیا نہ پڑھایا جائے؟

گویا علم کے پراسیس کا آغاز ہونے سے پہلے ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ علم معروضی چیز کا نام ہے اور اسے آزاد فضاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ سچائی کو جاننے کے لیے پہلے سے شرائط نہیں باندھی جاسکتیں۔ اگر اسے مخصوص فکری سمت دیں گے تو پھر وہ علم نہیں ہوگا، عقائد کا مجموعہ ہوگا۔ علم اُس وقت تک وجود میں نہیں آتا جب تک وہ ٹھوس حقائق، دلائل تنقید اور تجربے کی کسوٹی پر پورا نہ اُترے۔ علم کے برعکس وہ اندھا ایمان رہ جائے گا۔

علم اپنے عمل میں ایک جمہوری اور سیکولر فعل ہوتا ہے۔ آمریت اور تقدیس اسے مسخ کرتی ہے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ علم اور سائنس کو انہی قوموں نے پایا ہے جو اپنی فطرت میں جمہوری اور سیکولر ہو گئیں۔ تحصیل علم کا مطلب ہی یہ ہے کہ ابھی آپ نے جاننے کا عمل شروع کرنا ہے۔ علم ذہنوں کو آزاد کرتا ہے، جامد اور پہلے سے بھرے ہوئے ذہن علم کو نہیں پا سکتے۔

یہ پڑھیں؛ مطالعہ پاکستان کا المیہ

ہمارا تعلیمی نصاب حقائق کی سائنس یعنی معروضیت کی بجائے جذبات سے مرتب کیا جاتا ہے چنانچہ تعلیمی ادارے ایسے گھسے پٹے سانچے ہیں جن سے وہ افراد نکلتے ہیں جو خواندہ تو ہیں لیکن تخلیقی صلاحیتوں سے خالی ہوتے ہیں۔ جدید دور کے نظریات میں اب اُستاد کو “علم دینے والا” سمجھے اور طالب علم پر ماسٹر بن جائے تو تعلیم کے ماحول میں سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

فارمیشن کے نظریہ کی مقبولیت کی وجہ ہمارے معاشرے میں آمرانہ اور فیوڈل مزاج کی پختگی کی دلیل ہے جس میں طاقتور کمزور کو “ٹھیک” کرتا ہے۔ ریاست شہریوں کو، حکمران عوام کو، باپ اولاد کو، مرد عورت کو، اساتذہ طلباء کو۔ چنانچہ اس سے اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا تحفظ اور اسٹیٹس کو قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہماری ریاست اور سماج پر فوجی غلبے کے سیاسی وسماجی اثرات بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔

ہمارے یہاں تعلیم کا مقصد عوام کو نام نہاد محب وطن اور اچھا مسلمان بنانا ہے جبکہ علم سچائی اور روشنی کا نام ہے۔ اگر پاکستان کے عوام کو مصنوعی طور پر محب وطن بنانے کی کوشش نہ کی جاتی تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔ تعلیم کو فارمیشن کا ذریعہ سمجھنے والے دُنیا میں آج تک تین گروپ شامل رہے ہیں؛

مذہبی تعلیم دینے والے، فاشزم یا نازی ازم پر یقین رکھنے والے، کیمونسٹ معاشرے۔

درج بالا تعلیمی نظام میں یہ سوچ کر تعلیم دی جاتی کہ حصول علم کے بعد کس طرح کے افکار ہونا چاہیے اور تعلیم کو ایک ہی دائرے میں جامد کر دیا جاتا ہے۔ جب فارمیشن کا نظریہ پیش نظر ہو تو پھر علم کی تحصیل کے لیے کچھ اقدار اور نظریات متعین کر لیے جاتے ہیں۔

جانیئے؛ بریڈ لاء ہال انقلابی تحریکوں سے نیشنل کالج لاہور تک

تعلیم کا عمل کسی نظریاتی ایجنڈے کے بغیر شروع کرنا چاہیے یہی سائنسی رویہ ہے۔ ہم علم لینے چلے ہیں، جاننے چلے ہیں اب جو بھی سامنے آئے اس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔ علم کو خود ساختہ کریں گے، اسے اپنے مطلب ، مرضی، مفادات اور تعصبات کے مطابق ڈھالیں گے تو وہ علم نہیں رہے گا اور ہمیں اس بات پر بھروسہ ہونا چاہیے کہ علم یعنی معروضی صداقت کو پا لینے کے بعد انسان پہلے سے زیادہ خوبصورت بنے گا۔

فارمیشن کا نظریہ تخلیقیت کی موت ہے، یہ صرف کاپی بنانا سیکھاتا ہے ہماری ذہنی اور قلبی تشکیل کا جو کام علم نے کرنا ہوتا ہے وہ کام ہم اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور پھر علم کو اپنے قومی، علاقائی اور گروہی تعصب کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ تعلیمی عمل محض رٹے کا نام رہ جاتا ہے وہ سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے کہ تجربہ کرنے اور نتائج خود اخذ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جو علم جستجو پیدا نہیں ہونے دیتا وہ علم نہیں، علم تو خود عمل پر اُبھارتا ہے۔ ہمارے طالبعلم پر سوال، بحث اور دلیلوں میں اُلجھنے پر پاپندی ہے۔ طالبعلم کو اخلاقیات، تقدیس اور وطنیت کے نام پر جس طرح کے بھی متعصب اور غیر سائنسی نظریات پڑھائے جاتے ہیں اس سے ہم جدید علوم کی ترویج نہیں کرسکتے۔ اس طرح کا تعلیمی نظام مدبر اور سائنسدان پیدا نہیں کر سکتا اور ایسی بوسیدہ تہذیب تشکیل پذیر ہورہی ہے جسے محض کندھوں پر اُٹھائے پھرتے ہیں جس کے تخلیقی سوتے خشک ہوتے جارہے ہیں۔

ہمیں فارمیشن کے نظریہ کو ترک کرنا ہوگا اور اپنے تعلیمی ڈھانچے کی تشکیل میں اسے مسترد کرنا ہوگا اسی میں ہی ہماری بقاء ہے۔


arshad-mehmood

ارشد محمود لبرل خیالات رکھتے ہیں اُنہوں نے تعلیم اور ہماری قومی اُلجھنیں کے نام سے کتاب لکھی جسے بے حد پذیرائی ملی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *